پانی کی قلت کے لئے قومی حکمت عملی تیار کی جائے

گزشتہ روز اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق پاکستانی ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ رک چکا ہے۔ جس کی وجوہات میں موسموں کی تبدیلی ، بارشوں کا وقت پر نہ ہونااور بھارت کی طرف سے دریاؤں کے پانی کا ذخیرہ اور بجلی کی تیاری کیلئے ہائیڈرل پارہاؤسز کی تعمیر ہو سکتا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد ہم صرف منگلا اور تربیلا ڈیم ہی تعمیر کر سکے ہیں جو کہ اپنی طبعی مدت پوری کرنے کے بعد ریت اور مٹی بھر جانے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہے ہیں۔

حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے ان ڈیموں کے توسیع منصوبوں پر کام کرکے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ یہی صورتحال اسلام آباد اور راولپنڈی کو پانی سپلائی کرنے والے راول ڈیم کی ہے جس کی جھیل میں ارد گرد کی آبادیوں کا گندا پانی گرتا ہے اس طرح ان شہروں کو سپلائی کیا جانے والا پانی صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ لاہور اور کراچی میں 85 فیصد آبادی آلودہ اور کیمیکل زدہ پانی پینے پر مجبور ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے حال ہی میں غیر معیاری پینے کا پانی سپلائی کرنے کا نوٹس لیا ہے۔  یہی صورتحال ملک کے دیگر شہروں میں ہے جہاں پر ناقص سیوریج نظام کی وجہ سے گندا پانی صاف پانی کی لائنوں میں مکس ہو جاتا ہے۔ لاہور میں بہنے والے دریائے راوی میں آلودہ پانی پھینکا جاتا ہے جبکہ یہی صورتحال لاہور میں بہنے والی خوبصورت نہر کی ہے۔ دوسری طرف شہروں میں آلودہ و گندا پانی فصلیں اُگانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی سبزیاں بھی مضر صحت ہیں۔ یاد رہے پانی کی سپلائی اور فوڈ سیکیورٹی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بارشوں میں کمی اور پانی کی کم آمد کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح گرتی جا رہی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر پینے والے پانی کو گھر کی صفائی، گاڑیوں کی سروس اور دیگر غیر اہم امور میں استعمال کیا جاتا ہے۔ صاف پانی کے اس بے پناہ ضیاع کی وجہ سے ہم اس کی کمی کے خدشات سے دو چار ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد اور کراچی میں پانی کی کمی کے حوالے سے خبریں اخبارات اور میڈیا کی زینت بنتی جا رہی ہیں جس کی وجہ شہروں کی طرف آبادی کا دباؤ اور نئی بستوں کی تعمیر ہے ۔

برصغیر پاک و ہندو میں پانی کی فراہمی کے اہم ذرائع تین دریاؤں کے نیٹ ورک ہیں جس میں دریائے سندھ، دریائے گنگا اور براہم پترا شامل ہیں۔ یہ پانی کی سپلائی کے اہم ذرائع ہیں۔ برف پگھلنے اور چھوٹے ندی نالوں اور دریاؤں کا پانی ان میں آ گرتا ہے ان دریاؤں سے تازہ اور صاف پانی حاصل ہوتا ہے۔ ان دریاؤں سے برصغیر پاک و ہند کو دنیا کے مجموعی صاف پانی کا چار فیصد سالانہ حاصل ہوتا ہے جس کو دنیا کا ایک 1/6آبادی استعمال کرتی ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ میں پانی کی کمی اور اس کے بے تحاشہ ضیاع کی وجہ سے مستقبل میں اس کی قلت کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ریاستوں کے درمیان جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان ہندوستان کی طرف سے پانی کی غیر مساوی تقسیم بھی تنازعہ بن سکتی ہے۔ ماضی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دریاؤں کے پانی کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ کیا گیا تھا جس کو صدر ایوب خان کی حکومت نے اقوام متحدہ کی ثالثی اور حمایت سے حاصل کیا تھا۔  ہم نے کس بے دردی کے ساتھ بھارت سے پاکستان آنے دریاؤں کے پانی کو بھارت کے حوالے کر دیا تھا اور آج کے دریا محض ریت کے خشک نالے بن چکے ہیں یا ان میں رابطہ نہروں کا پانی ڈال کر جنوبی پنجاب کو مہیا کیا جاتا ہے۔

