سرور غزالی کا ناول دوسری ہجرت
اردو میں ناول نسبتاَ کم لکھے گئے ہیں۔ اچھے ناول تو اور کم ہیں۔ ایسی صورت حال میں سرور غزالی کا ناول دوسری ہجرت سامنے آیا تو یہ نیک شگون ہے۔ یہ محض ناول ہی نہیں بلکہ اس زمانے کی تاریخ بھی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے زعم میں کہانی کے جزئیات کونظراندازنہیں کیا۔ اور نہ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ہے۔ یوں تلخ یادوں کے اثرات ان کے ہاں گہرے نظرآتے ہیں۔ ان کے بیانیہ میں غیر ضروری لفاظی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے زندگی کی ایسی سچائیوں کو پیش کیا ہے جو ان کی دوہری ہجرت کے تجربے کا حصہ رہیں۔
اسی کے مذکور خاندانوں کی رسم و رواج اور سوچ کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔ سرور غزالی کے تصورِ فن میں ماضی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن کسی مخصوص نظریے کی تبلیغ کا کوئی شائبہ تک نہیں ملتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے۔ اس کی فنی نزاکتوں سے بھی وہ بخوبی واقف ہیں۔ چنانچہ واقعات اور کرداروں کا تذکرہ اس ناول میں اس طرح کیا ہے کہ زندگی کے منفی اور مثبت دونوں اثرات قاری کو منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ زیرنظر ناول دوسری ہجرت کا موضوع اور پلا ٹ واضح ہے۔ کوئی الجھن اور نہ زورِ بیاں سے قاری کو مرعوب کرنے کی شعوری کوشش محسوس ہو تی ہے۔ ہجرت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر ماضی میں کئی ناول آچکے ہیں۔ البتہ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کی نوعیت کئی لحاظ سے مختلف نظر آتی ہے۔ بیشتر خاندانوں کو مجبوراَ دوہری ہجرت قبول کر نا پڑی۔ یہی مسئلہ زیرِ نظر ناول میں تخلیقی لب ولہجے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ناول نگار سرور غزالی نے اس دکھ کو دور سے بیٹھ کر نہیں محسوس کیا بلکہ ایک خاندان جس صورتحال سے گزرا انہوں سچائی سے وہی بیان کیا ہے۔ کسی موقع پر بیانیہ میں تصنع یا تاریخ کو بگاڑ نے کی شعوری کوشش نظر نہیں آتی۔ یہ مصنف کی تخلیقی سادگی ہے۔ اسی خوبی کے سبب قاری ناول کے فظری بہاؤ کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔
اس ناول میں کہانی کے واقعات کرداروں پر چھائے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے قاری اس ناول کو پڑھتا جاتا ہے۔ نئے نئے کردار سامنے آتے جاتے ہیں۔ ایسے پلاٹ پر مبنی ناول میں کرداروں کی تعداد خودبخود بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن انہیں سنبھالنا مصنف کے لیے ایک سخت آزمائش ہوتی ہے۔ سرور غزالی اس امتحان میں کامیاب نظرآتے ہیں۔ انہوں نے ہر کردار کو اس کی فطرت کے لحاظ سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول بنیادی طور پر تقسیم در تقسیم کے موضوع پر ہے۔ اس موضوع کے مضمرات مختلف نوعیت کے ہیں۔ تاہم مصنف نے اس تخلیقی عمل کو نہایت احتیاط سے برتا ہے۔ پلاٹ کردار اور واقعات فطری انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ چنانچہ کسی کردار کو ہیرو یا اہم بنانے کی کوئی شعوری کوشش نظر نہیں آتی۔ سب کچھ اپنے فطری انداز میں سامنے آتا ہے۔ البتہ پاکستان ہجرت کے بعد لوگوں کو جن مسائل کا سامنا رہا وہ فطری عمل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول میں فکشن کی چاشنی بھی موجود ہے۔ اہم کردار احمد امجد، بیگم امجد اور مظہر آسیہ ہیں۔ جو قاری کی توجہ مسلسل اپنی طرف رکھتے ہیں۔ مصنف نے واقعات کے ساتھ ساتھ کردار نگاری پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ یہ ان کے فن کی اضافی خوبی ہے۔ کردار اپنے اپنے موضوع کے لحاظ سے سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ نہ کوئی کردار مصنوعی لگتا ہے اور نہ اضافی۔ کوئی واقعہ بھی غیر فطری نظر نہیں آتا۔ ناول نگار نے واقعات اور کرداروں کی ایسی تصویر کشید کی ہے کہ قاری خود اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ مصنف کی تحریر کی فنی خوبی ہے۔ انہوں نے سابق مشرقی پاکستان میں ہونے والے ظالمانہ واقعات کو دردناک انداز میں بیان کیاہے ۔ جنہیں پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔
مکتی باہینی کی ظالمانہ اور انسانیت سوز کاروائیوں کا بیان ناول کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ تاہم بعض حلقے ان کارروائیوں کو ردِعمل کے طورپر پیش کر تے ہیں۔ میں اس ناول کی اصل کہانی منکشف نہیں کرنا چاہتا۔ قراَت ایک تجربہ ہے۔ قاری اس تجربے سے خود گزرے تاکہ اس ناول کی طلاطم خیزیوں کا نظارہ کر سکے اور اس کی فنی خوبیوں سے لظف اندوز ہو سکے۔ سرور غزالی طویل مدت سے برلن، جرمنی میں رہائش پذیر ہیں اپنی ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اردو کا ویب میگزین بھی نکالتے ہیں ۔ اس میں اصنافِ ادب کے ساتھ معلوماتِ عامہ اور وہاں کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا تفصیلی ذکر ہو تا ہے۔ یوں وہ وہاں ہمیشہ متحرک رہے۔ ان کی ایسی ہی ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کا خوشگوار نتیجہ زیرِ نظر ناول ہے۔ موضوع کے لحاظ سے یقیناً تادیر زیرِ بحث رہے گا۔
اس ناول میں مصنف کے اپنے کمنٹس کہیں نظر نہیں آتے۔ ایسے فقروں سے تحریر بوجھل ہو جاتی ہے اور جگہ جگہ قاری کو ٹھوکر لگتی ہے۔ مصنف نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے معمولی بات اور چھوٹے چھوٹے واقعات کو بھی محدب عدسے سے دیکھا ہے۔ مشاہدے کی اسی خوبی نے سرور غزالی کو بحیثیت ناول نگار اہم بنیاد دیا ہے۔ چنانچہ یہ ناول اردو میں اچھے ناولوں کی کمی پوری کرتا نظر آتا ہے۔
( طاہر نقوی کا اصل نام طاہر رضا نقوی ہے۔ آپ 1942 میں دیردھون ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا آبائی وطن بجنور تھا۔ سن 1948 میں ہجرت کرکے یہ خاندان کراچی میں آکر بسا۔ طاہر نقوی نے 1970 میں کراچی یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میں ایم اے کیا اور 1972 میں اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اسی سال سے سےآپ مختلف مختصر افسانے اور کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ سن ستر میں افکار میں چھپا۔ ان کے افسانے ، تھیٹر اور کہانیاں شمالی امریکہ، جرمنی اور انگلینڈ میں چھپنے والے رسالوں کی زینت بن چکی ہیں۔ ان کے بہت سارے کھیل ریڈیو پاکستان سے نشر ہو چکے ہیں۔ انہیں ان کی کتابوں پر آدم جی ادبی انعام
اور اسرار و افکاراکیڈمی کا ایوارڈ مل چکا ہے۔ ان کی کتابوں میں بند لبوں کی چیخ، حبس کے بعد پہلی بارش، شام کا پرندہ، دیر کبھی نہیں ہوتی اور کووں کی بستی میں ایک آدمی شامل ہیں)