اداروں کو تحقیر نہیں تشکیل نوکی ضرورت ہے

انسا ن کی سماجی زندگی کا آغاز ہی دراصل اس کی سیاسی زندگی کے آغاز کا باعث بنا۔ یہ ایک ایسا ارتقائی عمل تھا جس نے انسان کو غاروں سے نکل کر ایک سماج میں منظم ہونا اور بعد ازاں اداروں کی تشکیل و ترویج کرنا بھی سکھایا۔ اسی جدوجہد میں انسان نے اپنی ضروریات و خواہشات اور تحفظ کو ایک تہذیبی لبادہ پہنایا ۔ لیکن ایک ایسی تہذیبی و سیاسی زندگی کا حصول مختصر مدت میں ممکن نہ ہوا بلکہ یہ ہزاروں سال کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ کبھی اس کے بنائے سماج نے قبائلی تو کبھی شاہی نظام کا روپ دھارا۔ اس دوران اس نے  جنگ و جدل کے نتیجے میں بہنے والے خون کی ندیاں بھی عبور کیں ۔ ایک دور وہ بھی آیا جب  آدھی سے ذیادہ دنیا ہلاکت خیز آمرانہ نظام مملکت کا شکارتھی۔

دوسری طرف ایتھنز، سپارٹا، سمایا، اور ا ہی متعدد یونانی ریاستوں میں بقراط، سقراط ،افلاطون ، ارسطو دنیا کو تہذیب اور آذادی کا سبق پڑھا رہے تھے۔ انہی کے علوم و فنون سے بعد ازاں باقی دنیا مستفید ہوئی۔ یہ دور انسان کی سیاسی بلوغت کا دور تھا۔ یہ جمہوری سوچ کے آغاز کا دور تھا۔ یہ جمہوریت جس سے ہم آج واقف ہیں یہ بھی ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے انسان کا مقدر بنی ۔ شاہی نظام میں بادشاہوں کی آمریت ہی مستند اور فعال سمجھی جاتی تھی۔ جس میں فوج کو ایک طاقتور ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ فوج کی طاقت کو واضح کرتی ہوئی 2500 سال پہلے ایک چینی جرنیل اور فوجی حکمت عملی کے ماہر سن ژو کی کتاب جو اب " آرٹ آف وار" کے نام سے دستیاب ہے ، جنگی جنون بڑھانے اور جنگیں جیتنے کی حکمت عملیاں ترتیب دینے کے لئے لکھی گئی۔ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ سویلین ، ملٹری تنازع کی تاریخ بھی 2500سال پرانی ہے۔ زمانہ قدیم میں ریاستوں کا مقصد محض جنگوں کی تیاری، اور فتح کے زریعے سلطنت کا پھیلاﺅ ہی ہوا کرتا۔ اسی لئے فوج کا ریاستی و سیاسی معاملات میں ایک خاص مقام ہوتا ۔ بیسویں صدی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ لاطینی امریکہ، جرمنی، افریقہ، اور ایشیا کے بہت سے ممالک فسطائی آمریتوں کا شکار تھے۔ اور ایسی خونریز آمریت کو قابو میں کرنے کے لئے ضروری تھا کہ فوج کی حتمی طاقت اور استبدادیت کو قابو میں کیا جا سکے۔ یہ سوچنا بھی ضروری تھا کہ کیسے فوج کو ریاست اور عوام کا وفادار بنایا جا سکے۔ اور اس طرح پورے پوسٹ کمیونسٹ ورلڈ کے معاشروں نے اس خواہش کو پانے کے لئے جمہوری اداروں کو بنایا اور انہیں مضبوط بنانے کے لئے انتھک جدوجہد کی۔ اس جمہوریت کو نہ صرف رواج دیا گیا بلکہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشروں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ کچھ ریاستیں اسی نظام کے ثمرات حاصل کرتے ہوئے اپنے معاشرے کو فلاحی معاشرہ بنانے میں بھی کامیاب ہوئیں۔

