مسلمانوں پر ایک اور پابندی
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعہ 09 / مارچ / 2018
- 4842
ہالینڈ، فرانس ، بیلجیم ، اسپین اور اٹلی کے بعد اب سوئزر لینڈ میں بھی برقعہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سوئزر لینڈ یورپ کا چھٹا ملک ہے جہاں پر برقعہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دائیں بازو کی جماعت نے یہ قرارداد پیش کی جس کی تائید میں 102 ووٹ ملے جبکہ 75 ارکان پارلیمنٹ نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ اب اس وادیوں، پہاڑوں ، پھولوں اور چاکلیٹ کی شہرت رکھنے والے اس خوبصورت ملک میں پبلک مقامات، بسوں، شاپنگ سنٹروں اور ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران چہرہ ڈھانپنے پر جرمانہ کی سزا ہو سکے گی۔
پاکستانی معاشرے میں جو پیچیدگیاں اور غلط روایات در آئی ہیں بدقسمتی سے ان پر کم توجہ دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر برقعہ اور نقاب یا پردے کے مفہوم کو لیجئے کہ آج کل پورے معاشرے اور حکومتی ایوانوں میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اسے پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف ٹھہرا بہت کم اہل علم ایسے ہیں جنہوں نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ کسی چیز کا جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہو جانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں الیکٹرانک سہولیات کی وجہ سے کام صرف فتویٰ سے نہیں چلتا۔ ضرورت ہے مشکلات اور مسائل کے حل تلاش کرنے کی۔ میرے حساب سے مشکلات کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل بہت دشوار ہو جاتا ہے اس وقت کوئی ایسی راہ تلاش کرنا پڑتی ہے کہ اس حکم کا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جا سکے۔ یعنی سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے وہ پر ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں پردہ ، نقاب، حجاب وغیرہ کا مسئلہ اس قسم کی پیچیدگی سے دوچار ہے۔ اس سلسلے میں جو سولاات اکثر مسلمانوں کے سامنے آتے ہیں ان سے اس مشکل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً
1) پردے اور نقاب و حجاب کی حدود اور ان کی غایت و غرض کیا ہے؟
2) کیا موجودہ پردہ اسلامی پردی ہے؟ حجاب اور پردہ کن عورتوں کیلئے ضروری ہے؟
3) ہمارے موجودہ پردے میں خامیاں ہیں یا نہیں؟
4) کیا پردہ ہر حال میں واجب ہے؟
پردے سے متعلق اسلامی احکام سے کون باخبر نہیں مگر یہ جو مروجہ پردہ ہے کیا یہ اسلامی پردہ ہے۔ آنکھ والوں کیلئے سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا فتنہ خود ان کی آنکھیں ہیں۔ کیونکہ تمام جنسی فتنے آنکھوں کی راہ ہمارے دل و دماغ میں پہنچ کر تحریک پیدا کرتے ہیں (نابینا افراد کی الگ بحث ہے)۔ نگاہوں پر قابو رکھنا سب سے زیادہ دشوار ہے۔ اس لئے احادیث میں پہلی نظر کیلئے معافی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ اگر نگاہوں پر افراد اور معاشرہ قابو پا لے تو پردے کے تمام مسائل خود بخود طے ہو جاتے ہیں لیکن محال پسندی کی جڑیں انسانی فطرت میں اس طرح گڑی ہوئی ہیں کہ ان کا اکھڑنا دشوار تر ہے۔ ’’اپنی نظریں نیچی رکھو‘‘ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اپنی نظریں ہر آن نیچی رکھو۔ ٹریفک سے بچنے کیلئے، شناخت کیلئے، گھر میں آنے جانے والوں سے گفتگو کیلئے، کام کاج کیلئے ، غرض کہ بہت سے ضروری مقاصد ہیں جن کیلئے پردے کو ترک کرنا پڑے گا۔ ہمارے موجودہ زمانے کا پردہ اگر اسلامی پردے کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے جس سے عورتوں کا چہرہ ڈھکا رہتا ہے تو پھر مردوں کو نیچی نظر رکھنے کا ’’حکم‘‘ کوئی مطلب نہیں رکھتا۔
