خدارا ۔۔۔ ارکین پارلیمنٹ کو غلام نہ بنائیں
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 08 / مارچ / 2018
- 4787
آج کل سینٹ میں ووٹوں کی خریدو فروخت کا بہت شور ہے۔ بیچارے ارکان پارلیمنٹ پر ایک چڑھائی شروع ہو گئی ہے کہ وہ بک گئے۔ انہوں نے پیسے لے کر ووٹ دیئے ہیں۔ ضمیر بیچ دیا ہے۔ جمہوریت کو بیچ دیا ہے۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی عزت کو داغدار کر دیا ہے۔ ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جن ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیئے ہیں، ان کو جان ہی سے مار دیا جائے۔ ان پر زمین تنگ کر دی جائے۔ ان کو سر عام ننگا کر دیا جائے۔ جیل میں ڈال دیا جائے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب غلط ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکیں۔ ان کو ان کے حق سے محروم کرنا جمہوریت سے دشمنی ہے۔
پاکستان میں ایک مذموم سازش کے تحت سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اپنی جماعتوں کے اندر مکمل آمریت قائم کی ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں قائم ہونے والی اس آمریت نے پاکستان کی جمہوریت کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کے گھر کی لونڈی بنا دیا ہے۔ بلا شرکت غیر یہ سربراہان اپنی ا پنی جماعت میں بادشاہ وقت سے زیادہ اختیارات کے مالک ہیں۔ وہ اپنی جماعت میں لوگوں کی جان و مال کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ وہ پہلے ہی کسی کو جوابدہ نہیں ہیں ۔ رات کو دن کہیں اور دن کو رات کہیں کوئی ان کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ جس کو دل کرتا ہے ٹکٹ دیں ۔ جس سے ناراض ہو جائیں اس کا سیاسی مستقبل غروب کر دیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اپنی جماعت میں ان داتا بن چکے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جمہوریت کے نام پر ایسی ترامیم کر لی ہیں جس سے ان کو لا محدود اختیارات حاصل ہو چکے ہیں جس سے وہ لوگوں کی قسمت کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ سینٹ کی ٹکٹوں کو ہی لے لیں۔ سب سیاسی جماعتوں نے پیسے والوں کو ٹکٹ دی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت نے پیسے والوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے۔ سب سے زیادہ شور مچانے والی تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے جب سینٹ میں دی جانے والی چند ٹکٹوں پر سوال کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ جنہوں نے پارٹی کو فنڈز دیئے تھے انہیں ٹکٹ دیئے گئے۔ جب پارٹی لیڈر پیسے لےکر ٹکٹ دے تو جائز ہے۔ وہ جمہوریت ہے۔ لیکن ارکان پارلیمنٹ اگر پیسے لےکر دیئے گئے ٹکٹ کے خلاف بغاوت کریں تو وہ جمہوریت دشمنی قرار دے دی جاتی ہے۔
پیسے لے ٹکٹ دینے میں سب جماعتوں کے قائدین ملوث ہیں۔ اسی طرح جمہوریت کا علم بلند کرنے والے نواز شریف نے بھی سینٹ کے ٹکٹ پیسے والوں کو ہی دیئے ہیں۔ زبیر گل کا ٹکٹ، شاہین بٹ کا ٹکٹ اور دیگر ٹکٹ پر سوالیہ نشان موجود ہیں کہ ان کی مسلم لیگ (ن) سے کیا وابستگی ہے۔ انہوں نے جمہوریت کی کیا خدمت کی ہے۔ اسی طرح آصف زرداری کی جانب سے دی جانے والی چند ٹکٹوں پر بھی اعتراض موجود ہے۔ ایک ٹکٹ ٹھیک دینے سے باقی سب ٹکٹ ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ فاروق ستار کے کامران ٹیسوری کی ٹکٹ بھی پیسے ہی کی کہانی بیان کر رہا تھا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں پارٹی لیڈر کو تو کرپشن کی کھلم کھلا اجازت ہے۔ پارٹی لیڈر کی کرپشن جمہوریت کی چھتری تلے جائز ہے۔ آج یہ سوال کرنے والے کہ اراکین پارلیمنٹ نے پار ٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ کیوں دیئے، یہ سوال کیوں نہیں کر رہے کہ سیاسی جماعتوں کو سینٹ ٹکٹ دینے کا شفاف طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ یہ من مرضی اور جس کو دل چاہا کی سکھا شاہی کیسی جمہوریت ہو سکتی ہے۔ جب ووٹ اراکین اسمبلی نے دینے ہیں تو ٹکٹوں کی تقسیم میں ان کی مشاورت کیوں نہیں۔ کیوں پارٹی کے یہ لیڈر ان اراکین اسمبلی کو بھیڑ بکری سمجھتے ہیں کہ وہ جس کو ٹکٹ دے دیں گے یہ ارکان اس کوووٹ دینے کے پابند ہوں گے۔ ایسے یک طرفہ جمہوریت نہیں چل سکتی۔ یہ تو ایسا لگ رہا ہے کہ ساری کی ساری جمہوریت کا مقصد پارٹی لیڈر کے نام کے مٹھی بھر افراد کو مضبوط سے مضبوط کرنا ہے۔
