وائس چانسلر سے ایک مکالمہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 08 / مارچ / 2018
- 4449
پاکستان کا بنیادی مسئلہ پرائمری تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم میں درپیش مسائل سے جڑا ہوا ہے ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ جو سمجھ آتی ہے وہ تعلیم کے تناظر میں ریاستی اور حکومتی ترجیحات کی عدم دلچسپی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں تعلیم کے میدان جو بڑی کامیابیاں حاصل کرنی تھیں، اس میں ملکی اور عالمی درجہ بندی میں ہم پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ یہاں تعلیم کی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست رکھنے والے تعلیمی پالیسی ساز ماہرین کی کمی ہے، بلکہ اصل مسئلہ ان اعلی دماغ کے حامل ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرنے کی بجائے ان کے مقابلے میں سیاسی مداخلتوں، اقرا پروری اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہے ۔
تعلیم کے عمل کو کسی سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس میں ریاستی و حکومتی فیصلے، تعلیمی اداروں کا ماحول، سربراہان، اساتذہ، طالب علم اور ان کو دی جانے والی فکری آزادی اور سہولتیں شامل ہیں ۔ کیونکہ تعلیم بنیادی طور پر سوچ و فکر کے نئے زاویوں اور خیالات کو جنم دیتی ہے یا متبادل سوچ و فکر کو بحث یا مکالمہ کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ جبکہ ہم نے یہاں تعلیم کو بدقسمتی سے ڈگریاں جاری کرنے ، امتحانات کو پاس کرنے تک محدود کردیا ہے ۔ یہ عمل طالب علموں میں سوچ اور فکر کے زاویوں کو محدود کرکے ان کو معاشرے کی علمی و فکری محاذ پر تنگ نظری کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر تعلیم سے وابستہ ماہرین ہماری تعلیم کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زکریا زاکر سے ان کی یونیورسٹیوں سے جڑے تعلیمی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرنے کا موقع ملا ۔ ڈاکٹر محمد زکریا زاکر اسی یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں اور پی ایچ ڈی جرمنی سے کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں ۔ وہ کافی برسوں سے پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ سماجی علوم کے ڈین کے طور پر کام کررہے تھے ۔ حال ہی میں ان کی تقرری بطور قائم مقام وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ہوئی ہے ۔ وہ ایک اعلی دماغ، متحرک، فعال اور بنیادی طور پر تحقیق کے آدمی ہیں ۔ دلیل سے بات کرنے او رجذباتی انداز سے گریز کرنے کا کمال رکھتے ہیں۔ وہ سماجی علوم کی اہمیت سے نہ صرف بخوبی آگاہ ہیں بلکہ سماجی علوم کے شعبہ میں سماجی موضوعات پر تواتر سے کانفرنسیں کروانا، مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینے اور نئی نسل میں تحقیق کے شوق کو اجاگر کرنے میں ان کی قائدانہ صلاحیتیں قدر کا نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیمی صلاحیتوں پر ان کو 2005میں صدارتی پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔
اس نشست میں جب میں نے ان کے سامنے یونیورسٹیوں کی حالت زار پر کچھ گزارشات پیش کیں تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ہماری ان دانش گاہوں میں علمی و فکری محاز پر بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ خود نئے جدید خیالات اور دنیا میں تعلیم کے میدان میں ہونے والی نئی نئی تحقیق اور تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ جب تک تدریس اور اس اہم درس گاہ میں وائس چانسلر کے طور پر موجود ہیں تو کچھ ایسا کریں جو اس اہم مادر علمی پنجاب یونیورسٹی کی اصل علمی و فکری تشخص کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرسکے ۔ وہ تسلیم کرتے ہیں جب تک ہماری ان بڑی درس گاہوں کا یونیورسٹی سے باہر علمی اور فکری لوگوں اور اداروں میں اچھا perception نہیں پیدا ہوگا تو ہم اس محاذ پر اکیلے کچھ نہیں کرسکیں گے ۔ ڈاکٹر محمد زکریا زاکر کے بقول ان کے سامنے پانچ بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول یونیورسٹی کے ماحول کو مکمل طور پر علمی و فکری طور پر اجاگر کیا جائے اوراس کا تشخص ایک نئے نومتبادل بیانیہ کی تلاش کا ہونا چاہیے ۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ طالب علموں میں تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر شوق کو اجاگرکرسکیں ۔ دوئم اس مادر علمی میں طالب علموں کی ایک diversity موجود ہے جس میں بلوچ، سندھی ، پنجابی، پختون، گلگت بلتستان سے طالب آتے ہیں ۔ ان کے بقو ل وہ ان کے درمیان موجود فاصلے ختم اور اہم اہنگی و دوستی کے کلچر کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ نئی نسل کو انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات سے دور رکھا جاسکے اور ان میں مکالمہ ، روداری ، برداشت اور مل کر چلنے کا جذبہ اجاگر ہو۔ سوئم وہ استاد اور طالب علموں میں موجود فاصلوں کو کم کرنے اور ادارے میں غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کو بڑھانا چاہتے ہیں جن میں مختلف سوسائٹیوں کی مدد سے سرگرمیوں کا پھیلاو ہے ۔ اسی طرح وہ نوجوانوں کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامز کا ایک جال بچھانے کا فیصلہ کرچکے ہیں جہاں ان کو مختلف معاملات میں تربیت دی جائے گی ۔ چہارم وہ وہ یونیورسٹیوں او ریونیورسٹیوں کے باہر کے جو خلا موجود ہے اس کو علمی اور فکری ماہرین کی مدد سے پر کرنا چاہتے ہیں تاکہ یونیورسٹی کا تشخص مثبت ابھرے ۔ پنجم ان کی خواہش ہے کہ وہ اس یونیورسٹی اور گلوبل دنیا کے درمیان ایک بڑے تعلیمی Brdige کے طور پر کام کریں تاکہ اس کے معیار کو بڑھایا جاسکے۔ اسی طرح سول سوسائٹی کی مدد سے مختلف منصوبوں کے کام کا آغاز بھی ہے ۔
جب میں نے ان کی توجہ اس نکتہ پر دلائی کہ ہماری یونیورسٹیوں میں سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور مذہبی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے تو ان کا موقف تھا کہ اس مسئلہ پر بنیادی طور پر ہماری دانش گاہیں کرسکتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں جو انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس کی وجوہات اور علاج کا راستہ یہاں تحقیق کی بنیاد پر آگے بڑھے اور طالب علم اس پر نئے بیانیہ کو تلاش کریں اور نئی تحقیقی اشاعت کو یقینی بنایا جائے ۔ میں نے ان کو تجویز دی کہ وہ یونیورسٹی کی سطح پر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیا ہوا نیشنل ایکشن پلان ، انتہا پسندی، سائبر کرائم اور سوشل میڈیا کے استعمال کو تعلیمی نصاب سے جوڑیں ، تاکہ مکالمہ اور تحقیق کے شعبہ میں فکری آزادی کا کلچر عام ہو۔ یہ تجویز بھی زیر بحث آئی کہ طالب علموں کو محض نصابی کتابوں تک محدود نہ کیا جائے اس میں ایک ایسا علمی ماحول پیدا ہو جو بچوں اور بچیوں میں کتاب دوستی اور کتاب پڑھنے کے کلچر کو عام کرے ۔ ڈاکٹر محمد زکریا زاکر نے اتفاق کیا کہ تواتر سے اگر یونیورسٹی میں کتاب میلے ، ڈرامہ فیسٹول، کلچرل فیسٹول، کتابوں کی تقریب رونمائی ، ادبی میلے ، مشاعرے ، تقاریر اور دیگر سرگرمیوں کو فروغ دیں تو تعلیمی ماحول کافی بدل سکتا ہے ۔ یہ تجویز بھی زیر بحث آئی کہ کیسے سماجی اور ترقیاتی امور میں کام کرنے والے اداروں اور یونیورسٹی کے درمیان اشتراک کار کو بڑھایا جائے تاکہ سماجی شعبہ میں ہم اپنی سماجی اور ترقیاتی ترقی کے ان محرکات کو سمجھ سکیں جو ترقی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ وہ جدید بنیادوں پر طلبہ و طالبات کے لیے انٹرن شپ پروگرام کے اجرا کے حامی ہیں جو عملی زندگی میں ان کی راہنمائی کرسکے ۔
ڈاکٹر محمد زرکریا زاکر سالانہ بنیادوں پر قومی سیاسی ، سماجی ، معاشی ، قانونی، تعلیمی او راخلاقی مسائل پر کانفرنسوں کے انعقاد کا ایک مکمل خاکہ رکھتے ہیں او ر ان کی خواہش ہے کہ سالانہ بنیادوں پر و ہ ایسی رپورٹس یا کتب کی اشاعت کو یقینی بنائیں جو معاشرے میں نئی بحث کو اجاگر کرے ۔ کچھ اسی طرح کے خیالات پنجاب کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ اور علمی محاذ پر سرگرم دانشور ڈاکٹر نظام الدین کے بھی ہیں ۔ یقینی طور پر کچھ ایسے ہی خیالات دیگر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے بھی ہوں گے ۔ اصل مسئلہ وائس چانسلرز کوکام کرنے کی آزادی اور ان اداروں کو خود مختاری دینے ، سیاسی مداخلت ختم کرنے کا ایجنڈا ہے ۔
ڈاکٹر نظام الدین پنجاب میں بطور ہائر ایجوکیشن کے سربراہ کے طور پر یونیورسٹیوں کو علمی اور فکری خطوط پر استوار کرنے میں یقینی طور پر ایک قائد اور مدبر کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اس لیے جو کچھ ڈاکٹر محمد زکریا زاکر پنجاب یونیورسٹی کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا جو ددر رکھتے ہیں اس کے پیچھے معاشرے کے اہل دانش کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔ کیونکہ یونیورسٹیوں کا علمی تصور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک باہر بیٹھے ہوئے لوگ بھی اپنا کردار ادا نہ کریں ۔ یونیورسٹیوں کے سربراہان کو اس تصور کو بھی ختم کرنا ہوگا کہ وہ اس محاذ پر دیگر لوگوں کو جوڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر واقعی ڈاکٹر محمد زکریا زاکر پنجاب یونیورسٹی کے کام میں نیا پن اور بہتری کے نئے امکانات پیدا کرسکیں تویہ واقعی بڑی خدمت ہوگی اور ہمیں ان کے ساتھ اس جنگ میں کھڑے ہونا ہوگا۔