سینٹ کا انتخابی معرکہ اور مستقبل کی سیاسی جھلک
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 15 / مارچ / 2018
- 4189
ایک عمومی تجزیہ یہ ہی تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور ان کی اتحادی جماعتیں آسانی سے چیرمین سینٹ اور ڈپٹی چیرمین سینٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنی پہلے سے موجود سیاسی بالادستی کو اور زیادہ مضبوطی میں بدل دیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال یہ تھا کہ اگر وہ سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں اپنی برتری قائم کرتے ہیں تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ ان کو اور ان کی جماعت کو عام انتخابات کی سیاست میں ہوگا ۔نواز شریف کا خیال تھا کہ وہ سینٹ میں بالادستی حاصل کرکے اپنے ووٹروں، حامیوں، ارکان اسمبلیوں، سیاسی مخالفین اور بالخصوص اسٹیبلیشمنٹ کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ، وہ ہی اصل سیاسی طاقت ہیں۔
لیکن سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخابی نتائج نے نواز شریف اور ان کے اتحادی کیمپ کو بڑ ے صدمے سے دوچار کردیا ہے ۔ نواز شریف اور ان کے حامیوں کے بقول سینٹ کے انتخابات سے لے کر چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخابات تک ان کے ساتھ پس پردہ طاقتوں نے ڈکیتی کی ہے ۔ نواز شریف کے لیے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کا انتخاب کافی اہمیت کا حامل تھا ۔ کیونکہ وہ اس ایوان میں برتری حاصل کرکے کچھ قانونی ترامیم کی مدد سے اپنے لیے ایک محفوظ راستے کو تلاش کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے، مگر وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے ۔ اگرچہ پیپلز پارٹی بظاہر سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب پر بہت خوش ہے ۔ ان کے بقول ایک زرداری عملا سب پر بھاری ثابت ہوا ہے ۔ لیکن اس خوشی کے پیچھے ایک غم بھی پوشیدہ ہے ۔ کیونکہ آصف زرداری کی حکمت عملی تو عملا چیرمین سینٹ کی نشست پر تھی ۔ ان کا دعوی تھا کہ اس بار بھی چیرمین سینٹ ان ہی کا نامزد کردہ ہوگا۔ لیکن ان کی امیدوں پر پانی بلوچستان کی صوبائی حکومت، آزاد ارکان اور بالخصوص عمران خان نے پھیر دیا ہے ۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنا چیرمین سینٹ نہیں لاسکے ۔ پیپلز پارٹی کو بلوچستان کی صوبائی حکومت اور عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ صادق سنجرانی کی حمایت کی کڑوی گولی ہضم کرنا پڑی ہے ۔
پیپلز پارٹی کی حکمت عملی تو یہ تھی کہ وہ چیرمین سلیم مانڈی والا ہو، جبکہ ڈپٹی چیرمین بلوچستان سے ہو، مگر عمران خان نے کمال ہوشیاری سے گیند بلوچستان اور فاٹا کے آزاد ارکان کی کورٹ میں ڈال کرمسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو پیچھے دکھیل کر پہلی بار ہماری سیاسی تاریخ میں بلوچستان سے سینٹ کے چیرمین لانے کی کامیاب راہ ہموار کی ۔اس لیے پیپلز پارٹی کی خوشی مصنوعی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس سیاسی طور پر یہ آپشن تھا کہ وہ رضا ربانی کی نامزدگی کو بنیاد بنا کر چیرمین سینٹ کی سیٹ کو محفوظ بناسکتی تھی ۔ مگر آصف زرداری نے اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سینٹ کے چیرمین کی قربانی دی۔ آصف زرداری کو یہ احساس بھی تھا کہ نواز شریف سیاسی طور پر کمزور وکٹ پر کھڑے ہیں اور ان کی حمایت کرکے وہ اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
