دانش گاہوں میں علمی و ثقافتی فیسٹول
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 04 / مارچ / 2018
- 5091
پچھلی دو دہائیوں سے ہماری یونیوسٹیوں ، کالجوں اور سکولوں کا تعلیمی ماحول محض نصابی کتابوں، امتحانات اور تعلیمی اسناد کی فراہمی تک محدود ہوکر رہ گیا تھا۔ ایک سوچ یہ اجاگر کی گئی ہے کہ طالب علموں کو غیر نصابی سرگرمیوں میں اپنا وقت برباد یا ضائع کرنے کی بجائے اپنی توجہ محض نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود رکھنی چاہیے ۔ اس سوچ کا نتیجہ کسی بھی صورت میں نہ تو طالب علموں کو کوئی علمی یا فکری فائدہ دے سکا اور نہ ہی اس ملک کے سیاسی ، سماجی ماحول میں کوئی بڑی مثبت اور تعمیری تبدیلی کے عمل کو پیدا کرسکا ۔ اس سوچ کے نتیجے میں طالب علموں میں سماج اور اس کے اہم معاملات سے لاتعلقی، انتہا پسندی ، عدم برداشت اور تشدد کے رجحانات کو تقویت ملی ۔ معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ میں ہمارے تعلیمی اداروں کی تعلیمی پالیسی کا بھی بڑا عمل دخل ہے ۔
حالانکہ تعلیم کا مقصد نوجوان نسل یا طالب علموں میں ایک ایسے تعلیمی ماحول کو پیدا کرنا ہوتا ہے جو ان کو ترقی کے عمل میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہن سازی پر توجہ دیتا ہے ۔ دانش گاہوں کا مقصد طالب علموں میں علمی و فکری محاذ پر سوچ کے نئے زاویوں کو تلاش کرنا اور ایک متبادل نکتہ نظر کو پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ہماری دانش گاہیں بچوں میں سوالات کرنے ، تحقیق کرنے اور آزادانہ طور پر بات کرنے کا ماحول پیدا کریں ۔ اگر ہم ان پر علمی و فکری پابندیاں لگائیں گے تو معاشرہ فکری انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ کافی مدت کے بعد ہماری بڑی درس گاہوں یا جامعات میں’’ لٹریری فیسٹول ‘‘ کے کلچر کو دوبارہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے ۔ ماضی میں یہ روایات مضبوط تھیں لیکن پچھلی کئی دہائیوں سے اس طرح کے کلچرل اور علمی فیسٹول کو ایک خاص منصوبے کے تحت بند کردیا گیا تھا ۔ خیال تھا کہ اس طرح کا ماحول بچوں اور بچیوں کی ذہن سازی اور ان کے مزاج کو سیاسی و سماجی طور پر باشعور بنانے اور نظام کو چیلنج کرنے کی طرف لے جاتا ہے جو یقینی طور پر حکمران اور بالادست طبقہ کو قبول نہیں تھا۔ بہرحال پچھلے دنوں پنجاب کی دو بڑی جامعات میں ’’ لٹریری فیسٹول ‘‘ کا بڑی کامیابی سے انعقاد ہوا۔ ان دونوں فیسٹول میں مجھے ذاتی طور پر شرکت کرنے اور اس کے مختلف سیشن میں مختلف موضوعات پر بات چیت کرنے کا بھی موقع ملا۔
اولیا کے شہر ملتان اور جنوبی پنجاب میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک اہم درس گاہ کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہے ۔ اس جامعہ میں دوسرا سالانہ ادبی میلہ یا لٹریری فیسٹول 21اور 22 فروری کو سجایا گیا تھا ۔ یہ فیسٹول بنیادی طور پر بہاالدین زکریا یونیورسٹی ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسزکے تعاون سے منعقد ہوا تھا ۔ یقینی طور پر بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظا م الدین ، سید مرتضی نور، شعبہ سیاسیات کے سربراہ ڈاکٹر مقرب اکبر، شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر قاضی عابد اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ بالخصوص پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین اور ڈی جی شاہد سرویا نے اہم کردار ادا کیا۔ کمال یہ ہے کہ وہ ان درس گاہوں میں اس طرح کی غیر نصابی علمی اور فکری تقاریب یا مجالس کا انعقاد کرکے ایک بہتر ماحول پیدا کرنے اور طالب علموں کو علمی طور پر مثبت سرگرمیوں کی راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس فیسٹول میں جو اہم اجلاس ہوئے ان میں ادب و ثقافت کے فروغ میں اہل علم کا کردار، صحافت اور وسیبی ادب، جنوبی پنجاب کی خواتین لکھاریوں کے ساتھ ایک فکری مکالمہ ، ادب اور فنون کی تحفیظ، اقلیتی برادری اور نوجوان لکھاریوں سے مکالمہ سمیت مشاعرہ، کتابوں کی تقریب رونمائی ، موسیقی کا بھی اہتمام شامل تھا ۔ جن اہل دانش نے مختلف مجالس میں گفتگو کی ان میں پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین ، ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر روف اعظم وائس چانسلر ایجوکیشن یونیورسٹی ، ڈاکٹر ناصر عباس نیر سربراہ اردو سائنس بورڈ، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی سربراہ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحسن پنجاب یونیورسٹی شعبہ اردو، پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد سابق صدر ادارہ فروغ قومی زبان، ڈاکٹر نصر اللہ ناصر، شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی، ڈاکٹر نجیب جمال، پروفیسر خالد سعید، ڈاکٹر قاضی عابد، ڈاکٹر اسلم انصاری، ڈاکٹر محمد امین ، ڈاکٹر مقرب اکبر، ڈاکٹر روبینہ رفیق، شہناز نقوی ، صائمہ نورین اور راقم شامل تھے ۔
بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر امین کے بقول اس فیسٹول کا مقصد مکالمہ کی مدد سے معاشرے سے تشدد پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے تاکہ کتاب دوستی ، مکالمہ اور برداشت کے کلچر کو قبولیت حاصل ہو اور نئی نوجوان نسل کی ذہنی آبیاری ممکن ہوسکے۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر نظا م الدین کے بقول اس ادبی میلہ کا مقصد اسی تہذیبی بحران اور فکری انجماد سے نکلنے کی کوشش ہے ۔ ان کے بقول مکالمے کا محرک بھی مکالمہ ہوتا ہے اور مکالمہ نہ صرف ہمیں بحرانی کیفیت سے نکالتا ہے بلکہ سماج کو زنجیر کی کڑیوں کی طرح یکجہتی بھی عطا کرتا ہے ۔ ہمارا معاشرہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اضطراب و انتشار کا شکار ہے ۔ علم ، ادب اور ثقافت وہ ہتھیار ہیں جو ہمیں پرامن بقائے باہمی اور محبت کے پیغام سے آشنا کراتے ہیں ۔
دوسرا دو روزہ کلچرل یا ادبی فیسٹول گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقد کیا گیا جس کے انعقاد میں اس جامع کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی ، ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق چیرمین شعبہ تاریخ نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس فیسٹول کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں اہم اور معلوماتی موضوعات پر ماہرین کی پینل ڈسکشن، اردو اور پنجابی مشاعرہ اور صوفیانہ کلام اور موسیقی شامل تھی ۔ پینل ڈسکشن میں لٹریچر کی اہمیت ، امن اور سماجی اہم اہنگی میں سول سوسائٹی کا کردار، پاکستانی فلم اور ڈرامہ کی تاریخ، صحافتی لٹریچر اور امن ، پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ پر جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی ، ڈاکٹراصغر ندیم سید، عباس تابش، حسین نقی، احمد اویس ایڈوکیٹ ، عبداللہ ملک ، ایوب خاور، آمنہ مفتی، اداکار راشد محمود، بشری رحمان، بینا گوئندی، صوفیہ بیدار، شعبہ ہسٹری پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹراقبال چاولہ ، ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈاکٹر ساجد محمود، شکیل احمد سمیت مختلف شعبہ جات کے ماہرین شامل تھے ۔ مجھے ذاتی طور پر ان دونوں ادبی میلہ یا فیسٹول میں نوجوان نسل کی بھرپور شرکت دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور سب نے کہا کہ اس طرح کے ادبی میلوں میں ہونے والی مختلف تقاریب اور مجلس میں ہونے والی گفتگو سمیت مختلف ماہرین سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ کئی نوجوانوں کو میں کتابوں کے مختلف سٹال پر بڑی دلجمعی سے کتابیں دیکھتے اورخریدتے ہوئے دیکھا ۔ مختلف سیشنز میں نوجوان طالب علموں نے جس انداز سے سوالات کیے اور بعض سوالات کی نوعیت کافی تلخ بھی تھی جو ظاہر کرتا تھا کہ جو کچھ اس معاشرے میں ہورہا ہے اس سے نئی نسل مطمن نظر نہیں آتی ۔ کئی مقررین نے اس بات پر زور دیا کے محض سالانہ ادبی میلے کیوں یہ تو مختلف شعبہ جات کو تواتر کے ساتھ منا نا چاہیے ۔
جو صوفیانہ کلام اور مشاعروں کا انعقاد ہوا اس میں پنجاب کے بڑے شعرا نے اپنا کلام بھی پیش کیا اور خوب داد بھی وصول کی ۔ بہت سے شاعروں نے ملک میں بڑھتی ہوئی محرومی کی سیاست ، امن ، رواداری ، برداشت اور صنفی مسائل سمیت انتہا پسندی جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ صوفیانہ کلام میں نوجوان نسل کی شرکت بھی بھرپور تھی ۔اصل میں ہمارے تعلیمی اداروں کا یہ ہی کردار بنتا ہے کہ وہ اس طرز کے ادبی میلے ، کلچرل شوز، ثقافتی سرگرمیاں، ڈرامہ یا تھیٹر، محفل موسیقی، مباحث، کتابوں کی تقریب رونمائی ، مشاعرے، نمائش، تقاریر کا ماحول تواتر کے ساتھ کریں ۔ اس میں نوجوان طالب علموں اور استادوں کی بھرپور شرکت ہونی چاہیے ۔ اسی طرح شہر میں موجود مختلف شعبہ جات کے ماہرین جو دسترس رکھتے ہیں ان کے اورطالب علموں کے درمیان مکالمہ کے کلچر کو فروغ دیا جائے ۔
یہ سب اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت پاکستان کو ایک ایسے معاشرے کی جانب بڑھنا ہے جہاں مختلف سوچ، خیال اور فکر رکھنے والے لوگوں کے درمیان ایک ایسی سیاسی ، سماجی اور مذہبی اہم اہنگی پیدا کی جائے کہ سب مل کر ملک کی تعمیر و ترقی کے عمل میں حصہ لے سکیں ۔ ہمیں لوگوں مختلف مسائل میں تقسیم نہیں کرنا بلکہ ان کو جوڑنا ہے ۔ کیونکہ اس وقت جو بڑے بڑے خطرات اور چیلنجز ہمارے معاشرے کو درپیش ہیں جن میں انتہا پسندی جیسا مرض بھی موجود ہے۔ اس کا مقابلہ ہمارے تعلیمی اداروں اور استاد کو معاشرے کے دیگر فریقین کے ساتھ مل کرنا ہے ۔ پاکستان کے ادیب، شاعر، مصنف، گلوگار، اداکار، سیاست دان ، صحافی، دانشور ، استاد ہی معاشرے کا اصل حسن ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیمی ادارے اس امن ، رواداری کی جنگ میں سب کو شامل کرکے آگے بڑھے تو یہ واقعی معاشرے کی بڑی خدمت ہوگی ۔