پنجاب کی بیوروکریسی یا بگڑی کریسی

جب سے احد چیمہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم سے وابستہ بیوروکریٹ کو نیب نے کرپشن اور اختیارات سے تجاوز پر گرفتار کیا ہے، پنجاب کی بیوروکریسی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔ سو کے قریب افسران نے اجلاس بلایا احتجاج کیا اور مذمت پر مبنی قرارداد جاری کی ۔ ان اعلیٰ افسران کے طرز عمل پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں ۔

کیا ان افسران کا طرز عمل مناسب ہے ۔ ایسٹا کوڈ اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ اور اس طرح کا احتجاج کار سرکار میں مداخلت نہیں ۔ چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس لینا چاہئے ۔ جواب طلبی کرنی چاہئے اور اگر مطمئن نہ ہوں تو ایف آئی آر درج کرنی چاہیے ۔

یہ احتجاج ثابت کرتا ہے کہ پنجاب کی افسر شاہی پوری طرح سیاست میں ملوث ہوچکی ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بیوروکریسی کو سیاست میں حصہ لینے کی سختی سے ممانعت کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ ہر صورت غیر جانبدار اور آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر اپنے فرائض منصبی انجام دیں گے ۔ اگر بیوروکریسی میں احتجاج کی روایت کی حوصلہ افزائی کی گئی تو کل کسی پولیس افسر کی گرفتاری پر کیا ساری پولیس فورس ہڑتال کرے گی ۔

اگر پنجاب کی بیوروکریسی یہ سمجھتی ہے کہ احد چیمہ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو پھر انہیں احد چیمہ کے حق میں ثبوت اور شواہد  نیب اور عدالت کے سپرد کرنے چاہئیں ۔ اگر قانون کے رکھوالے ہی غیر قانونی اقدامات کریں گے تو باقی معاشرے کا کیا ہوگا ۔ اور اگر پنجاب کے بجائے کسی اور چھوٹے صوبے کی افسر شاہی ایسا احتجاج کرتی تو کیا ہمارا میڈیا آسمان سر پر نہ اٹھا لیتا ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف معمولی واقعات پر بھی نوٹس لے لیتے ہیں۔ وہ اس واقعہ پر خاموش کیوں ہیں۔ کہیں  اس واقعہ کو ان کی درپردہ  میں درپردہ آشیر باد تو حاصل نہیں ۔