یہ جوتا کہاں سے آیا ہے
- تحریر محمدعامرحسینی
- بدھ 14 / مارچ / 2018
- 5990
نواز شریف جامعہ نعیمیہ لاہور میں ادارے کے بانی مفتی محمد حسین نعیمی کی برسی کے اجتماع میں خطاب کے لیے سٹیج پہ پہنچے تو ان پہ ایک شخص نے جوتا دے مارا۔ یہ واقعہ خواجہ آصف پہ ورکرز کنونش سیالکوٹ میں تقریر کے دوران سیاہی پھینکے جانے کے ایک دن بعد ہوا۔ اس سے پہلے احسن اقبال کو نارووال میں جوتے کا سامنا ہوا تھا ۔ سیاہی پھینکنے اور جوتا مارنے جیسے احتجاج کے بارے ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ یہ کام بریلوی مسلک کی شدت پسند تنظیم تحریک لبیک یارسول اللہ کے حامیوں کا ہے جن کے خیال میں مسلم لیگ نواز نے ختم نبوت میں قانون میں ترمیم کی کوشش کرکے ان کے جذبات مجروح کیے ہیں۔
پاکستان کے صحافت کے مرکزی دھارے اور سوشل میڈیا پہ ان واقعات کے سامنے آنے پہ ایک نقطہ نظر یہ سامنے آرہا ہے کہ پاکستان میں ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کی نواز شریف کے خلاف مذہبی کارڈ کے استعمال کی کوشش آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ اور نواز شریف کے خلاف بریلوی مکتبہ فکر کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل تجزیہ نگاروں، جن میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کئی بڑے بڑے نام شامل ہیں، کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ لڑائی کو شکست دینے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے ۔ لیکن اس سوچ کے حامیوں کے پاس اس بات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں بریلوی مولوی سیاست دان، پیر، دیوبندی اور اہلحدیث، تکفیری،غیر تکفیری، جہادی، غیر جہادی، فرقہ پرست، غیر فرقہ پرست مذہبی عناصر موجود ہیں۔ وہ یہی کارڈ خود دوسری جماعتوں اور سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنے سے باز نہیں آتے ۔ اس موقعے پہ نواز شریف کی بریلوی سیاسی رویہ کا آج تک کی تاریخ میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ایسا جائزہ جو کم از کم نواز شریف کا حامی لبرل کیمپ بھی لینے کو تیار نہیں ہے ۔ جنرل ضیاالحق اور اس کے پیچھے کھڑی اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اپنے اقتدار کو طویل دینے کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ پاکستان پیپلزپارٹی تھی تو دوسری جانب جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام، جمعیت اہلحدیث پاکستان جیسی سیاسی مذہبی جماعتیں۔ بریلویوں، دیوبندیوں اور اہلحدیث کی نمائندہ ان سیاسی جماعتوں کی اس وقت کی قیادت جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خلاف ہوچکی تھی۔
مولانا نورانی اگرچہ ایم آر ڈی میں شامل نہیں ہوئے لیکن وہ بہرحال ضیا الحق کو چلے جانے کا کہہ رہے تھے اور ایم آر ڈی کے مطالبے کی حمایت کر رہے تھے ۔ علامہ احسان الہیٰ ظہیر اور مولانا فضل الرحمان ایم آر ڈی میں شامل ہوگئے اور جنرل ضیا الحق کی مخالفت شروع کردی۔ جماعت اسلامی میں کراچی کے اکثر رہنما جن میں پروفیسر عبدالغفور سرفہرست تھے ، ضیاالحق کے خلاف تھے اور ان سے ضیاالحق کو باقاعدہ خطرہ محسوس ہورہا تھا۔ جنرل ضیاالحق نے بریلوی مکتبہ فکر کی سب سے طاقتور سیاسی نمائندہ جماعت جمعیت
علمائے پاکستان میں نقب لگائی ۔سیال شریف، فیصل آباد، لاہور، کراچی اور حیدرآباد سے جے یو پی کے طاقتور لوگ توڑ لیے گئے ۔ نورانی میاں کا ساتھ چھوڑنے والوں میں لاہور سے سب سے بڑا نام ڈاکٹر سرفراز نعیمی کا تھا۔ فیصل آباد سے فضل کریم، سیال شریف سے صاحبزادہ حمید الدین سیالوی، حیدرآباد و کراچی سے عثمان کنیڈی، ظہور الحسن بھوپالی، حاجی حنیف طیب، شفیع اوکاڑوی اور ایک اور نام عبدالمصطفیٰ رضوی۔ جنرل ضیاالحق نے جے یوپی کو پیچھے رہ کر سپورٹ کرنے والے پنجاب کے کئی اور اہم پیر گھرانوں کو بھی جے یو پی نورانی کا ساتھ چھوڑنے پہ یا خاموش ہونے پہ مجبور کیا۔ ان میں حامد سعید کاظمی کے والد احمد سعید کاظمی بھی شامل ہیں جنہیں بہاولپور میں اسلامیہ یونیورسٹی میں لگایا گیا۔ پیر کرم شاہ الازھری شرعی عدالت کے جج بن گئے ۔ قاری حنیف طیب وفاقی وزیر مذہبی امور بنے ۔
