مسلمانوں نے شام کے مظلوموں کو تنہا چھوڑ دیا
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 02 / مارچ / 2018
- 3989
آج دنیا میں انگنت ادارے انسانوں کو انسانیت کا درس پڑھانے میں مصروف ہیں۔ لاتعداد ادارے پاکستان جیسے ملک میں بھی اپنی ایسی ہی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس کام کیلئے عالمی ادارے جو رقم خرچ کر رہے ہیں اس کا تخمینہ لگانا بھی آسان نہیں ہے۔ مگر فکر کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود انسانیت جیسے آخری ہچکیاں لے رہی ہو۔ اگر یوں سمجھاجائے کہ یہ دنیا کو نئی طرز کی انسانیت سکھانے کی بدولت ہوتا جارہا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
انسانیت کا نیا بیج لگ نہیں رہا جس کی وجہ سے جو انسانیت باقی تھی وہ بھی چھپتی پھررہی ہے کہ اس کی عزت کو بھی پامال نہ کردیا جائے ۔ انسانیت کی بوائی کیلئے ساری زمینیں بنجر ہوچکی ہیں۔ اب یہ بنجر زمینیں ہی تو ہیں جہاں فصل تو اگتی ہے مگر غذائیت سے خالی ہے جو جسموں کی بھوک مٹانے کیلئے تو کارآمد ہے مگر روح کی غذا پوری کرنے سے قاصر ہے۔ زمین کے بنجر ہونے کی وجہ سے اگنے والی اجناس میں کسی قسم کی نہ تو غذائیت باقی بچی ہے اور نہ ہی جسم کو توانا اور طاقتور بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ بس کسان حل جوتتا جا رہا ہے اور فصلیں اگتی جارہی ہیں اور ہم سب پیٹ کو ایندھن فراہم کئے جا رہے ہیں اور منافع خور اپنا منافع بنائے جا رہے ہیں۔
مشرف نامی ایک شخص جس کا پان سگریٹ کا ایک سڑک کنارے کھوکھا ہے کل میرے پاس آیا اور اچانک ایک سوال داغ دیا کہ یہ ملک شام میں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے لہجے میں اور اس کے چہرے پر دکھ کے آثار بہت واضح تھے۔ سچ بتاؤں تو میرے لئے اس کی یہ بات اتنی اہم نہیں تھی کیونکہ میرے سامنے بیٹھے ایک شخص نے (جن کے توسط سے وہ وہاں موجود تھا) بہت مضحکہ خیز انداز میں کہنے لگے یہ تو انہی (یعنی مجھ سے) سے پوچھوی ہی کچھ بتا سکیں گے۔ مشرف کا دکھ اس کے لہجے میں آچکا تھا اور اب غصے کی صورت اختیار کر رہا تھا جس کا اظہار اس نے یہ کہہ کر کیا کہ یہ کوئی مذاق نہیں ہے جس پر ہنسا یا مسکرایا جائے۔ یہ ایک انتہائی دکھ اور غم کا مقام ہے ، آخر کون ہے جو ان شامی مسلمانوں پر شب خون مار رہا ہے اور ہماری نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ مشرف نے اپنے غم و غصے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے ایک انتہائی دردناک وڈیو سماجی میڈیا پر دیکھی ہے جس میں شام پر بھرپور بمباری کی جارہی ہے اور وہاں بچ جانے والے رہائشی اپنے عزیز و عقارب کے لاشے اور زخمی جسموں کو لے کر ادھر سے ادھر بھاگتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مشرف یہ کہہ کر وہا ں سے چلا گیا اور کچھ لمحوں کیلئے اس جگہ کو سوگوار کر گیا۔ روزانہ شام کے معصوم بچوں کی روتی بلکتی خون آلود تصویریں نظروں کے سامنے گھوم رہی ہیں۔ مگر بے روح جسم لئے ہم لوگ اپنے انگھوٹے کی مدد سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم مردہ جسموں والے ، ہم مردہ پرست لوگ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ مشرف کی آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ مجھ سمیت کروڑوں لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔ لیکن کیا ہوا ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ شام پر ہونے والے مظالم میں کسی لمحے کمی نہیں آرہی۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ہمارے میڈیا پر جو رونق لگی ہوئی ہے وہاں اول نمبر پر سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہے۔ کوئی نااہل ہو رہا اور نااہل ہونے کا ڈنکا بجا رہا ہے ، سارا میڈیا اسی بات کامحصور ہوچکا ہے۔ پھر پڑوسی ملک جس کی فوجیں روزانہ ہماری سرحدی خلاف ورزی کرتی ہیں اور معصوم دیہاتی اور فوجی جوانوں کو اپنی گولیوں کانشانہ بنارہی ہیں ، اس ملک کی ایک اداکارہ کی موت پر سارا میڈیا سوگوار ہوگیا۔ ساری قوم سوگوار ہوگئی۔ اس کی موت کی لمحہ لمحہ خبریں شائع ہونے لگیں۔ اب یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ موت طبعی ہے یا پھر قتل ہے یا پھر خود کشی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کا سب سے بڑا شوق (ہم بھی اس کا حصہ ہیں)کرکٹ ، جی دبئی و شارجہ میں منعقد کیا جانے والا پاکستان کرکٹ بورڈ کا سب سے بڑا کارنامہ PSL چل رہا ہے ۔ ساری کی ساری قوم اس کرکٹ کے میلے میں ایسی مگن ہوئی ہے کہ کچھ اور شاید دکھائی نہیں دے رہا۔ کل سے پھر ہندو برادری کا ہولی کا تہوار چل رہا ہے اور پوری پاکستانی قوم بغیر کسی تکلف کے ہولی کی مبارکباد دے کر اپنے آپ کو نہ جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہم یہ کیوں بھول گئے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں جو داغ ہمارے دامن پر لگ چکے ہیں، اب ان سے جان چھڑانا مشکل ہی نہیں کسی حد تک ناممکن ہوگیا ہے ۔ یہ کوئی مایوسی کی بات نہیں ہے۔ یہ ہمارے لئے سوچ کا مقام ہے ہم روز بروز اس بات پر پکے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جس میں کبوتر اپنی آنکھیں بند کرکے یہ سمجھتا ہے کہ بلی ہمیں نہیں دیکھ رہی ۔ بلی بہت اچھی طرح سے دیکھ رہی ہے۔
مشرف جیسے لوگ شاید بہت سارے ہوں مگر یہ وہ لوگ ہیں جو شام تک چار پیسے نہیں کمائیں گے تو ان کے گھروں میں چولہا نہیں جلے گا اس لئے ان کا غم شام سے کہیں زیادہ ہے ۔ باقی وہ لوگ ہیں جو شغل میلے میں الجھے ہوئے ہیں اور جو سماجی میڈیا پر تبصرے کرکے سمجھ رہے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی ہے۔ یہ لوگ عملی زندگی میں اپنے برتاؤ سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ شام میں ہونے والے مظالم سے ہمیں کیا لینا۔ سماجی میڈیا زینب کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے ، مشال خان کے معاملے میں ایک لمحے کیلئے پیچھے نہیں ہٹتا ، انتظار حسین کو بھی انصاف دلانا چاہتا ہے مگر یہ سماجی میڈیا امت پر آنے والے کڑے وقت سے نمٹنے کیلئے ایک آواز کیوں نہیں ہوسکتا۔ جس طرف دیکھتا ہوں مجھے کیوں لگتا ہے کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمیں شام سے کیا لینا دینا ہے۔
انسانیت کے علم برداروں کو سوچنا اور سمجھ لینا چاہئے کہ انسانیت کا بیج اسلام ہے اور جس فصل کو وہ لگا رہے ہیں وہ کبھی بھی پنپنے والی نہیں ہے۔ اس سے صرف بربادی ہی ہوگی ۔