پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 11 / مارچ / 2018
- 5619
پاکستان ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جو مشرق وسطی اور وسط ایشیا کے پار قریب ترین ملک ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے دنیا و خطے کی بہت سی طاقتیں اس پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو جہاں اپنی جغرافیائی اہمیت کا مان ہے اور سی پیک جیسے کئی مفاد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ وہیں اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو باخوبی علم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کی بدولت بہت سے ممالک جیسے بھارت و امریکہ اسے کمزور و غیر مستحکم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔
پاکستان میں پھیلتی افراتفری ، عدم مساوات اور انتہا پسندی انہیں طاقتوں کی منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان معرض وجو د سے ہی بہت سے اقتصادی انتظامی اور سماجی مسائل کا شکار تھا۔ وقت کے ساتھ کچھ پر قابو پالیا گیا۔ مگر کچھ مسائل گمبھیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومتیں ہمیشہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہیں۔ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملکی و غیر ملکی قرضوں کی دوڑ میں مگن ہو گئیں ۔تمام حکومتوں نے بنیادی مسائل کو حل کرکے اقتصادی و سماجی مسائل پر کنٹرول پانے کی بجائے، وقتی قرضوں کی بدولت اپنی نااہلیوں کو چھپایا۔ پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں ملکی و غیر ملکی قرضے سر فہرست ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا صرف پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 10کھرب22ارب روپے ہوگیا ہے۔ قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے مگر ہمارا قرض قریب جی ڈی پی کے75فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ چار سال میں پاکستان کے قرضوں میں12ہزار500ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ موجودہ ملکی و غیر ملکی قرض کا حجم26ہزار814ارب ہے۔ جس میں غیر ملکی قرض کا حجم9ہزار816ارب کے لگ بھگ ہے ۔ پاکستانی کی اقتصادی و سماجی ترقی میں قرضے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان ان قرضوں پر ہر سال اربوں روپے سود دیتا ہے اور اصلی قرض بڑھتا چلا جا رہاہے جو ہماری معیشت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اسی طرح ہماری خودمختاری بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اسی قرض کی بدولت ہمیں غیر ممالک کو اپنے بہت سے معاملات میں رسائی دینا پڑتی ہے۔ جو ہمارے سماج پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں۔
بڑھتی آبادی، پاکستان کی بڑھتی آبادی اور محدود وسائل پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی 3کروڑ کے لگ بھگ تھی ۔ موجودہ 2017کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی21کروڑ ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عام آدمی یومیہ 2ڈالر کے قریب کماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غربت و افلاس ہے۔ لوگ سماجی و اقتصادی مسائل سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے۔ آبادی و معیشت پر کنٹرول صفر ہے۔ ایک اچھی و معیاری زندگی بسر کرنے کے لئے حکومت کو عوام میں آبادی کے کنٹرول کے حوالے سے آگاہی دینی چاہئے ۔تا کہ آبادی و وسائل میں توازن قائم رہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 80فیصد دیہاتی لوگ خط غربت سے نیچے بنیادی سہولیات سے محروم زندگی بسر کررہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومتی رپورٹ کے مطابق44فیصد لوگ غربت کی زندگی بسر کرہے ہیں۔ فاٹا میں 60فیصد لوگ غط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے مزید علاقے جیسے تھر جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسی محرومی کے باعث وہ دشمن کے ہاتھوں اونے پونے اپنا ایمان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ جو ہماری ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا سبب ہے۔
