نواز شریف کون سی بغاوت کررہے ہیں

پاکستان میں ایسے تجزیہ کاروں، کالم نگاروں اور دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو نواز شریف کی حالیہ محاذ آرائی کو جمہوریت کیلئے جدو جہد اور اینٹی سیٹبلشمنٹ بیانیہ قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ روز بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے اپنے آپ کو باغی قرار دیا۔  یاد رہے کچھ ماہ قبل وہ خود کو نظریاتی اور انقلابی قرار دے چکے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا وہ کس کے خلاف بغاوت کرنے جا رہے ہیں اور اس کے مقاصد  کیا ہیں۔  وہ اور ان کے بھائی 35سال تک اس نظام میں شریک اقتدار  رہے ہیں اور ابھی تک ان کی حکومتیں صوبہ پنجاب، وفاق اور آزاد کشمیر میں موجود ہیں ۔ ان کو نظام میں ہونے والی نا انصافیوں کا اس وقت خیال آیا ہے جبکہ عدالت عالیہ کے فیصلے کی وجہ سے وزارت اعظمیٰ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

ہم روزانہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے حوالے سے اخباروں میں مضامین اور ٹی وی ٹاکس دیکھتے ہیں جس میں تجزیہ نگار عدالت عالیہ کی حمایت میں بہت آگے جا چکے ہیں۔ بلکہ انہیں پاکستان تبدیل ہوتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔ یہاں پر نیا پاکستان بنانے کی دعویدار جماعت تحریک انصاف بھی موجود ہے۔ پاکستان میں نظام اور اداروں کے ناروا سلوک کے خلاف صرف صحافیوں، وکلاء ، بائیں بازو کے کارکنوں اور پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا جو کہ پاکستان میں مزاحمتی سیاست کا بھرپور استعارہ ہے۔ جبکہ ایسی صورتحال مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ نہیں رہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی اہم لیڈر شپ کا تعلق ایک ہی طبقے سے ہے جن کی اخلاقی روایات ایک جیسی ہیں۔ آج ہمیں مسلم لیگ کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ رول محض اپنی خاندانی سیاست کی اجارہ داریوں کو بچانے کیلئے ہے تو دوسری طرف ملک کے اصل حکمران کسی نئی قیادت کی تلاش میں ہے۔ میاں نواز شریف کی اسٹیبشلمنٹ کیلئے ماضی کی خدمات کے بارے میں شاید ہمارے عوام کی یاداشت کمزور ہے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد جمہوریت پسند قوتیں ایم آر ڈی کی شکل میں اکٹھی ہو رہیں تھیں تو میاں نواز شریف اس وقت1980میں جنرل جیلانی کے قائم کردہ بورڈ کے ممبر بن گئے۔ پھر 1983میں صوبائی وزیر خزانہ کا عہدہ حاصل کیا۔ 1985میں جنرل ضیاء الحق کی حمایت سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کی اور یوں ضیاء مارشل لاء کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ 29مئی 1988کو جب جنرل ضیاء نے اپنی بنائی ہوئی اسمبلی کو توڑ دیا اور وزیر اعظم جونیجو کو برطرف کر دیا گیا تو میاں صاحب نے اپنی پارٹی کے صدر جونیجو کی حمایت کرنے کی بجائے صدر ضیاء کے اقدامات کی حمایت کر کے نگران وزیر اعلیٰ بن گئے۔

