پاکستان کی سیاست پر آدھے پاکستانیوں کا کوئی حق نہیں
- تحریر مزمل سہروردی
- ہفتہ 10 / مارچ / 2018
- 5075
آج کل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور دوہری شہریت کے حامل سیاستدانوں کے حق سیاست کے حوالہ سے بہت شور ہے۔ یہ دو اہم معاملات ہیں۔ جو پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ جہاں تک دوہری شہریت کے حامل سیاستدانوں کا تعلق ہے تو اس حوالہ سے میں سمجھتا ہوں کہ دوہری شہریت کے حامل لوگوں کو پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو نی چاہئے۔ یہ پاکستان پاکستانیوں کا پاکستان ہے۔ جو پاکستانی نہیں ہے وہ ہمارے لئے اجنبی ہے۔ اور اجنبیوں کو ہمارے معاملات میں دخل انداذی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔
یہ بھی ایک مذاق ہے کہ آپ ایک دن پہلے کسی دوسرے ملک کی شہریت چھوڑیں اور اگلے دن پاکستان میں پارلیمنٹ کے رکن بن جائیں۔ یہ پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ اس کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جس نے ایک دفعہ پاکستان کی شہریت چھوڑدی کسی دوسرے ملک کی شہریت لے لی کم از کم اس پر پاکستان کی پارلیمنٹ اور پاکستان پر حق حکمرانی کے دروازے بند ہونے چاہئے۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ ایک دن پہلے آپ کسی اور ملک کے شہری تھے پھر آپ کو ٹکٹ مل گیا آپ نے ایک دن پہلے وہ شہریت چھوڑ کر واپس پاکستان کی شہریت لے لی اور آپ کوپاکستان کا حاکم بنا دیا جائے۔ یہ پاکستان کی حکمرانی اغیار کو دینے کا ایک چور درواذہ ہے جس کو فوری بند کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا مذاق کسی دوسرے ملک میں ممکن نہیں ۔ ویسے تو کسی دوسرے ملک میں پیسے کے زور پر پارلیمنٹ کا ٹکٹ خریدنے کا بھی کوئی رواج نہیں۔ یہ ہمارے پیارے پاکستانی جو پاکستان کی شہریت چھوڑ کر امریکہ برطانیہ اور کینیڈا کی شہریت حاصل کر تے ہیں کیا وہاں یہ راتوں رات ممبر پارلیمنٹ بن سکتے ہیں۔ آپ پاکستان سے جتنی مرضی دولت لے جائیں کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اپنی اس دولت کے بل بوتے پر راتوں رات وہاں حکمران جماعت کا ٹکٹ حاصل کر کے پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں۔ وزیر بن جائیں۔ اور اس ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے لگیں۔ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ بے شک وہاں ایک سیاسی عمل موجود ہے۔ جہاں نیچے سے اوپر آنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ شہریت ملنے کے بعد وہاں کی سیاسی جماعتوں میں جگہ بنانا اور پھر کوئی مقام حاصل کرنا ایک لمبا سفر ہے۔ پاکستان جیسے شارٹ کٹ وہاں موجود نہیں ہیں۔
لیکن پاکستان میں ایک چور درواذہ کھل گیا ہے۔ باہر کی دولت کے بل بوتے پر اقتدار کے محلات میں نقب لگانے کا ایک چور راستہ کھل گیا ہے۔ جس کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کی جب اقتدار میں نقب لگ جاتی ہے پاکستان آجاتے ہیں۔ اقتدار کے مزہ لوٹتے ہیں اور جب ا قتدار کے سہانے دن ختم ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے۔ ہنی مون ختم ہو جاتا ہے۔ تو واپس اپنے انہی ممالک میں لوٹ جاتے ہیں۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہاں کے سیاستدان اقتدار کے مزہ لینے تو پاکستان آجاتے ہیں اور اقتدار ختم ہونے کعد لوٹی ہوئی دولت کو انجوائے کرنے واپس باہر چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سیاست اور حکمرانی کا حق صرف اس کو ہونا چاہئے جس کا جینا مرنا پاکستان ہو ۔ جس کا جینا مرنا پاکستان نہیں ہے۔ اس کو پاکستان میں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے لئے پاکستان کی سیاست اور پاکستان کا اقتدار ایک ٹرانزٹ لاؤ نج سے کم کچھ نہیں۔
افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ یہ لوگ جب اقتدار اور سیاست کے مزے لینے ٹرانزٹ پر پاکستان آتے ہیں توان کے بچے اور دیگر گھر والے نہیں آتے۔ وہ اپنی باہر کی شہریت برقرار رکھتے ہیں۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نون لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے بھی غیر ملکی ہیں۔ اور نواز شریف پاکستان کی سیاست کے سردار ہیں۔ ان کے بیٹے نواز شریف کے دور وزارت عظمیٰ میں پاکستان کے سرکاری وفود کا نہ صرف حصہ ہوتے تھے بلکہ پاکستان کے کی طرف سے دیگر ممالک کے سربراہان سے بھی ملتے تھے۔ اور آج جب پاکستان کا قانون انہیں پکار رہا ہے تو وہ یہ کہہ کر لال جھنڈی دکھا رہے ہیں کہ وہ تو پاکستانی نہیں ہیں۔ اور ان پر پاکستان کا قانون لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب جنرل پرویز مشرف ملک کے صدر تھے۔ بلا شکرت غیر حکمران تھے تو ان کا بیٹا بھی امریکہ کا شہری تھا۔ انہیں بھی کوئی شرم نہیں تھی کہ ایک طرف وہ پاکستان کے حکمران ہیں دوسری طرف ان کا بیٹے نے امریکہ کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ چودھری سرور کی مثال بھی سب کے سامنے ہے۔ ان کے بچے بہو بیگم سب برطانیہ کے شہری ہیں ۔ صر ف وہ اکیلے پاکستان کی سیاست میں نقب لگانے آئے ہوئے ہیں۔ کاروبار لندن میں جینا مرنا لندن میں۔
اس لئے سپریم کورٹ کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ لوگ پاکستانی ہیں۔ کب سے پاکستانی ہیں ۔ کم از کم اس کی مدت متعین ہونی چاہئے کہ کون کب سے پاکستانی ہو تو وہ پاکستان میں کسی بھی قسم کا انتخاب لڑنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ راتوں رات پاکستانی بننے والے کیسے الیکشن لڑنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جن کے بچے پاکستانی نہیں ہیں۔ جن کی بیوی یا شوہر پاکستانی نہیں ہیں وہ کیسے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ کم ازکم بچے تو پاکستانی شہری ہونے چاہئے۔ یہ آدھے پاکستانی پاکستان کی کیا خدمت کریں گے۔ ان کی اولاد ان کی دولت سب باہر ہے۔ یہ تو صرف وقتی طور پر ایک نوکری ملنے کی وجہ سے پاکستان آتے ہیں۔ اور نوکری کے ثمرات سمیٹ کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ یہ پاکستان کے ساتھ ظلم ہے۔ اسی طرح جنہوں نے پاکستان کی شہریت چھوڑ دی ہے اور وہ انہوں نے کسی بھی وجہ سے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لی ہے اور اب وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ کیا ان کو پاکستان کی سیاست میں ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن پاکستان ان کی پہلی ترجیح نہیں ہے۔ دوہری شہریت میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہی ہے۔ اس لئے ان کو اتنا سر پر چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے انتخابات میں صرف ان کو ہی حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہئے جو مکمل پاکستانی ہوں۔ آدھے پاکستانیوں کو یہ حق کسی بھی صورت نہیں دیا جا سکتا۔
جو پاکستان میں رہتے نہیں ہیں۔ جن کو پاکستان کے حالات کا علم نہیں۔ وہ ہمارے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہم جب بھی ان آدھے پاکستانیوں کو ملتے ہیں ان کو پاکستان کو کوسنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ ان کے نزدیک سب غلط ہو رہا ہے۔ سب چور ہیں۔آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ ہم سب کو چور سمجھتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم میں خرابیاں نہیں ہیں۔ ہم میں غلطیاں نہیں ہیں۔ لیکن جس طرح یہ کوستے ہیں یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ میں ہر اس پاکستانی کی دل سے قدر کرتا ہوں جس نے خراب حالات میں بھی اس نظام میں اپنے لئے راستہ بنایا ہے۔ جس نے باہر جانے بجائے اس ملک میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔ جس نے ہاہر کے ڈالروں کی بجائے اپنے روپے کو ترجیح دی ہے۔
سپریم کورٹ جہاں پاکستان میں صادق اور امین کی نا اہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے۔ وہاں اس کو یہ بھی طے کرنا چاہئے کہ اگر کوئی کسی دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ کرپاکستان شہریت لیتا ہے تو کم از کم دس سال تک اس کے پارلیمنٹ کے رکن بننے پر پابندی ہونی چاہئے۔ دس سال کے بعد اسے الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے پہلے نہیں۔ اس کے ساتھ بچوں کے بھی پاکستانی ہونا شرط ہونی چاہئے۔ اسی طرح جن بیورکریٹس کے پاس بھی دوہری شہریت ہے انہیں بھی نوکری کا حق نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جن کے بچوں اور بیگمات کے پاس بھی دہوری شہریت ہے انہیں بھی نوکری کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سب پاکستان کے لئے اجنبی ہیں۔ ان نوکریوں اور رپارلیمنٹ کی رکنیت پر صرف اور صرف پاکستانیوں کا حق ہے۔ یہ اتنی فالتو نہیں ہیں کہ دوہری شہریت والوں میں بانٹ دی جائیں۔ ان پر آدھے پاکستانیوں کا بھی کوئی حق نہیں ۔