جنرل ضیاالحق اور ان کی پشت پہ کھڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ریاستی سیٹ اپ نے جے یو پی کو کمزور کرنے کے لیے بریلوی مکتبہ فکر میں نقب لگا کر الگ کیے گئے افراد کو اس زمانے میں اپنے ابھرتے ہوئے سیاسی جانشین نواز شریف کی جھولی میں ڈال دیا بلکہ انہیں (نواز شریف کو) یہ بھی سکھا دیا گیا کہ مذہبی سیاست کے بالغ سیاست دان ان کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت کریں تو انہیں کیسے لگام ڈالنی ہے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد جب ضیاالحق کی اسلامائزیشن پہ تنقید کرنے لگے تو نواز شریف کے والد میاں شریف نے ڈاکٹر طاہر القادری کو سامنے لاکھڑا کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نوجوان تھے اور سیاسی داؤ بیچ سے ابھی بے خبر۔ وہ اپنے آگے کھلتے رستے دیکھ کر آگے بڑھتے چلے گئے لیکن طاہر القادری کے اندر یہ مادہ شروع سے ہے کہ وہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے یا بریلوی مسلک کے دیگر پیروں اور مولویوں کی طرح ‘لگی بندھی تنخواہ اور کام’ پہ رہنے والے نہیں تھے ۔ طاہر القادری کا معاملہ یہ تھا کہ وہ جلد ہی نواز شریف کے مد مقابل آگئے اور اس کا موقعہ 90 میں ہی سامنے آگیا تھا۔ نواز شریف نے نورانی میاں سے قدرے آسانی سے نمٹ لیا۔
عبدالستار نیازی اور نواز شریف کے آخری دور میں ملتان سے کاظمی برادران بھی نورانی میاں کو چھوڑ گئے اور پھر جے یوپی(نورانی) کبھی پنجاب میں اپنے قدم نہ جماسکی۔ نواز شریف نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ، جو بریلوی سیاست میں زیادہ لبرل، زیادہ کشادہ ذہن اور زیادہ روشن خیال چہرے کے ساتھ سامنے آئے تھے ، مقابلہ کرنے کے لیے بریلوی مکتبہ فکر کے اندر موجود اپنے سخت گیر مولویوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب میں بریلوی عام آدمی کو یہ کہا گیا کہ طاہر القادری سنّی ہی نہیں۔ یہاں تک کہ ان پہ کبھی شیعہ ہونے کا الزام لگا تو کبھی یہ بھی الزام لگادیا گیا کہ ان کو قادیانی لابی چلارہی ہے ۔ نواز شریف اور ان کے بھائی نے اپنے ساتھ آنے والے بریلوی پیروں اور بریلوی مولویوں میں سے جس نے سیاسی بلوغت دکھانے کی کوشش کی یا ان کی انانیت کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کی، ان کو ‘سبق’ سکھایا۔ اس کی سب سے بڑی مثال صاحبزادہ فضل کریم ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نواز شریف اور شہباز شریف کی سعودی عرب کی ایجنٹی، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کی ہمدرد تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان سے اتحاد اور رانا ثنا اللہ کے ساتھ مافیا سٹائل کام پہ ان سے برگشتہ ہوگئے تھے ۔ صاحبزادہ فضل کریم ملتان آئے تو میں نے ان کی پارٹی کے ملتان ڈویژن کے عہدے دار کے توسط سے ایک تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صاحبزادہ فضل کریم نے داتا دربارلاہور، پاکپتن دربار بابا فرید پہ ہوئے خودکش حملوں کے لیے سہولت کاری کا الزام پنجاب میں نواز لیگ کے ایک وزیر پہ عائد کیا ۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ امجد فاروقی، عابد گجر، ہارون چودھری سمیت لشکر جھنگوی کے بڑے دہشت گرد گروپوں کے ، سپاہ صحابہ پاکستان کے زریعے سے ، شہباز شریف سے تعلقات ہیں۔ اور رانا ثنااللہ اور بھکر کا قاری سعید ان کے درمیان رابطہ کار ہیں۔
