سینٹ کا انتخابی معرکہ اور نئی سیاسی جنگ

بعض سیاسی پنڈت خیال پیش کررہے تھے کہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اور بعض سیاسی طاقتیں سینٹ کے انتخابات کو ملتوی کرانے کے کھیل کا حصہ ہیں، وہ غلط ثابت ہوا۔ خود مسلم لیگ (ن)کی قیادت بلوچستان میں اپنی حکومت کی تبدیلی کے بعد اسی نکتہ کو بڑی شدت سے پیش کررہی تھی کہ مقصد سینٹ کے انتخابات کا التوا ہے تاکہ اس پارٹی کی اکثریت کو روکا جاسکے ۔ لیکن سینٹ کے انتخابات کا ان تمام خدشات کے باوجود منعقد ہونا خوش آئند امر ہے ۔ سینٹ کے اس اہم انتخابی معرکہ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے حالیہ 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابی معرکہ میں 15نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح سینٹ میں 33 کل نشستیں کے ساتھ وہ سب سے بڑی پارٹیبن گئی ہے۔ اس بحرانی کیفیت میں جہاں نواز شریف کے بقول ان کی سیاست کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، سینٹ میں ان کی جماعت کا اکثریتی جماعت بننا اہم کامیابی ہے ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان میں ان کی حکومت کی تبدیلی کے عمل نے ان کو بلوچستان کی سیاست میں سیاسی دھچکا دیا ہے لیکن اس کے لیے خود مسلم لیگ کی قیادت کو اپنا داخلی تجزیہ بھی کرنا چاہیے کہ بلوچستان میں ہونے والی تبدیلی میں ان کے اپنے داخلی مسائل کیا تھے ۔ سارا ملبہ اسٹیبلیشمنٹ پر ڈال کر مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاسکے گا۔ پنجاب میں جہاں نواز شریف کی سیاسی طاقت ہے وہاں تحریک انصاف کے چوہدری سرور کا  کامیابی حاصل کرنا اور خود پیپلز پارٹی کو وہاں معقول تعداد میں ووٹ ملنا نواز شریف اور شہباز شریف کیمپ کے لیے خطرہ ہے ۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے38 ارکان نے چوہدری سرور اور پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے جو پنجاب میں نئی سیاسی حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے۔  چوہدری سرور کی کامیابی میں ان کی سیاسی حکمت عملی ، قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید اور اسلم اقبال کا کردار بھی کافی اہم رہا ۔البتہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے 18ارکان نے پارٹی قیادت کے فیصلوں کے برعکس اپنا کام دکھایا اور پارٹی کو دو نشستوں سے محروم کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہاں بھی ارکان پر وزیر اعلی پرویز خٹک کی گرفت کمزور تھی اور داخلی مسائل نے ان کو نقصان پہنچایا ہے ۔ اسی طرح عمران خان کا خود سینٹ کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے ۔

اسی طرح حالیہ سینٹ کے انتخاب میں ایم کیو ایم کے داخلی بحران اور باہمی چپقلش نے ان کی سیاسی ساکھ اور نتائج کو بری طرح متاثر کیا اور لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنے سیاسی بقا کی بحالی کی جنگ کو نئے سرے ترتیب دینا ہوگا ۔ یہ مسئلہ سینٹ کے انتخابات سے نکل کر عام انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کو سیاسی تنہائی میں ڈالے گا۔ پیپلز پارٹی نے حالیہ سینٹ کے انتخاب میں 10نشستیں جیت کر اپنی تعداد 20 کرلی ہے جو ان کے لیے اہم کامیابی ہے ۔ البتہ پیپلز پارٹی کا خود کو سندھ کی سیاست تک محد ود کرنا اور پنجاب سے عملا ختم ہونا توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ اس وقت سینٹ میں پارٹی پوزیشن کچھ یوں ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 33، پیپلز پارٹی کی 20، پی ٹی آئی 12، ایم کیو ایم 5، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی 5، نیشنل پارٹی5، جے یو آئی ف4، جماعت اسلامی 2، عوامی نیشنل پارٹی 1، مسلم لیگ فنگشنل 1، بی این پی ایم 1جبکہ 15آزاد امیدوار ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چیرمین سینٹ پیپلز پارٹی سے ہوگا ۔ حالیہ انتخاب میں پیپلز پارٹی نے سندھ اور خیبر پختونخواہ میں اپنی سیاسی اور انتظامی حکمت عملی کی بنیاد پر کچھ نشستیں جیت کر ایک زرداری سب پر بھاری کی مثال قائم کی ہے ۔ پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں یہ کریڈیٹ دینا ہوگا کہ ان کے امیدواروں کا چناؤ باقی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں کافی بہتر تھا اور بیشتر لوگ سیاسی چہرے اور مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جن میں دو اقلیتی امیدوار بھی شامل تھے ۔ پیپلز پارٹی کا ایک کمال یہ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے دوسری جماعتوں سے کل 105ووٹ حاصل کیے ۔ ان میں سندھ سے 20، پنجاب سے 18، خیبر پختونخواہ سے 27 اور بلوچستان سے 39 اضافی ووٹ حاصل کیے۔ یہ ووٹ کیسے حاصل ہوئے او راس میں کیا واقعی پیسے کا کھیل تھا توجہ طلب مسئلہ ہے ۔

