پاکستانی معیشت پر ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شمولیت کے منفی اثرات

پاکستانی ریاست کا  بحران نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان میں داخلی طور پر سیاسی قیادت اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان پر الزامات عائد کرکے اس کو گرے واچ لسٹ میں شمولیت کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ تا فرانس کے شہر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی گرے فہرست میں ڈالنے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔

اس فیصلہ پر عملدرآمد تین جون کے بعد ہوگا۔ یہ فیصلہ امریکہ کی درخواست پر کیا گیا ہے جسے برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کی حمایت حاصل تھی۔ امریکہ کی اس کارروائی کے بعد پاکستانی ریاست کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لسٹ میں بھارت کی خوشنودی کیلئے پاکستان کو شامل کرنے کا مقصد اس کی ساکھ کو خراب کرنا، مالی طور پر غیر مستحکم کرنا، پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانا، برآمدات کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنا، بیرون ممالک سے قرضوں کے حصول کو مشکل بنانے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف ڈو مور کیلئے امریکی دباؤ کو بڑھانا ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ FATFایک عالمی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ٹیررسٹ فنانسنگ اور اینٹی منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کام کرتا ہے۔ اس ادارے نے دو طرح کے ممالک کی فہرستیں بنائی ہیں۔ پاکستان 2005 سے 2015 تک بھی گرے لسٹ میں شامل رہا ہے۔ 2017 کی واچ لسٹ میں لیبیا ، میانمار، صومالیہ، شام،  وینز ویلا اور یمن شامل ہیں۔ جبکہ شمالی کوریا اور ایران  بلیک لسٹ میں موجود ہیں۔ FATF نے متنبہ کیا ہے اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو اس کو بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی قیادت نے ممکنہ خدشات کے پیش نظر اپنی حمایت حاصل کرنے کیلئے کئی ممالک کے دورے کیے مگر مطلوبہ حمایت نہیں حاصل کی جا سکی۔ اب تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اس ادارے کے اجلاس کے آخری دن امریکہ دوبارہ ووٹنگ کرانے میں کامیاب ہوا ۔ چین اور سعودی عرب نے پاکستان کے حوالے سے حمایت واپس لے لی۔ امریکی پاکستان سے دہشت گرد قرار دی ہوئی تنظیموں اور افراد جن میں حقانی نیٹ ورک، حافظ سعید، جیش محمد ، لشکر طیبہ، اور جماعت الدعوۃ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔  پاکستان کی قیادت نیشنل ایکشن پلین کے تحت موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کی دائیں بازوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے انتہا پسند اور عسکریت پسند  تنظیموں کے درمیان فکری اور نظریاتی ہم آہنگی موجود رہی ہے۔  ان گروہوں کو سیاسی جماعتوں نے اپنے مقاصد اور مذہبی ووٹ بینک کے حصول کیلئے استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کبھی ان سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں اور قائدین پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے اداروں اور جماعتوں نے افغانستان کی جنگ سے لے کر موجودہ صورتحال تک مختلف مذہبی مکتبہ فکر کی جماعتوں اور انتہا پسند گروپوں کی اخلاقی حمایت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ نون کو پنجاب میں ایک مکتبہ فکر کی مکمل حمایت حاصل ہے جن کے ہیڈ کوارٹر لاہور، اور جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی ہمیشہ گو موگو کا شکار رہی ہے۔