تعلیم ہی ایک ایسا زریعہ ہے جو لوگوں کو صبر اور شعور فراہم کرتا ہے اور معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ہی بہت کمزور اور ناقص ہے۔ بہت سے علاقے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ قریب79فیصد پاکستانی میٹرک سے نیچے یعنی انڈر میٹرک ہیں۔ تعلیم معاشرے کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ تعلیم کا فقدان ہی معاشرتی و سماجی برائیوں کو جنم دیتا ہے اور معاشرہ ہر لحاظ سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔ بے روزگاری مجبور و لاچار لوگوں کے لئے جلتی پر تیل کا کام انجام دیتی ہے۔ بہت سے لوگ روزگار سے محروم اور معاشرے سے نالاں ہو کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بہت سے لوگ روزگار کے لئے دشمن کے عزائم کا حصہ بن کر دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔ پاکستان میں جن کو روزگار کا موقع ہی میسر نہیں ہوتا وہ دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ آخر کار ایک وقت ان کے لئے اچھا برا سب تمیز ختم ہوجاتی ہے اور متعدد بدعنوانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بجلی کی بندش نے لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو سوالیہ نشان بنا رکھا ہے۔ سینکڑوں کاروبار ی افراد دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ معاشی عدم استحکام کے باعث معاشرہ ناپاک عزائم میں دشمن کا ہم نوا بن رہا ہے۔
کرپشن ایک بڑا ناسور ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کھوکھلا کر رہا ہے۔ ملک میں نانصافی کو فروغ دے رہا ہے۔ لوگوں کی حق تلفی ہورہی ہے۔ کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق پاکستان 175میں سے 127نمبر پر ہے یعنی پاکستان میں 127ممالک سے زیادہ شرح کرپشن ہے۔ پاکستان میں سیاستدان، بیوروکریٹ ، افواج، پولیس ، ججز اور بہت سے ادارے و عام لوگ کرپشن جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ جو ہماری ترقی کے راستے میں آئے روز سوراخ کر رہے ہیں، گڑھے کھود رہے ہیں اور ہماری ترقی انہیں گڑھوں میں رک جاتی ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگوں میں کافی نقصان اٹھایاہے۔ مگر 9/11 کے بعد سے امریکہ نے جہاں پاکستان کی دفاعی معاملات میں مدد کی وہیں ہمارے سماجی و اقتصادی مسائل بھی بڑھنے لگے۔ پاکستان کی طالبان کے لئے حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، امریکہ نے بین الاقوامی پریشر کی بدولت (وار آن ٹیرر)دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے نام پر بہت سی انتہا پسند تنظیموں اور افغانستان کو پاکستان کے مخالف کروا دیا۔ بعد ازاں امریکی اثرات کی بدولت یہی دہشگردوں کے خلاف جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوگئی اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں کی صورت میں سامنے آنے لگے۔ امریکہ اور دہشتگردوں نے پاکستان کو یرغمال بنانا شروع کر دیا۔ پاکستان نے امریکی دوستی کی شکل میں اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں 40بلین ڈالرز کا نقصان اٹھایا۔ لاکھوں جانوں جن میں سویلین شہریوں اور فوجی جوانوں کو قربان کیا۔ بدلے میں امریکہ کی طرف سے متعدد سختیوں سے مشروط اتحادی فنڈ جو کہ1.2 بلین سالانہ تاخیر اور ٹال مٹول کے ساتھ دیا جاتا رہا۔ شرائط ایسی کے پاکستان اس فنڈ کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس فنڈ کے بدلے دہشتگردی کی مدد کا ٹیگ ملا اور دہشتگردوں کی دشمنی۔ مارکیٹ میں امریکی اسمگل شدہ اسلحہ براستہ افغانستان ملا جو انتہا پسندی کے فروغ کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو برسوں سے روکے ہوئے ہے۔
بھارت نے اپنے برسوں پرانے نمبرداری کے خواب کو پورا کرنے کے لئے بلی چوہے کا کھیل رچایا ہوا ہے ۔ بھارت خطے میں موجود ممالک بالخصوص پاکستان کو اپنے اثر کی بدولت دبانا چاہتا ہے۔ بھارت کشمیر پر جبری قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ پاکستان کو کشمیر پالیسی کی بدولت اقتصادی سطح پر بہت سے نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کا پانی روکنے کے لئے دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہا ہے جو ہماری زراعت اور معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ بھارت پاکستان کو مسلسل مختلف محاذوں پر الجھائے ہوئے ہے جس میں ورکنگ باؤنڈری ، افغانستان ، ایران اور کشمیر وغیرہ۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں39000کے قریب بھارتی سپاہی موجود ہیں جن کا مقصد پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینا ہے اور براستہ افغانستان پاکستان کی تجارت کو روکنا ہے۔ یہی نہیں بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی معاملات میں بھی نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
ایسے بہت سے مزید چھوٹے بڑے عناصر ہیں جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ ان کا حل بہت ضروری ہے۔ یہ حل فوری ہونا چاہئیے تاکہ پاکستان آنے والے مزید چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