حصول علم کے بغیر کامیابی ممکن نہیں
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 28 / فروری / 2018
- 3896
انسانی ترقی میں اس کے ذہن و دل کی زرخیزی کابہت عمل دخل ہے ۔ یہ زرخیزی قدرت مخصوص لوگوں کوہی عنایت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند لوگ یا مخصوص لوگ ہی دنیا کے کینوس پر اپنے آپ کو منور کرواسکے اور ایسے راستے نکالے جن پر آج تک دنیا گامزن ہے۔ علم کا حصول ہی دنیا اور آخرت میں آسانی کا باعث بنا ہے اور آسان اور صحیح راہیں چنے میں مددگار ثابت ہوا ہے ۔
پہلے علم سفر کرنے سے حاصل ہوتا تھا، علم بیٹھکوں میں بٹتا تھا، علم بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار میں تھا۔ علم سردیوں کی دھوپ اورنیم کے درخت کی چھاؤں میں تھا، علم پریشانی و پشیمانی میں تھا، علم بارش کی بوندوں اور مٹی کی خوشبو میں تھا۔ بس یوں سمجھ لیجئے علم والوں کیلئے ان کی زندگی کے ہر گزرتے لمحے میں علم ہی علم تھا۔ چلتے جاتے تھے اور ہر ہر قدم سے علم سیکھتے جاتے تھے۔ محد سے لحد تک کا تمام سفر علم کے حصول کیلئے ہوتا تھا۔ باقی تمام امور زندگی کی اہمیت واجبی ہوا کرتی تھی۔ زندگی کی اہمیت مسلم تھی۔ اب جبکہ علم کی اہمیت سوائے دنیا کمانے کے اور کچھ بھی نہیں رہی تو زندگی بھی اپنی اہمیت کھوچکی ہے۔
مصطفی کمال محمود حسین المعروف مصطفی محمود مصرسے تعلق رکھنے والی ایک نامی گرامی شخصیت ہیں۔ علم کے فروغ کیلئے ان کی گرانقدر خدمات ہیں۔ فی الحال ان سے اتنا ہی تعارف کروانا تھا۔ ان کی ایک انتہائی مختصر مگر پر اثر تحریر اپنے معززقارئین کی نظر کرنی ہے جوکہ یہ ہے اگر مومن اور کافر سمند ر میں اتر جائیں تو صرف وہی بچے گا جسے تیرنا آتا ہوگا۔ خدا جاہلوں کی طرفداری نہیں کرتا۔ چنانچہ جاہل مسلمان ڈوب جائے گا اور کافر عالم جیت جائے گا۔ اسلام کی تو بنیاد ہی علم سے ڈالی گئی۔ جب پیغمبر اسلام محمد مصطفی ﷺ پر جبرائیل امین پہلی وحی لے کر آئے اور فرمایا کہ اقرا یعنی پڑھ ، یہ اسلام کی ابتدا تھی یا دنیا میں علم کی روشنی کے چراغوں کے جلنے کی ابتدا تھی یا پھر دونوں کی۔ اسلام نے انسانیت کیلئے راستہ متعین کردیا یعنی جو علم حاصل کرے گا فلاح اس کے لئے ہے ۔ اسلام نے اپنا نافذ کردہ ہر فیصلہ ہر طرح سے ثابت کیا ہے۔
اسلام کے ظہور سے لے کر خلافت کے خاتمے تک مسلمانوں نے دنیا کو نہ صرف نظم و ضبط سکھایا بلکہ علم کی اہمیت و افادیت سے بھی روشناس کروایا۔ دنیا کو سمجھ آگئی کہ علم کی دولت سے مالا مال ہوکر ہی زمین میں پوشیدہ خزانوں تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور دنیا پر حکمرانی کیسے کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں کو تیار شدہ (ریڈی میڈ) کا عادی بنا دیا گیا۔ ہر چیز بنی بنائی فراہم کی جانے لگی اور آسائشوں کے جال میں پھنستے چلے گئے۔ ایسی ہی وجوہات کی بدولت علم سے دور ہوتے چلے گئے اور جو کوئی علم حاصل کر بھی رہا تھا اس کا خالص مقصد دنیا کمانا تھا۔ مسلمان زبوں حالی کا شکار ہونا شروع ہوئے۔ دنیا نے اپنے وہ تمام مقاصد آج بہت خوبی اور آسانی سے حاصل کرلئے ہیں جس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ یہ امجھ لیا گیا کہ علم کے بغیر زندگی نامکمل ہے۔ مغرب نے تعلیم کے حصول کیلئے ایسے ایسے تعلیمی ادارے بنائے جہاں ساری دنیا سے لوگ پڑھنے آتے ہیں اور کتنے اس حسرت کو دل میں ہی رکھ کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت سے عاری مسلمان اپنی تاریخ پر نازاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اکیسویں صدی میں داخل ہوگئے ہیں۔
اب ہم اپنے ملکِ خداد پاکستان کی کچھ بات کرلیتے ہیں جہاں تعلیمی اداروں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ جی ہاں مجھے کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے کہ تعلیم بھی کسی پرچون کی دکان میں رکھی ہوئی روزمرہ کی استعمال میں رکھی ہوئی چیز کی طرح ہی دی جا رہی ہے ۔ ہمارے مزاج کے عین مطابق جتنا مہنگا تعلیمی ادارہ ہوگا اتنا ہی اچھا جانا جائے گا۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ ادارہ تعلیم بھی دے رہا ہے یانہیں۔ یا صرف دنیا دکھاوے میں ہی اپنی اور اپے ادارے میں آنے والے بچوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ سب تو اس ملک کے اس طبقے کیلئے ہے جو یہ سب برداشت کر سکتا ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں میں تو زمانے ہوئے تعلیم اٹھ چکی ہے۔ اب تو صرف وہاں پر کام کرنے والا عملہ سرکاری مراعات کی آس و پیاس میں اپنا وقت گزارنے چلا آتا ہے۔ ان بچوں کیلئے کوچنگ سینٹرز والوں نے اپنا جال بچھایا ہوا ہے۔ ہر طرف کاروبار ہی کاروبار ہے۔
اسلام کو ماننے والے اور اسلام کے نفاذ کیلئے کام کرنے والوں کیلئے سب سے ضروری بات یہی ہے کہ علم کی رغبت عام کریں علم سے محبت کا درس عام کریں اور علم کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیوں کہ یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ اللہ جاہلوں کی طرف داری نہیں کرتا۔