صاحبزادہ فضل کریم نے پورے پنجاب میں بریلوی علما و مشائخ کو مسلم لیگ نواز کی مبینہ سعودی نوازی اور تکفیری قوتوں سے گٹھ جوڑ پہ نواز لیگ کے خلاف تعاون بند کرنے کے لیے مہم چلائی۔ اسی دوران صاحبزادہ فضل کریم کے خلاف فیصل آباد کے تھانوں میں پرچوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شہباز شریف نے رانا ثنااللہ کو استعمال کیا۔ رانا ثنااللہ نے پاکستان علما کونسل کے جنرل سیکرٹری زاہد القاسمی کو استعمال کیا اور توہین رسالت کے ایک پرچے میں زاہد القاسمی خود مدعی بن گیا اور ملزم تھے صاحبزادہ فضل کریم۔ صاحبزادہ فضل کریم کے ساتھ جن بریلوی علما اور بریلوی پیروں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی ان کو طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ سے ڈرایا دھمکایا گیا اور اس زمانے میں ہی یکے بعد دیگرے پنجاب میں مزارات پہ خودکش بم دھماکے اور حملے ہونے لگے ۔ صاحبزادہ فضل کریم کی موت بھی ایک معمہ ہے ۔ ان کے صاحبزادے صاحبزادہ حامد رضا اسے باقاعدہ قتل کہتے ہیں۔
حامد سعید کاظمی اسلام آباد میں اپنے اوپر ہونے والے حملوں میں شہباز شریف اور سعودی لابی کی جانب اشارے کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی پہ خودکش حملہ آور بھکر کے ایک دیوبندی مدرسے کا طالب علم تھا اور یہ مدرسہ سپاہ صحابہ پاکستان کا ہے ۔ ان کا بیٹا (راغب نعیمی) نواز شریف سے کہیں زیادہ شہباز شریف سے خوفزدہ ہے ۔ (کاش راغب نعیمی حامد رضا کی طرح جرات کا مظاہرہ کرتے )۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہر القادری کے بقول پولیس کی وردیوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے لوگ گولیاں چلانے والے تھے ۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ خادم رضوی اور حمید سیالوی کو ان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ وہ اپنا ریکارڈ چھپاتے ہیں اور اس ریکارڈ چھپانے میں ان کا سب سے بڑی مددگار پاکستانی صحافت اور سوشل میڈیا پہ خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ظاہر کرنے والا لبرل کمرشل مافیا ہے ۔ یہ مافیا ہمیں یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ نواز شریف 90 کی دہائی اور 12 اکتوبر 1999 تک مذہبی رجعت پرستوں اور مذہبی جنونیوں کو استعمال کرتے رہے تاہم اس کے بعد انہوں نے یہ گندا کاروبار چھوڑ دیا۔ یہ مافیا کہتا ہے کہ اب عدالتوں اور افواج پاکستان کے اندر بھی میاں نواز شریف کے کسی سے رابطے نہیں ہیں۔
مگر ذرا سی کھوج ہمیں کوئی اور کہانی سناتی ہے ۔ نواز شریف خود ایک بڑا مافیا بن گیا ہے جس کی جڑیں ریاستی اداروں، صحافتی، قانونی اور سول سوسائٹی کے اندر ہیں۔ ان کے پاس تحریک لبیک یارسول اللہ اور ملی مسلم لیگ عرف جماعت دعوۃ سے کہیں زیادہ طاقتور اور ہلاکت انگیز مذہبی جنونی، پیر، مولوی، ‘لبرل و لیفٹ صحافی’، سماجی ورکر، انسانی حقوق کے بکاؤ مال کارکنوں اور سوشل میڈیا پہ برائے فروخت ٹوئٹر ہینڈلر و فیس بک اکاؤنٹیے ہیں۔ یہ سب سے کام لیتے ہیں اور پاکستان میں مین سٹریم صحافتی نیٹ ورکس جن میں معروف ٹی وی چینلز اور اخبارات شامل ہیں ‘شریف مافیا’ کی مافیائی سیاست کو ‘لبرل جمہوریت پسند’ بناکر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے دو بڑے ستون یعنی فوج اور عدلیہ میں موجود بادشاہ گروں کو جس طرح بھٹو، بے نظیر اور پھر آصف علی زرداری کے خلاف مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا، ایسا نواز شریف مافیا کو کٹ ٹو سائز کرنے کے معاملے میں نہیں ہے ۔ نواز شریف کے معاملے میں پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اندر کی تقسیم نمایاں ہے ۔
عدلیہ کے بڑے اپنے اندر سے ساتھ بیٹھے اپنے رکن بارے بھی یقین سے کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ اصل میں کس کے ساتھ ہے ۔ نواز شریف مافیا اپنے ہمدردوں کو یہاں تک کہ وزیروں کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کے لیے بھیجتا ہے اور کوئی سودا کرنا چاہتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ بات چیت میں نواز شریف کو انتہائی بے اعتبار شخص مانتی ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ نواز شریف کو اگر کوئی بچاؤ کا راستہ فراہم کیا گیا تو وہ سب سے پہلا وار ان پہ ہی کرے گا۔ نواز شریف کا حقیقت میں پارلیمنٹ کو بالا دست کرنے یا اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں عوامی رائے مضبوط کرنے کا سرے سے کوئی ایجنڈا نہیں، وہ اپنے آپ کو گاڈ فادر رکھنا چاہتے ہیں۔