جام ساقی! تاریخ توکھے نہ وسرائیندی

پاکستان میں عوامی جمہوری جدوجہد اور سماجی انصاف کی تحریک کا آفتاب کامریڈ جام ساقی غروب ہوگیا۔ جام ساقی طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ساڑھے گیارہ بجے دن، میں ایک سڑک کے کنارے کھڑا تھا جب مجھے میرے ایک دوست نے اس افسوسناک خبر سے آگاہ کیا۔ میں ایک لمحے کے لیے سُن ہو کر رہ گیا اور گئے دنوں کی ایک فلم میرے ذہن کے پردے پہ چلنے لگی ۔

کامریڈ جام ساقی پاکستان کی سیاست میں سوشلسٹ سیاسی روایت کے اس کارنامے کی دین تھے جس نے پاکستان کے اندر انتہائی پسے ہوئے، مجبور و محکوم طبقات سے سیاسی قیادت پیدا کی اور محنت کش طبقات کے اندر خود اپنی قیادت کرنے کی اہلیت پیدا ہوئی۔ جام ساقی 1943 میں تھر پارکر کے ایک انتہائی پسماندہ تحصیل چھاچھرو کے گوٹھ جھنجھی میں پیدا ہوئے ۔ اس گاؤں میں ان کے والد ایک پرائمری استاد تھے اور چند پڑھے لکھوں میں سے ایک تھے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب روس میں اشتراکی انقلاب آچکا تھا اور ہٹلر کا فاشزم یورپ اور ایشیا کی سرحدوں پہ دستک دے رہا تھا۔ جام ساقی نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ کیسے انہوں نے اپنے ابا اور وہاں کے چند محنت کشوں سے سنا کہ لینن نے مزدوروں کی ایک فوج بنائی ہے اور پھر جام ساقی، جنہیں قدرتی طور پہ خطابت کا ملکہ حاصل تھا، نے سکول کے جلسے میں تقریر کی۔ ان کا انداز پرائمری سکول کے ریٹائرڈ استاد عنایت اللہ کو پسند آگیا جن کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے تھا۔ انہوں نے جام ساقی پہ نظر رکھنا شروع کردی۔ پھر یہی استاد حیدر آباد میں جام ساقی کے بائیں بازو اور قوم پرستانہ سیاست کرنے والوں سے روابط کا ذریعہ بنے ۔ جام ساقی سب سے پہلے حیدرآباد سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کے میدان میں نظر آئے ۔ غالب امکان یہ ہے کہ سٹوڈنٹس پالیٹکس میں متحرک ہونے میں ان کی رہنمائی کامریڈ عزیز سلام بخاری نے کی جو خود کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سرکردہ رہنما تھے۔ اور ان سے کامریڈ جام ساقی استاد عنایت اللہ ے یذریعے متعارف ہوئے تھے ۔

دس نومبر 1964 کو حیدرآباد سٹونٹس فیڈریشن بنی اور پھراس کے بعد 1965 میں سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور جام ساقی اس پلیٹ فارم سے سیاست میں متحرک ہوگئے ۔ اس زمانے میں جام ساقی کی سیاست کا محور ون یونٹ کی مخالفت، سندھ کو قومی زبان کا درجہ دلانا اور سندھی کو پورے سندھ کے تعلیمی اداروں میں لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرانا اور ملک میں جمہوریت کی بحالی تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایوب خان کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں کافی متحرک تھیں۔ خاص طور پہ انڈر گراؤنڈ کام کرنے والی کالعدم کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان جو اس وقت ایک طرف تو مزدور، کسانوں، ہاریوں اور طالب علموں میں مختلف محاذوں میں کام کررہی تھی تو دوسری طرف اس کے کارکن اور کیڈر اس وقت کی ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے اندر کام کررہے تھے ۔ اس دوران جام ساقی نے طلبا حقوق کی تحریک چلائی۔ سندھ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی برطرفی اور یونیورسٹی میں بے جا مداخلت کے خلاف حیدرآباد سٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاج کیا اور اس کے تحت چار مارچ 1967 کو ان کی قیادت میں ایک بڑا جلوس نکلا جس پہ پولیس نے تشدد کیا اور وہ اپنے دیگر 200 ساتھیوں سمیت گرفتار ہوگئے ۔ یہ واقعہ ’چار مارچ تحریک‘ کے نام سے مشہور ہے  جام ساقی نے اس تحریک کو ون یونٹ کے خلاف تحریک میں بدل دیا تھا۔ وہ ایوب خان کے زمانے میں مسلسل گرفتار ہوتے رہے اور 69 تک جیلوں میں وقفے وقفے سے جاتے رہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بھی ان کی نہ بن سکی اور ان کے زمانے میں بھی وہ حیدر آباد سازش کیس میں ملوث کر دیئے گئے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جاتے رہے ۔ کامریڈ جام ساقی خصوصی فوجی عدالت میں پیش ہوئے تو بے نظیر بھٹو ان کے حق میں گواہی دینے پہنچیں۔

جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں اس ملک پر شب خون مارا تو   پہلے جام ساقی گرفتار ہوئے اور پھر کمیونسٹ رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد۔ گرفتار ہونے والوں میں جمال نقوی، سہیل سانگی، میر تھیبو بدر ابڑو، کمال وارثی اور شبیر شر بھی شامل تھے ۔ اسیری کے ان دنوں میں 19 جنوری 1979 میں ان کی جیل میں تشدد کے سبب موت کی افواہ پھیل گئی۔ یہ افواہ سن کر ان کی بیوی نے خودکشی کرلی۔ ان سب کمیونسٹ رہنماؤں پہ ملک سے غداری کرنے اور بغاوت کرنے کا مقدمہ چلایا گیا۔ مقدمے کی سماعت کراچی جیل میں قائم خصوصی عدالت میں کی گئی اور یہی وہ معروف کیس تھا جس میں جام ساقی کے حق میں گواہی دینے کے لیے  محترمہ بے نظیر بھٹو کراچی جیل کی خصوصی عدالت میں پہنچی تھیں ۔اس موقعے پہ لی گئی تصویر اخبارات کی زینت بنی اور اس کا بہت چرچا ہوا۔ یہ کیس جام ساقی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ جام ساقی پہ اس زمانے پہ سخت تشدد کیا گیا۔  وہ آٹھ سال ضیا الحق کی قید میں رہے ۔ 1986 میں بین الاقوامی دباؤ کے بڑھ جانے پہ ان کو رہا کیا گیا تو ان کی حالت نہایت ابتر تھی۔ جام ساقی نے 1966 سے لے کر 1986 تک کُل 15 سال جیل کاٹی۔ انہیں چاروں صوبوں کی جیلوں میں رکھا گیا۔

وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے چین نواز اور ماسکو نواز دھڑوں میں تقسیم ہونے پہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان ماسکو نواز گروپ کا حصّہ بنے جس کی سربراہی امام نازش کامریڈ کررہے تھے۔ اور بعد ازاں جمال نقوی کرتے رہے ۔ وہ 1967 میں سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پہلے بانی صدر بنے تھے ۔ جام ساقی نے 88  میں پیپلز پارٹی کے خلاف تھر سے الیکش لڑا اور ہار گئے ۔ 1990 میں وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری بھی بنے لیکن محض ایک سال بعد انہوں نے کمیونسٹ پارٹی چھوڑ دی اور ٹراٹسکائٹ گروپ آئی ایم ٹی طبقاتی جدوجہد میں شامل ہوگئے جو پی پی پی میں انٹر ازم کررہا تھا اور 1994 میں شاید اسی کے اثر میں وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے چیف منسٹر سندھ عبداللہ شاہ کے مشیر کے طور پہ بھی کام کیا ۔ وہ اس دوران کمیونسٹ پارٹی اور کمیونزم کے کچھ تصورات اور پالیسیوں پہ بھی تنقید کرتے نظر آئے ۔ جام ساقی نے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان میں بھی خدمات انجام دیں۔ ہاریوں کے حوالے سے حقائق جمع کرنے وہ ایک بار ارباب رحیم سابق چیف منسٹر کے گاؤں گئے تو ارباب رحیم نے انتقامی کارروائی کے تحت ان کی بیوی کو گرفتار کرادیا۔ جام ساقی نے ساری زندگی افتادگان خاک کے لیے آواز بلند کی اور وہ کبھی اپنے محنت کش اور کسان ساتھیوں کو نہیں بھولے ۔

انہوں نے ایک ناول’کھاڑوی کھجن‘ لکھا اور جام ساقی کیس کی روداد سندھی میں قلمبند کی ۔ ان کی اردو میں سوانح عمری احمد سلیم نے مرتب کی ہے ۔ کامریڈ جام ساقی پاکستان میں کمیونسٹ تحریک کا برین چائلڈ اور اس بات کا زمینی ٹھوس ثبوت تھے کہ غریبوں میں قیادت کرنے اور اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنے کی اہلیت اور صلاحیت ہوتی ہے ۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو اپنے ایک طبقے کا رکن ہونے اور اپنی قیادت خود کرنے کا یقین دلایا جائے اور ان کی طبقاتی فلسفے کی روشنی میں تربیت کی جائے ۔ جام ساقی مارچ میں ابدی نیند سو گئے ۔

اسی مارچ کی 7 تاریخ سن 1887 کو اشتراکی فلسفے کے عظیم معمار فریڈرک اینگلس نے کارل مارکس کی قبر پہ کھڑے ہوکر کہا تھا: On the 14th of March, the greatest living thinker ceased to think.( 14مارچ کو ایک عظیم مفکر نے سوچنا بند کردیا)۔
میں کہتا ہوں کہ 6 مارچ 2018 کو 11 بجے صبح پاکستان میں ایک عظیم انسان دوست دانشور نے نہ صرف سوچنا بند کیا بلکہ وہ بھی کارل مارکس کی طرح سانس لینا بھی چھوڑ گیا۔  کامریڈ جام ساقی نے سندھی میں لکھی اپنی آپ بیتی کو ’تاریخ موکھے نہ وسرائیندی‘ ( تاریخ مجھے کبھی نہیں بھولے گی) کا عنوان دیا تھا۔ میں کہتا ہوں، جام ساقی! تاریخ توکھے نہ وسرائیندی ۔۔۔ تاریخ واقعی تمہیں نہیں بھولے گی۔