معاشرہ سیاسی انتہا پسندی کی راہ پر

حقیقت تلخ اور کڑوی ہوتی ہے۔ لیکن حقائق سے صرف اس لئے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں یا لکھنا ترک نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے یا اپنی بدنامی کا خوف  ہے ۔ ہمارے یہاں شادیوں میں بہت ساری رسومات میں سے ایک رسم جوتا چھپائی کی بھی ہوتی ہے مگر جوتا مارنے کی کوئی باقاعدہ رسم ہمارے معاشرے میں رائج نہیں۔ لیکن اب کشیدہ سیاسی ماحول میں سیاسی لیڈروں پر جوتا مارنے کو روایت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ایسے واقعات سامنے آئے جن میں سیاسی لیڈر ایسی ہی نازیبا حرکت کا نشانہ بنے۔   ان میں ایک واقعہ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔  پھر میاں نواز شریف  پر جامعہ نعیمیہ کے دورے کے دوران جوتا پھیکا گیا۔ کل گجرات مین عمران خان کے جلسہ کے دوران جوتا پھینکا گیا جو عمران خان کی بجائے ان کے ساتھ کھڑے علیم خان کو لگا۔

یہ واقعات  سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ عوام میں سیاسی ہیجان کس حد تک بڑھ رہا ہے ۔ جوتے مارنے کے واقعات ساری دنیا میں ہوتے رہے ہیں جو ناپسندیدگی کی علامت  ہے۔  طرز حکومت یا پالیسیوں خلاف اظہار کا ایک اتنہائی غیر اخلاقی اور  نفرت انگیز طریقہ ہے۔  پاکستانیوں کیلئے یہ  ایسے واقعات نہیں کہ جن کو لے کر کم از کم ہم من حیث القوم پریشان ہوجائیں کیونکہ کسی بھی بات پر شرمندگی کیلئے علم کا ہونا بہت ضروری ہے اور ہم تو لفظ علم سے ہی لاعلم ظاہر ہوتے جا رہے  ہیں۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ایک ایک کرکے جوتا مارنے کے واقعات کس حد تک پہنچتے ہیں۔ 

قوم کو اس نہج تک پہنچانے میں ان جوتا کھانے والے لوگوں کا بھی ہاتھ ہے۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ ہیجانی کیفیت نے بعض افراد کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ وہ اس مذموم طریقے پر اتر آئے ہیں۔  یہ صرف ایک پارٹی یا  سیاسی جماعت کا مسلۂ نہیں ہے۔ اگر یہ نازیبا روایت زور پکڑ گئی تو  پھر یہ قوم نہ عمران خان کو دیکھے گی ، نہ زرداری  کو اور نہ ہی کسی اور سیاستدان کو برداشت کرے گی۔  لوگ اب  سیاستدانوں سے بدظن ہونے لگے ہیں۔ اس  سیاسی انتہا پسندی کو روکنے کے لئے سیاست دانوں کو ہی عقل کے ناخن لینے ہوں گے۔