تحریک انصاف فاٹا میں فوج  بھجوانے اور فوجی آپریشنوں کے خلاف رہی ہے۔ اس نے دہشت گردوں پر ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے ، گزشتہ انتخابات میں طالبان نے عمران خان کو مذاکرات میں اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔ تحریک انصاف نے پختونخواہ میں مذہبی ووٹ بینک کے حصول کیلئے طالبان کے سر پرست اعلیٰ مولا نا سمیع اللہ کے مدرسہ جامعہ حقانیہ کی کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز سے امداد کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کا دہشت گردی کے حوالے سے ہمیشہ واضح موقف رہا ہے۔ ان جماعتوں کی قیادت کو شہید کر دیا گیا جبکہ ایم کیو ایم ظاہری طور پر سیکولر آؤٹ لک رکھتی ہے مگر اس کی سیاست لسانیت اور فسطائیت پر مبنی ہے ۔ گرے لسٹ میں شمولیت کی خبر آنے کے بعد پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ اس سے قبل ستمبر2017 میں حبیب بینک کی نیویارک برانچ کو امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف فنانشنل سروسز نے منی لانڈرنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 250ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا اور برانچ کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔ اس وقت منظر عام پر آنے والی خبروں کے مطابق یہ بینک کالا دھن سفید کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کیلئے رقوم کی منتقلی میں ملوث تھا۔

پاکستانی ریاست کے ساتھ امریکہ کے ہمیشہ قریبی نوعیت کے تعلقات رہے ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ بھی آتا رہا ہے۔ جہاد افغانستان میں پاکستان کا بھرپور کردار تھا جس میں ریاست کے قومی بیانیہ میں جہادی کلچر کے حوالے سے تبدیلی کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور پرائیوٹ لشکروں کی بنیاد پڑی۔ مگر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد یہ گروہ امریکہ اور پاکستان کے مقابل آ گئے۔ اس تمام شکست و ریخت کے بعد یہاں عالمی منظر نامہ اور خطے کی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں داعش کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینے کے ساتھ سیاست کے قومی دھارے میں شمولیت کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کا عندیہ دیا ہ۔ ،امریکہ پاکستان پر دوغلی پالیسی اور دھوکہ بازی کے الزام لگا کر اس کی امداد بند کر رہا ہے۔ جبکہ ہم امریکہ کی حمایت کے ساتھ چین اور روس سے دوستی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی معیشت ترقیاتی سرگرمیاں، صحت، اور دیگر پروگراموں کے حوالے سے بیرون ممالک سے تارکین وطن کی بھجوائی جانے والی رقوم اور بیرونی قرضے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی ممکنہ پابندی ترسیلات  پاکستان  بھجوانے میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بینک اپنا کاروبار بند کر سکتے ہیں جس سے معاشی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ جون میںFATF کا آئندہ اقدامات کے حوالہ سے اجلاس بلایا جا رہا ہے تب تک عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ وہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ پاکستان 2012سے2015 تک گرے لسٹ میں شامل رہا ہے اور اس وقت معاملہ صرف منی لانڈرنگ کا تھا جس کی وجہ سے اس پر معاشی پابندیاں عائد نہیں کی گئی تھیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کے ٹوٹنے اور عالمی سطح پر تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی معاشی اور سامراجی حیثیت میں کمی آئی ہے۔ مشرق وسطی میں وہ شام اور ایران کے خلاف مطلوبہ اہداف نہیں حاصل کر سکا ہے اور اس نے شام میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر دی ہ۔ اس کا اتحادی یمن کی جنگ میں پھنس چکا ہے۔

 ہم چین اور روس کے قریب ہونے کی کوششوں کے باوجود امریکی کیمپ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ دوسری طرف امریکہ اور چین کے تضادات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ FATF کے اجلاس میں چین پاکستان کو امریکہ کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکا ہے۔ جو کہ چین کی کمزور پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں سیاسی لڑائی عدلیہ اور پارلیمنٹ سے نکل کر ریاست کے دیگر حصوں کو لپیٹ رہی ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خوف کے نام پر یہاں پر عوام کی حمایت میں اٹھنے والی تحریکوں کو دبائے رکھا ہے۔ مگر لوگ اب دہشت گردی سے خوف زدہ ہونے کی بجائے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں کوئی پروگرام دینے یا خارجہ پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے ہمیں خارجی طور پر چیلنجوں کا سامنا ہے۔ کوئی حتمی فیصلہ ہمیں عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر سکتا۔