حالیہ سینٹ کے انتخابات میں چارسوال اہم رہے جو توجہ طلب ہیں۔ اول سینٹ کے انتخابات میں ہارنے والی جماعتوں نے ووٹوں کی خریداری کا مسئلہ اٹھایا ہے ۔ ان کے بقول جن جماعتوں کی جہاں اکثریت نہیں وہاں ان کا دیگر جماعتوں کے ارکان سے ووٹ لینا اور نشست جیتنا خریدنے کے مترادف ہے ۔ دس کے قریب آزاد امیدواروں کے جیتنے کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا ہے ۔ سینٹ کے انتخابات میں پیسے کا یہ کھیل واقعی بدنما ہے اور اس نے جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ دوئم سینٹ کے انتخاب میں مجموعی طور پر پارٹیوں نے سینٹ جیسے ادارے کو مدنظر رکھ کر جو پارٹی ٹکٹ جاری کیے ان میں بیشتر لوگ اس عہدے کے اہل ہی نہیں تھے ۔ ان کی تقرری محض سیاسی وفاداری کو مدنظر رکھ کر کی گئی جبکہ سینٹ کے کردار اور ارکان کی اہلیت کو نظرانداز کیا گیا۔ بالخصوص ٹیکنوکریٹ نشست کا مذاق اڑایا گیا۔ سوئم سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے100سے زیادہ لوگوں نے اپنی پارٹیوں کے مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنے ذاتی تعلق نبھانے اور پیسے بنانے کے کھیل کو ترجیح دے کر جماعتی سیاست کو کمزور کیا۔ چہارم سینٹ کے انتخابات میں ایک صوبے کے فرد کا دوسرے صوبے سے جاکر انتخاب لڑنا بھی کوئی اچھا شگون نہیں۔ اس سے صوبے کی حق تلفی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے ۔ اس سارے کھیل میں سینٹ کے انتخابات کے طریقہ کار پر نئے سرے سے بحث شروع ہوئی ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ کیونکہ اگر ہم انتخابات اور سینٹ جیسے ادارے کو برائے فروخت کے طو رپر پیش کرنا ہے تو اس سے جمہوری ساکھ اور مقدمہ متاثر ہوگا، اس کے خلاف واقعی بندھ باندھنا ہوگا۔

اب اصل معرکہ چیرمین سینٹ کے انتخابات کا ہے ۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں کی کوشش ہوگی کہ چیرمین ان کا ہی ہو۔ لیکن اصل کھیل عددی تعداد میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان بالخصوص بلوچستان کے ارکان کا ہوگا کہ وہ اس کھیل میں کہاں کھڑے ہوتے ہیں ۔ چیرمین سینٹ کے لیے چار آپشن موجود ہیں ۔ اول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں  کسی مشترکہ امیدوار پر اتفاق ہوجائے ۔ پیپلز پارٹی رضا ربانی کے علاوہ چاہے گی کہ وہ بلوچستان سے کسی کو چیرمین سینٹ کے طور پر نامزد کرے تاکہ بلوچستان کے ووٹ بھی حاصل کیے جاسکیں۔ اگر رضا ربانی پر اتفاق ہوتا ہے تو مسلم لیگ (ن) ان کی حمایت کرسکتی ہے ۔ دوئم مسلم لیگ(ن) کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ ایم کیوایم، جے یو آئی ، اے این پی، محمود خان اچکزئی ، نیشنل پارٹی ، فاٹا اور کچھ دیگر آزاد ارکان کو ملا کر اپنا چیرمین لاسکتی ہے ۔ سوئم پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور آزاد امیدوار نواز شریف مخالفت میں کسی ایک پر اتفاق کرلیں ۔ چہارم پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی، جے یو آئی اور آزاد امیدواروں کی بنیاد پر پنجہ ازمائی کرے ۔ یہاں اصل امتحان نواز شریف اور آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی اور جوڑ توڑ کی سیاست کا ہوگا، کون کس کو زیر کرتا ہے ۔ بالخصوص چھوٹی جماعتیں آنے والے عام انتخابات کے پیش نظر کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر  فیصلہ کن کردار ادا کریں گی ۔

سینٹ کا یہ انتخاب عام انتخابات سے قبل ہوا ہے ۔ یقینی طور پر ان نتائج نے عام انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو حوصلہ دیا ہے ۔ لیکن عام انتخابات کا منظر نامہ یقینی طور پر سینٹ کے انتخابات سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور اس کے Dynamicsبھی مختلف ہوتے ہیں ۔ ایک امکان تو یہ ہے کہ سینٹ کے انتخابات کے فوری بعد سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں میں کافی اتھل پتھل ہوگی ۔ جن لوگوں نے انتخابات لڑنا ہے وہ نئی حلقہ بندیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اور سیاسی محاذ پر ہونے والے بعض اہم فیصلوں کو سامنے رکھ کر اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کریں گے ۔ نواز شریف کے خلاف متوقع عدالتی فیصلے بھی اس کھیل میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ پنجاب میں حکمران جماعت کے کیمپ میں کافی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی ۔ البتہ اب اصل معرکہ عام انتخابات کی طرف مثبت انداز میں پیش قدمی کرنا ہے ۔ یہ ہی سیاسی قوتوں کے لیے بڑا چیلنج بھی ہوگا۔