ذمہ دارانہ صحافت اور صحافتی تقاضوں کی نئی بحث
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 01 / مارچ / 2018
- 6407
بھارت کی معروف دانشور اور انسانی حقوق کی اہم راہنما ارن دتی رائے عالمی سطح پر کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ وہ دنیا میں تیزی سے ابھرنے والے میڈیا اور بالخصوص تیسری دنیا کے میڈیا کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’’ بحرانو ں میں چلنے والے میڈیا کو اپنی سیاسی بقا کے لیے بحران ہی درکار ہوتے ہیں۔ ان کے بقول بحران اگر نہیں بھی ہوگا تو بحرانوں کو جان بوجھ کر پیدا کرنا میڈیا کی مجبوری بن گیا ہے ۔ یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ہمارے جیسے ملکوں میں اب مجموعی طور پر میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا میں بحرانوں پر مبنی سیاست کا غلبہ ہے ۔
مجموی طور پر یہ عمل کافی شدت سے دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہمارے میڈیا میں مثبت کہانیوں ، کرداروں ، تجزیوں ، افراد اور امور جو ہمیں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیتے ہیں ، کے لیے جگہ کافی سکڑ گئی ہے ۔ اس کے مقابلے میں منفی سرگرمیوں پر مبنی گفتگو اور مواد کو بالادستی حاصل ہوگئی ہے ۔ بظاہر اگر آپ میڈیا کا جائز ہ لیں تو لگتا ہے کہ یہ ملک بس برباد ہوگیا ہے یا برباد ہونے والا ہے ۔ علمی اور فکری محاذ پربہت سے تحقیقی مقالے پڑھیں تو ہمیں لوگوں کی جانب سے یہ رائے ملتی ہے کہ وہ بحرانوں پر مبنی سیاست کے مسائل کی وجہ سے میڈیا سے لاتعلق ہوتے جارہے ہیں جو توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ بہت سے ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں تو اس میں علمی اور فکری معاملات کو بنیاد بنا کر جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی اصلاح طلب ہے ۔ کیونکہ الیکٹرانک میڈیا میں بدقسمتی سے ریٹنگ پر مبنی سیاست نے ہمارے کرنٹ افیرز کو محاز آرائی ، ہنگامہ آرائی ، الزام تراشی اور ذاتیات پر مبنی سیاست کے گرد کھڑا کردیا ہے ۔ اس پوری بحث میں معاشرے کے حقیقی مسائل پیچھے چلے گئے ہیں ۔ لوگوں کو یکجا کرنے کی بجائے تقسیم کرنے کا ایجنڈا غالب ہوگیا ہے ۔ دنیا بھر میں جب میڈیا نجی شعبہ میں آیا تو اس میں ’’ ذمہ دار میڈیا ‘‘ کی بحث کوبہت زیادہ اہمیت دی گئی اور کہا گیا کہ کمرشل ازم کے اس دور میں ذمہ داری کی بنیاد پر رائے عامہ کی بہتر طور پر راہنمائی کی جاسکتی ہے ۔
لوگوں کی اکثریت میڈیا کے مجموعی کردار سے نالاں نظر آتی ہے ۔ یہ نہیں کہ وہ اسے اہمیت نہیں دیتے لیکن ان کے خیال میں میڈیا کا حقیقی کردار کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ معروف دانشور استاد اور کئی صحافیوں کے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ جو علمی اور فکری حلقوں میں ایک نمایاں نام رکھتے ہیں ، وہ بھی حالیہ میڈیا کے کردار سے نالاں نظر آتے ہیں ۔ ان کے بقول اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا مجموعی طور پر ’’سیاسی ایکٹویزم‘‘ سے باہر نکل کر نارمل کردار میں واپس آئے کیونکہ حد سے زیادہ بڑھتے ہوئے سیاسی کردار نے میڈیا کے اصل کردار کو متاثر کیا ہے ۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں میں بے چینی ، غیر یقینی ، عدم احساس، نفسیاتی مسائل اور عدم برداشت کا جو رویہ بڑھ رہا ہے اس میں دیگر عوامل کے ساتھ خود میڈیا کا بھی کردار ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر مغیث شیخ کہتے ہیں کہ لوگ اب کرنٹ افیرز کے مقابلے میں کارٹون، مزاحیہ پروگرام ، میوزک ، فلمیں ، کھیل دیکھ رہے ہیں اور حالات حاضرہ کے لیے وہ عالمی خبروں پر انحصار کرتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان حالات کی وجوہات کیا ہیں اور ہم کیسے ان بحرانوں سے باہر نکل سکتے ہیں ۔ لیکن میڈیا کے محاذ پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگوں کی شرکت نے ایک دوسرے کے خلاف محاز آرائی اور الزام تراشی پر مبنی سیاست کو جنم دیا ہے ۔ سیاسی لوگوں کا کام اپنی جماعتوں اور قیادت کے ہر غلط کام کا دفاع کرنا رہ گیا ہے۔ یا پھر مخالفین کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ جو سیاسی تجزیے پیش کیے جاتے ہیں اس میں تجزیہ کار بھی مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوکر ان ہی کے ترجمان بن کر رہ گئے ہیں ۔ سنجیدہ نوعیت کے پروگرام ریٹنگ کی سیاست میں پس پردہ چلے گئے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا سے وابستہ ادارے اور افراد اور صحافتی تنظیمیں میڈیا پر ہونے والی تنقید اور بہتری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ ان کی آزادی کے خلاف ہے۔ حالانکہ میڈیا میں اصلاحات کی گنجائش ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہے ۔ یہ اصلاحات اصولی طور پر میڈیا کو خود احتسابی نظام کے تحت کرنی چاہئیں اور یہ ان کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اگر حکومت یا ریاست کے ادارے یہ کام کریں گے تومیڈیا کو کنٹرول کرنے کا پہلو سامنے آئے گا۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ میڈیا سے اب کافی غلطیاں ہورہی ہیں جو میڈیا کی مجموعی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں۔ صحافیوں اور اداروں کو Propogandaکے مقابلے میں سچ کو بنیاد بنا کر شواہد اور تحقیق کو ترجیح دینی چاہیے ۔ کیونکہ اب جس ڈھٹائی سے معاملات کو پیش کیا جارہا ہے ان میں حقائق سے زیادہ جذبات کو بنیاد بنا کر سچ کو پس پشت ڈالنے کا عمل زیادہ طاقت ور ہوگیا ہے۔ اس کی ایک وجہ میڈیا کی سطح پر ایڈیٹر انسٹی ٹیوشن کا فقدان ہے یا اس کو اب بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ جبکہ ایڈیٹر انسٹی ٹیوشن کو مضبوط بنائے بغیر میڈیا میں گیٹ کیپر کاکردار مضبوط نہیں ہوسکتا۔ صحافت اور سیاست میں چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اس میں صحافی کو صحافی بن کر ہی رہنا چاہیے ۔ لیکن جب وہ صحافت کو ڈھال بنا کر حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرتا ہے یا خود کو سیاست دان کے طور پر پیش کرتا ہے تو خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔ اس کھیل کو تقویت دینے میں خود ہمارا حکمران طبقہ بھی ذمہ دار ہے جو صحافت کو اپنے مفاد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرکے صحافت کو خراب کررہے ہیں ۔
صحافت ایک پروفیشنل کام ہے اور جب تک اسے اس میں دسترس رکھنے والے لوگوں کی مدد سے نہیں چلایا جائے گا تو مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ یاد رکھا جائے کہ میڈیا کا کا م جہاں معلومات کی بنیاد پر تجزیوں اور تبصروں اور علمی و فکری مباحث سے لوگوں کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے وہیں وہ مسائل کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ تمام ادارے یہاں مسئلہ کا حل بننے کی بجائے اس کے بگاڑ کا حصہ دار بن گئے ہیں ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ میڈیا کاکام معلومات دینا ہے جبکہ صرف معلومات ہی نہیں بلکہ رائے عامہ کی ذہن سازی ، کردار سازی اور اچھے برے کی تمیز یا سیاسی وسماجی شعور بھی دینا ہوتا ہے ۔ جب میڈیامیں کوئی بھی فرد کسی بھی حیثیت سے بول یا لکھ رہا ہوتا ہے یا کوئی چیز دکھارہا ہوتا ہے تو اس میں شواہد کی بنیاد پر سچ کو پیش کرنا اس کی بنیادی صحافتی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ سچ ہی میڈیا کی ساکھ کو بناتا اور جھوٹ کا عمل اسے بگاڑتاہے ۔ اس وقت جس تیزی سے الیکٹرانک ، پرنٹ ، سوشل اور متبادل میڈیا کے محاذ پر جو ترقی یا پھیلاؤ ہوا ہے اس کے بعد میڈیا میں ذمہ داری کی بحث کو میڈیا کے اندر اور باہر دونوں سطح پر باریک بینی سے سمجھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ہمیں میڈیا کی مدد سے کیسے آگے بڑھنا چاہیے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں میڈیا سے متعلق علمی یا فکری مباحث میں میڈیا لٹریسی کی بحث آگے بڑھ رہی ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارا میڈیا Over Politicized ہوگیاہے اور مجموعی طور پر سیاست کو غلبہ حاصل ہے۔ اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ سیاست کے مقابلے میں سماجی ایجنڈا کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ اس لیے میڈیا سے جڑے افراد اور ادارے اپنا خود احتسابی پرمبنی نظام کو متعارف کروائیں اور اپنی غلطیوں یا خامیوں کو تسلیم کرکے اصلاح کی طرف پیش قدمی کریں تو ملک میں جمہوری، سیاسی اور قانون کی حکمرانی کا عمل بھی آگے بڑھے گا۔ یہ کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا بلکہ تمام فریقین کو مل کر اپنا اپنا کردارادا کرنا ہوگا تاکہ ہم درست سمت میں پیش قدمی کرسکیں ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مجموعی طور پر میڈیا اور بالخصوص پرنٹ میڈیا اور اس سے وابستہ تنظیموں نے بڑی جدوجہد کے بعد میڈیا کی آزادی کو حاصل کیا ہے اور اسے کسی بھی صورت پامال نہیں ہونا چاہیے ۔