1988میں بے نظیر بھٹو کو حکومت ملی تو غلام اسحاق خان کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں بجائے اس کے کہ میاں صاحب جمہوریت کو مضبوط کرتے، انہوں نے بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے کروڑوں خرچ کر کے اس کی حکومت کو عدم استحکام کا نشانہ بنوانا شروع کر دیا۔ پھر 1990میں صدر فضل غلام اسحاق خان نے58ٹوBکے تخت بے نظیر حکومت کو بر طرف کیا تو میاں نواز شریف نے مذمت کرنے کی بجائے اس کا خیر مقدم کیا اور اسلامی جمہوری اتحاد کے راہنما غلام مصطفی جتوئی کو نگران و وزیر اعلیٰ بنوایا۔  بے نظیر حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے بھاری رقوم حاصل کیں۔ 1994میں بے نظیر دوبارہ وزیر اعظم بنی تو میاں صاحب نے میاں فاروق لغاری کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا پھر اس کے ساتھ مل کر بے نظیر کی اسمبلی توڑوا دی۔ 1999میں جب مشرف نے مارشل لاء لگوایا اور میاں صاحب کو جیل میں ڈالا تو انہوں نے جیل میں جمہوریت کی جدو جہد کرنے کی بجائے ایک معاہدے کے تحت بیرون ملک منتقل ہونا بہتر سمجھا۔ 2008میں زرداری کی حکومت آئی اور افتخار چوہدری نے ٹف ٹائم دینا شروع کیا یوسف رضا گیلانی کو سوئزر لینڈ کی حکومت کو خط نہ لکھنے پاوش میں نا اہل قرار دیا تو انہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ 2012میں میمو سکینڈل کے دوران عدالت میں کالا کوٹ پہن کر صدر زرداری پر بغاوت کا مقدمہ درج کروانے چلئے گئے۔  قدرت نے میاں نواز شریف کو ملک میں آئینی اصلاحات کے ذریعے نظام عدل اور معاش کو بہتر بنوانے کے کئی موقع فراہم کیے مگر ہر موقع پر طبقاتی اور مالیاتی مفادات کیلئے سمجھوتے کیے۔ آج میاں صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے دراصل یہ سازش ان کی پنجاب میں قائم 35سالہ انداز حکومت کےخلاف ہو رہی ہے  ۔جس کے دوران انہوں نے ہر محکمہ میں اپنا ذاتی نیٹ ورک تشکیل دیا ہے اور جس کی انہیں در پردہ حمایت حاصل ہے اور ان جیسی زبان کسی دوسرے صوبے کا لیڈر بولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔

ان کے جلسے جلوسوں میں کارکنوں کو اداروں کے خلاف لڑائی کیلئے ابھارا جا رہا ہے جس کا حتمی انجام ریاست اور اداروں کیلئے کبھی مثبت نہیں ہو سکتا ہے بلکہ خود احتسابی سے بچانے کیلئے کسی تیسری قوت کیلئے اقتدار سنبھالنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ 1980سے لے کر2018تک مسلم لیگ حکمران طبقات کے قریب رہی ہے۔ جب تک عدالتی فیصلے ان کے حق میں آتے رہے، اس وقت پی سی او ججوں یا نظام عدل میں خرابی دکھائی نہیں دی ہے مگر اب یہ تمام سسٹم ناقص اور نا انصافی پر مبنی نظر آنے لگا ہے، اس ساری صورتحال کو سمجھنے کیلئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے آج نہ تو سیاست ماضی جیسی ہے اور نہ فوج عالمگیریت کا نیو ورلڈ آرڈر مشرقی وسطی میں خانہ جنگیوں اور افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ سے دو چار ہے۔ ہمارے تجزیہ نگار ماضی کے تناظر  میں آمریت اور جمہوریت کا فار مولا لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کا پاکستان نئی سیاسی مالیاتی، سماجی اور ثقافتی بحرانی کیفیات سے دو چار ہے۔ مشرق وسطیٰ کا گہرا ہوتا ہوا بحران یا چین کی طاقت کا ابھار سعودی عرب میں جدیدیت کیلئے مذہبی ترمیم پسندی، پاکستان میں پنجاب سے ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی،  یہ تمام نئے عوامل ہیں آج کی سیاست کا ماضی کے ساتھ موزانہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ پیپلز پارٹی ہو جو کہ ماضی میں غریب کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کی بات کرتی تھی۔ آج اس میں بھی پالیسیوں کے حوالے سے داخلی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے جس کو رضا ربانی کے چیئرمین سینیٹ بننے کی حمایت نہ کرنے اور فرحت اللہ بابر کے سینیٹ میں بیان کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بلوچستان کی قوم پرست پارٹیاں اپنی سماجی حمایت کھو چکی ہیں۔ تحریک انصاف سماج کے کسی بھی حصے کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں حقیقی ایشوز جن کا تعلق مہنگائی، بیروز گاری، معاشی اور سماجی بحرانوں سے ہے، اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں میں بڑا خلاء موجود ہے۔ جس کو مسلم لیگ اپنے اداراتی مخالف بیانیے کے زیر اثر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پرانے چہروں کے ذریعے نئے لیبل کے ساتھ عوام کو معاشی اور سماجی ترقی کے سنہرے خواب دیکھانے کا گمراہ کن عمل جاری رکھا جائے گا۔ ملک کی منتشر بائیں بازو اور لبرل طبقات کو عوامی حقوق کیلئے اپنی تحریک کومنظم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ترقی پسندوں کے پاس ہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے لائحہ عمل موجود ہے۔