جمہوریت کے استحکام اور اس کی فعال حیثیت کو قائم کرنے کے لئے سب سے بڑی اور اہم شرط ملکی اداروں کے اختیارات میں توازن اور ان کی ایک دوسرے کے اختیارات میں عدم مداخلت کو ممکن بنانا ہے۔ تاکہ ادارے اپنے اختیارات اور حدود سے تجاوز نہ کر سکیں ۔ دنیا کی ہر جمہوریت کی کامیابی کا راز یہی فارمولہ رہا ہے ۔ امریکہ کے سپر پاور ہونے کی حیثیت بھی اسی لئے برقرار ہے کہ وہاں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنی اپنی حدود کے اندر خود مختار ہیں اورکوئی بھی ادارہ دوسرے ادارے کی کارکردگی میں مداخلت نہیں کرتا۔ اگر ایسا ہونے لگے تو ریاست کے اندر اداروں کا ٹکراﺅ ممکن ہو جاتا ہے اور اسی ٹکراﺅ کی صورتحال میں ادارے فعال نہیں رہتے۔ ان کی کارکردگی گھٹنے لگتی ہے اور بلآخر عوام کو اس کا خمیازہ لاقانونیت ، جبر ،عدم استحکام کی صورت بھگتنا پڑتا ہے ۔ جو شدید قسم کی طوئف الملوکی اور سیاسی ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ احتساب بے معنی اور کمزور ہونے لگتا ہے ۔ عوام کا اپنے اداروں پر اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ جب ادارے اعتماد کھونے لگیں تو خود عوام بھی قانون کے احترام اور اعلیٰ معاشرتی اقدار کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ملک بد ترین سیاسی ،معاشی و ثقافتی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ جس سے ریاست کی سالمیت اور استحکام کو شدید خطرات لاحق ہونے لگتے ہیں۔

کسی بھی جدید جمہوری ملک کے عسکری اداروں کی بنیادی تشکیل اس کے بیرونی تنازعات اور فسادات کو نپٹانے اور ان کا سامنا کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ان کا بنیادی کام ملک و قوم کا بیرونی اور بعض حالات میں اگر ضرورت پڑے تو اندرونی تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔ سویلین اداروں کا مقصد ملک کو اندونی محاذ پر تحفظ اور ترقی دینا ہوتا ہے۔ جس میں بنیادی کام قانون اور آئین کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کروانا ہے۔ ملک کے اداروں کو فعال بنانا اور ملک کی سیاسی و معاشی اور سماجی ترقی کے لئے ہمہ وقت مستعد اور فعال رہنا ہے۔ سول و عسکری قیادت اپنے اپنے مدار اور حدود و قیود میں اپنی اپنی ذمے داریاں نپٹاتے ہیں۔ سویلین خفیہ ادارے اور عسکری خفیہ ادارے بھی اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی اپنے مدار میں رہ کر کرتے ہیں۔ یہ دونوں جدا جدا نوعیت کے ادارے گو کہ اپنے اپنے اختیارات میں خود مختار ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے تعاون کئے بغیر یہ اپنا نظام بخوبی نہیں چلا پاتے۔ ایک طرف فوج کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے مسائل کو بخوبی سمجھ سکے۔ وہ قوم کی توقعات اور ضروریات کی ترجمان ہو۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی سے اجتناب کرے۔ دوسری طرف حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ فوج کی ضروریات و مسائل کو بخوبی سمجھ سکے۔ اس کی قائم کردہ وزارت دفاعی امور میں غیر عسکری اور سویلین اراکین تو ہوں لیکن وہ اراکین ایسے اراکین ہوں جو فوج کے امور کو سمجھتے ہوں ۔ ان کے مسائل کی پیچیدگیوں پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ انہیں درکار عسکری ہتھیاروں کی خریدو فروخت میں معاون ہوں۔ عدلیہ کا کام عوام کو عدل کی فراہمی اور آئین کی تشریح کرنا ہے۔ اس کا کام سیاسی معاملات کو دیکھنا یا نپٹانا نہیں۔ لیکن اس سارے نظام کو مجموعی طور پر کامیابی سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ ان اداروں کو بھی احتساب سے بالا تر نہ سمجھا جائے۔ جج، جرنیل اور سیاستدان سبھی قانون اور آئین کا احترام کرتے ہوئے اپنے فرا ئض کو نپٹائیں اور جہاں جس پر سوال اٹھے وہ اس سوال کے لئے جوابدہ ہو۔ کیونکہ جمہوریت کی اعلیٰ روایات کا حامل بننے کا تقاضہ یہی ہے۔ اگر ملک میں فوجی اسٹیبلشمنٹ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے لگے، فیصلہ سازی میں عدلیہ کا جھکاﺅ یک طرفہ ہونے لگے یا سویلین حکومتیں ملک کے عسکری اداروں کو رگیدنے لگیں تو یہ صورتحال ملک کی سلامتی کے لئے ایک خطرناک صورتحال ہوتی ہے اس میں جمہوریت کو ہی نہیں بلکہ ملکی استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