دور رسالت میں بلکہ خلافت راشدہ میں بھی اس قسم کے پردے کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ غالباً امویوں کے دور میں صرف ایسے نقاب یا حجاب کا وجود تھا جن میں آنکھیں اور ناک کھلی رہتی تھی۔ بعد میں معلوم نہیں کب برصغیر میں پردے، برقع یا نقاب کا رواج یا فیشن شروع ہؤا۔ قرآن نے صرف گھونگٹ نکالنے کا حکم دیا ہے۔ عورتوں کے پردہ کرنے کی ضرورت پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ چہرہ کھلے رکھنے یا پھر اونائے جلباب (گھونگٹ نکالنا) کا حکم اس صورت میں ہے کہ مردوں کی طرف سے نظریں نیچی رکھنا ضروری ہو اور جب مرد ہی اپنی نظریں نیچی نہیں رکھ سکتے تو پھر اس کا علاج چہرہ چھپانا ہی ہے۔ گویا چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت حالات کے بدلنے سے عدم جواز میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے لیکن یہ دلائل کچھ وزنی نہیں۔ کیونکہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قصور تو مردوں کا ہو اور اس کی سزا دی جائے عورتوں کو کہ تم اپنے گھر میں اندر بند ہو جاؤ یا نقاب اوڑھ لو۔ سزا دینا ہے تو ان مردوں کو دیجئے جو اپنی نظریں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
اب رہ گئی بات اونائے جلباب یعنی گھونگٹ نکالنے کی۔ یہ حکم اس لئے ہوا کہ اس سے مسلمان عورتیں پہچان لی جائیں گی اور چھیڑ خانی سے محفوظ رہیں گی۔ لیکن کشور حسین شاد باد میں تو 98 فیصد مسلمان عورتیں ہیں یہاں تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس حکم کے مواقع گھر کے اندر بھی پیش آ سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ جن لوگوں کا ذکر ’’محرم‘‘ کے زمرے میں آتا ہے ان کے علاوہ اور کسی کو ضرورت سے آنا پڑے تو عورت کو گھر کے اندر بھی گھونگٹ نکال لینا چاہئے کہ فتنے اور چھیڑ خانی یہاں بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن دراصل اس کا حکم بیرون خانہ سے ہے۔ ہزاروں ضروریات ایسی پیش آ سکتی ہیں جن کیلئے عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا پڑے۔ اسکولز کالج کیلئے ، خرید و فروخت کیلئے ، تعزیت و عبادت کیلئے، سیر و تفریح کیلئے ، تعلیم و ترقی کیلئے ، کھیتی باڑی کیلئے ، جنگی خدمات کیلئے ۔۔۔۔۔ سب کاموں کیلئے عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ عہد نبوی سے پہلے ، عہد نبوی کے دوران اور عہد نبوی کے بعد بھی یہ ضرورتیں پیش آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔ اس لئے نقاب ، حجاب یا گھونگٹ نکالنے کا جواز بھی آج کے دور میں رد ہوا۔
پردہ دراصل انہی عورتوں کیلئے ہے جن سے یا جن کو خطرات لاحق ہوں۔ خطرہ جس شدت کا ہو حجاب کا حکم بھی اتنی ہی شدت اختیار کرے گا اور خطرے میں جتنی خفیفت ہوگی حکم کی گرفت بھی اتنی ہی خفیف ہو جائے گی۔ یعنی خطرہ اگر ان محرموں سے بھی ہو جن سے پردہ یا حجاب نہیں تو وہاں بھی پردہ کرا دینا چاہئے۔ سوتیلا بیٹا، باپ ، بھانجا ، بھتیجا وغیرہ وہ محرم ہیں جن سے نکاح جائز نہیں لیکن اگر نیتوں میں فتور پیدا ہو جائے تو ان سے بھی حجاب یا پردہ کرنا چاہئے کہ نیتوں کا علم صرف خدا ہی نہیں اس کے نائب بھی جانتے ہیں۔
ہم نے بنا لیا ہے قفس ہی کو آشیاں
یہ دیکھنا ہے گرتی ہیں اب بجلیاں کہاں