اراکین پارلیمنٹ سے یہ سوال کرنے سے پہلے کہ انہوں نے کس کو ووٹ دیا اور کس کو ووٹ نہیں دیا ہمیں سیاسی جماعتوں میں جمہوریت قائم کرنی ہوگی۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار کو جمہوری بنانا ہوگا۔ فرد واحد کی صوابدید کو ختم کرنا ہوگا۔ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں آئے گی ملک میں جمہوریت کیسے آسکتی ہے۔ آمریت کا شاہکار سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک میں تو جمہوریت مانگتے ہیں لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کا سایہ بھی آنے دینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر وہ لوگوں کی زندگیوں کے مالک بن جائیں اور سب جمہوریت کے نام پر ان کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔ جو سر اٹھائے وہ قائد کا غدار ہے۔ جو قائد کا غدار ہے۔ وہ جمہوریت کا غدار ہے۔ وہ موت کا حقدار ہے۔ چاہے اس کی بات کتنی ہی جائز کیوں نہ ہو۔ یہ کسی قدر افسوس ناک بات ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں کسی بھی سطح پر کوئی الیکشن نہیں ہے۔ من پسند لوگوں کو من پسند عہدوں پر نامزد کر دیا جاتا ہے۔ یہ سیا سی جماعتیں مکمل آمریت کا شاہکار ہیں۔ سینٹ کی ٹکٹوں کو ہی دیکھ لیں کسی بھی پارٹی نے ان ٹکٹوں کے لئے اپنے کسی بھی فورم سے کوئی منظوری نہیں لی۔ بس ٹکٹیں جا ری کر دی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے اراکین پارلیمنٹ پہلے ہی پارٹی لیڈر کے غلام بن چکے ہیں۔ اب سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے شور میں اراکین پارلیمنٹ کو مزید غلام بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ جب سینٹ انتخابات میں خفیہ رائے دہی کی اجازت دی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے آئین نے اراکین پارلیمنٹ کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے خفیہ رائے دہی سے ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسے میں شور کیسا۔ کیا اراکین پارلیمنٹ نے اپنی اپنی جماعت کی جانب سے دی گئی ٹکٹوں کے خلاف بغاوت کی ہے۔ اس لئے پارٹی لیڈر شور مچا رہے ہیں کہ انہیں ا پنی طاقت کم ہو تی دکھائی دے رہی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ جمہوریت ہے کوئی فوجی بٹالین نہیں ہے۔ جہاں مکمل ڈسپلن نافذ کر دیا جائے۔ یہ جمہوریت ہے اختلاف رائے اس کا حسن ہے کوئی فوجی بٹالین نہیں کہ اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ جمہوریت ہے جہاں سوال کرنے کی اجازت ہے۔ بغاوت کی اجازت ہے۔ کوئی فوجی بٹالین نہیں کہ باغی کی سزا موت ہے۔ یہاں پارٹی لیڈر سے اختلاف ہو سکتا ہے، فوی بٹالین سے نہیں کہ سپہ سالا ر کا حکم ہی آخری حکم ہے۔ پتہ نہیں ہم پارلیمنٹ کو فوجی دربار کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ ایک بادشاہ کا دربار کیوں بنانا چاہتے ہیں جہاں بات کرنے سے پہلے جان کی امان طلب کرنی پڑ جائے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اہل دانش بھی پارٹی لیڈروں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اراکین پارلیمنٹ پر چڑھائی کر دی ہے۔ کوئی کہہ ہی نہیں رہا کہ اراکین پارلیمنٹ سے تب تک سوال نہیں کیا جا سکتا جب تک سیاسی جماعتیں اپنے اندر ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی شفاف نظام وضع نہیں کرتیں۔ جب تک ہر حلقہ انتخاب کے سیاسی کارکن کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے حلقہ کے ٹکٹ کا خود فیصلہ کریں۔ ٹکٹ ان پر اوپر سے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ٹکٹ لینا ہے وہ پارٹی لیڈر کی خوشنودی حا صل کرنے کی بجائے حلقہ کے کارکنوں سے ووٹ حاصل کرے۔ جب سینٹ میں ووٹ اراکین اسمبلی نے ڈالنے ہیں تو ٹکٹ بھی ان کی مرضی سے دیے جانے چاہئے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف اختیار جاتی عمرہ کی تجوری میں بند ہو۔ دوسری طرف اختیار بنی گالہ کے سیف میں بند ہو۔ اور تیسری طرف اختیار بلاول ہاؤس کی اونچی بلند دیواروں میں قید ہو۔ اور جمہوریت بھی چلے۔
ہمیں ملک میں جمہوریت کی سربلندی کے ساتھ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے لئے بھی کام کرنا ہوگا۔ غلاموں سے جمہوریت نہیں چلائی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن بے شک سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی تحقیقات کرے۔ لیکن ہر جماعت میں جمہوریت ہو یہ ممکن بنانا بھی الیکشن کمیشن اور عدلیہ کاکام ہے۔ ورنہ تو جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں میں آمریت مضبوط ہو رہی ہے۔ جو جمہوریت کا قتل ہے۔