ماضی میں انگریز سرکار نے صنعتوں کیلئے خام مال کپاس اور گنے کی پیدا وار میں اضافہ کیلئے نہری نظام بنایا تھا جو کہ ٹوٹ پھو ٹ کے باجود ابھی کام کر رہا ہے۔ مگر پانی کے نئے ذخائر تعمیر نہ کرنے کی وجہ سے پانی کی سپلائی میں کمی ہوئی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں تعمیر کردہ نہروں کا نظام انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ ہندوستان نے برسات کے دنوں میں طغیانی پر قابو پانے  کیلئے پانی کے ذخائر کی تعمیر کی ہے مگر ہم نے دریائے سندھ کا پانی ذخیرہ کرنے  کیلئے مزید ڈیم قائم نہیں کیے ہیں۔ بھاشا اور واسو ڈیم کے بارے میں سنتے رہتے ہیں مگر ان کی تعمیر کیلئے عملی طور پر کوئی کام شروع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ورلڈ بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے اس ضمن میں ہماری امداد کیلئے رضا مند ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیلئے مطالبہ  داستان پارینہ بن چکا ہے۔ بھارت نے دریاؤں کی بندش اپنے سیکیورٹی مفادات کیلئے کر رکھی ہے جس سے اس کو آبپاشی کیلئے پانی حاصل ہوتا ہے اور بجلی بنائی جاتی ہے۔ کیونکہ پانی سے تیار کردہ بجلی سب سے سستی ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف ہم تیل اور بجلی بنانے والے کار خانے لگائے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں آئے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جس ک اثر بجلی کی نرخوں کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس کو لوگوں کو مہنگائی کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کو 8 فیصد تک لے جانے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ صورتحال جی ڈی پی کی شرح نمو کے حوالے سے بھارت اب چین سے بھی آگے ہے گو اس کے اثرات ہندوستان میں بسنے والے غریب طبقات پر نہیں ہوتے ہیں۔ مگر وہاں پر 38کروڑ پر مشتمل مڈل کلاس ہے ۔ پاکستان میں انرجی اور فوڈ سیکیورٹی کا حصول زندگی اور ترقی کیلئے لازمی ہے۔ انرجی اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے پانی اہم ذریعہ ہے۔  ممالک اپنی انرجی کی ضروریات ارد گرد کے ممالک سے پوری کر رہے ہیں جبکہ ہم بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے ہمسایہ ملکوں سے کسی قسم کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہی۔ حال ہی میں تاجکستان کے ساتھ گیس کی فراہمی کے منصوبے کے افتتاح کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ ہم نے گیس کی سپلائی کے معاہدوں کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا ہے۔  ایران ہمارے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ یورپ اور دوسرے بر اعظموں میں ہمسایوں سے بجلی کی ضروریات پور ی کی جا رہی ہیں۔ روس یورپ کے کئی ممالک کو قدرتی گیس سپلائی کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے حکمران مقامی سطح پر صنعتوں کو پوری بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ کسان بھی مہنگی بجلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔  قیمتوں میں اضافہ سے ان کیلئے فصلیں کاشت کرنا منافع بخش نہیں رہا ہے۔

ہندوستان نے سبز انقلاب کے نام پر اپنے نہری نیٹ ورک کو وسیع کرنے اور ڈیموں کی تعمیرات کیلئے وسیع سرمایہ کاری کی ہے۔ یہی وجہ ہے وہاں پر کسانوں کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارا صوبہ پنجاب زر خیز ہونے کے باوجود صوبے کی زرعی ضروریات پوری نہیں کر سکتا ہے۔ ہم پاکستان میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کیلئے پیاز، سبزیاں،  دالیں اور دیگر اجناس بھارت سے درآمد کرتے ہیں۔ پانی کی سیکیورٹی کیلئے ضروری ہے کہ ہم دریاؤں پر نئے ذخائر تعمیر کریں کیونکہ برسات کے دنوں میں کروڑوں ہیکٹر پانی دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ ہندوستان ڈیموں کی تعمیر کے باوجود 89 فیصد پانی کو استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ بہر صورت انسانی زندگی کیلئے پانی کی فراہمی اور خوراک انتہائی ضروری ہ۔ ہمارے پالیسی ساز اداروں کو پانی کے ذخائر کی تعمیر کیلئے اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ زیر زمین صاف پانی کو مستقبل کی ضروریات کیلئے محفوظ رکھا جا سکے۔  یہ اہم قومی مفادات حاصل کرنے کے لئے  سیاسی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