غلبہ پانا انسان کی سرشت اور مزاج کا حصہ ہے کامیاب جمہوریتیں برداشت اور استقلال کے جوہر کو آزماتے ہوئے اس انسانی سرشت پر قابو پا لیتی ہیں جب کہ کمزور ملکوں میں جہاں عوام کا احتساب اپنے اداروں اور نمائندوں پر کمزور ہو وہاں اس سرشت کو کھل کر کھیلنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ ایک طرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکومتی معاملات میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے تو دوسری طرف حکومتیں ملٹری طاقت کو اپنے ہاتھ میں کرنے کے درپے رہتی ہیں۔ بالادستی کی یہ خواہش اداروں میں تصادم کی موجب بنتی ہے۔ جمہوریت کی کامیابی کے لئے ایک طرف ملکی حکومت جمہوریت کے ساتھ مل کر ملک کو اندرونی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ دوسری طرف  اپنے اداروں کی بلکہ عوام کی بھی جمہوری تربیت کرتی ہے۔ ملٹری ملک کی سرحدوں کو مضبوط بناتی ہے۔ اور ملکی تحفظ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرتی ہے۔ سویلین حکومت کا اعتماد اس کے عوامی ووٹ میں ہوتا ہے اور دوسری طرف ملٹری کے لئے بھی فخر کرنے کے لئے اس کا مخصوص تشخص، بیوروکریٹک مہارتیں ، قابلیت اور عوام کا اعتماد و تحسین ہوتی ہے۔ یہی وہ سب کچھ ہے جس کے بل بوتے پر وہ اپنا مشن ہر طرح کا رسک اٹھاتے ہوئے بھی پورا کرنے کو ہی اپنا اولین مقصد بناتی ہے۔ ان میں قربانی، اخلاقی جرات، ایمانداری اور دلیری کے اوصاف ایک طویل اور انتھک ٹریننگ اور ایک مخصوص ذہنی تربیت کے زریعے پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان کی عزت ریاست کی عزت سے اور ریاست کی عزت ان کی عزت سے مشروط ہوتی ہے۔ انہیں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ ان کا کام قوم کو تحفظ فراہم کرنا ہے ان کے سامنے قانون یا ضابطوں کی وضاحت کرنا نہیں۔

ہتھیاروں کا استعمال، جنگ کی پلاننگ اور تیاری گو کہ یہ اعصاب شکن ہوتے ہیں لیکن یہی ان کا مطمع نظر اور اعلیٰ فرائض بھی ہیں۔ انہیں جنگ ہی نہیں بلکہ امن کے دنوں میں بھی اپنی قوم کے بہترین مفاد کی خاطر ثابت قدم رہنا پڑتا ہے۔ طوفانوں ، سیلابوں، زلزلوں سمیت، اندرونی طور پر نقص امن و امان کی صورت میں بھی ان کے سر پر زمہ داریاں بہت ذیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ سویلین حکومت تو محض اپنی مدت حکومت کے دوران ہی ذمہ دار گردانی جاتی ہے لیکن ملٹری کے ہر فرد سے ہر طرح کے حالات میں ذمے داری کی توقع کی جاتی ہے۔  دنیا کی ہر جنگ اور ہرفلسفے و تحریک کو پنپنے کے لئے ملٹری کا ہی لہو درکار رہا۔ انقلاب اٹھانا ہو یا انقلاب سمیٹنا ہو اس کے لئے بھی ملٹری ہی لہو دیتی رہی۔ ملک کے اندر سیاستدانوں کی اقربا پروری، بد دیانتی، نا اہلی، کوتاہی، ناقص منصوبہ بندی، لوٹ مار، کرپشن وغیرہ جیسے عناصر سے اٹھائے گئے ہر طوفان سے ملک بحران کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایسے ہر بحران کے پھیلائے فساد سے نپٹنے کے لئے فوج کو ہی طلب کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت کوئی بھی ایسا ملک نہیں جو بنا فوجی انتظام کے چل سکتا ہو۔ آپ کتنے ہی امن پسند کیوں نہ ہوں فوج آپ کو ظاہری و پوشیدہ دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ جیسے جیسے دنیا میں وسائل کی عدم دستیابی کا عنصر ابھرے گا ریاستوں کی باہمی کشیدگی اور بھی بڑھتی جائے گی۔ ریاستیں ایک دوسرے کو ہڑپ کرنے کی جستجو میں اتنا ہی ذیادہ مبتلا ہوں گی۔ دنیا میں وقت کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کی سیاست ایک بار پھر اپنی بساط سمیٹ رہی ہے۔ ریاستوں کی سیکولر ساکھ بھی اپنا وقت پورا کر چکی ہے ۔ اب ایک بار پھر مذہبی عناد اور نسلی فساد کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ قوموں سے نفرت اور بے رخی کا کھلے عام اظہار ہونے لگا ہے۔ ایسی عالمی صورتحال میں فوج کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لئے فوج کا ہی مرہون منت ہونا پڑتا ہے۔

پاکستان میں فوج کا کردار ہمیشہ سے متنازع رہا ہے ۔ اس کا سیاسی کردار جمہوریت پر ایک بدنما دھبے کے طور پر ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اپنا تقدس اس طرح بحال نہیں رکھ سکا جس طرح جمہوری ملکوں میں بحال رہتا ہے۔ آج اسے براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر پاکستان کے تمام تر سیاسی معاملات میں دخیل سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس کی مضبوطی اور استواری میں ہماری بقا ہے اور اس کی کمزوری ہمارے دشمنوں کی پختگی و کامیابی کا باعث ۔ بھارت اس وقت کشمیر سے بھی کہیں ذیادہ ہمارے سی پیک منصوبے کے غم میں مبتلا ہے۔ اور اس منصوبے کے خلاف "را" کے ماتحت ایک سیل قائم کر چکا ہے۔ امریکہ بھارت کو افغانستان میں مزید مستحکم کر رہا ہے۔ ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خطرناک ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ایسے حالات میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار پاکستان کے مستقبل کو متعین کر تا ہے۔ اس کے باوجود ہماری افواج کے بہترین کردار کی علامت ان کا اپنی بیرکوں تک محدود رہنے میں ہے۔ لیکن انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہماری سیاست کا بہترین کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جمہوری روایات کی پاسدار ، ذمے دار ، ایماندار اور پالیسی میکنگ کی بہترین صلاحیتوں کی حامل حکومت اور اس کی کارکردگی ملٹری کو کبھی اپنی بیرکوں سے باہر نہیں آنے دیتی۔ اس کا مثبت کردار ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کبھی طاقتور بننے نہیں دیتا۔ لہذا ہمارے سیاسی اداروں کی کمزوری کے بہت حد تک ذمہ دار خود ہمارے سیاستدان اور ان کی نالائقی اور ان کی باہم چپقلش ہے۔ اسی طرح ہماری عدلیہ کے بھی سیاسی ہوجانے کی بڑی وجہ وہ سیاسی مصلحتیں رہیں جنہیں نبھانے کو کبھی ہمارے سیاسی لیڈر عدلیہ کی آذادی کی تحریک کے ہمراہی بن جاتے ہیں تو کبھی جمہوریت کی کامیابی کے لئے اس کی آذادی پر قدغنیں لگانے کے درپے ہوتے ہیں۔

حالات اگر اسی نہج پر چلتے رہے تو ہمارے ادارے ملکی سطح پر ہی نہیں عالمی سطح پر بھی اپنا وقار اور مقام کھو بیٹھیں گے۔ ان کا گرتا اعتماد کسی بھی یلغار کو روکنے کے قابل نہ رہے گا ۔ ہماری جمہوریت کو لیڈر شپ کو بہت بڑا بحران لاحق ہے۔ جب تک یہ خلا پر نہیں ہوتا فوج کی طرف سے اس خلا کو پر کرنے کی کوششیں ہوتی ہی رہیں گی۔ جب تک سیاست کی اخلاقیات مقرر نہیں ہوتیں۔ حکومتوں کی کمزوری اور نالائقی سے سیاسی استحکام کو خطرات لاحق ہوتے رہیں گے۔ لہذاٰ ہمارے سیاسی رہنماﺅں کو اداروں کی مضبوطی اور تقدس کی خاطر اپنا کردار اور اخلاقی کردار متعین کرنا ہوگا۔ اپنی ذاتی اغراض کو ملکی اغراض اور ملکی مفادات پر قربان کرنا ہو گا ورنہ اداروں کی کمزوری ملکی استحکام کی کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