نواز شریف کی پہلی کوشش رضا ربانی نہیں تھے ، وہ انہوں نے پیپلز پارٹی پر کارڈ پھینکا تھا ، ان کے اصل امیدوار حاصل بزنجو یا پرویز رشید تھے ۔ لیکن جب نواز شریف کو آخری لحمات میں پوری طری یقین ہوگیا کہ وہ چیرمین سینٹ کی دوڑ سے نکل گئے ہیں تو پھر راجہ ظفر الحق کی نامزدگی کی گئی اور نواز شریف دوپہر ہی میں اسلام آباد سے نکل کر جاتی آمرا پہنچ گئے ۔ اگر ان کو اپنی جیت کا یقین ہوتا تووہ اپنی فتح کے جشن کے لیے اسلام آباد میں ہی رہتے ۔ایک تاثر حکمران جماعت کی جانب سے یہ دیا جارہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد ہوگیا ہے اور یہ اتحاد اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے ساتھ آگے بھی چلے گا۔ حالانکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں انتخابات ، انتخابی مہم یا سیاسی محاذ پر اتحاد کا کوئی امکان نہیں۔ سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں ہمیں اتحاد نظر آیا اس کی ایک وجہ نواز شریف کا راستہ روکنا تھا ۔ عمران خان برملا کہہ چکے تھے کہ وہ کسی بھی صورت میں نواز شریف کا حمایت یافتہ چیرمین نہیں لانے دیں گے ۔ خود آصف زرداری سے زیادہ بلاول بھٹو سینٹ کے چیرمین کے انتخاب میں نواز شریف کا راستہ روکنا چاہتے تھے ۔ اس لیے اسٹیبلیشمنٹ سے زیادہ ان دونوں جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی اپنی سیاسی حکمت عملی بھی تھی کہ نواز شریف کا راستہ روکنا ہے ، جو کامیاب حکمت عملی ثابت ہوا۔
عمران خان کو اندازہ تھا کہ پیپلز پارٹی اگر ساتھ نہیں دے گی تو نواز شریف کے حمایت یافتہ چیرمین کا راستہ نہیں رک سکے گا۔ لیکن عمران خان کسی بھی صورت میں براہ راست پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہ پہلے تھے اور نہ اب ہیں ۔ اسی لیے عمران خان نے نواز شریف کو روکنے ، زرداری کو پھنسانے کا راستہ بلوچستان کا اختیار کیا اور صوبائی حکومت کو سخت پیغام دیا کہ اگر وہ ثابت قدم رہے تو چیرمین بلوچستان سے ہوگا اور آصف زرداری کے پاس بھی اس کی حمایت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس لیے جو دوست پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان نئے سیاسی رومانس کو تلاش کررہے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
عمران خان عام انتخابات سے قبل ایسی کوئی سیاسی غلطی نہیں کریں گے جس سے ان کے بارے میں یہ تاثر عام ہو کہ عمران خان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی سیاسی سمجھوتہ کرلیا ہے ۔ کیونکہ عمران خان کو بخوبی اندازہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے نواز شریف کے ساتھ جو مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اس نے پنجاب میں ان کے سیاسی وجود کو ہی ختم کرڈالا ہے ۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کی واحد کامیابی کا امکان ان دونوں قوتوں کو چیلنج کرنے سے ہے ۔ البتہ عام انتخابات کے بعد اگر کوئی مخلوط حکومت کے تناظر میں کوئی اتحاد ہوتا ہے تو اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس حالیہ سیاست میں بلاول بھٹو نے خود کو زرداری کی سیاست کے ساتھ کھڑا کرکے اپنی مستقبل کی سیاست پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کیے ہیں ، وہ خود اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کے قریب پائے جاتے ہیں ۔
ایک دلیل حکمران طبقہ اور ان کے حامیوں کی جانب سے یہ دی جارہی ہے کہ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین سینٹ کے انتخابی نتائج کا سارا سکرپٹ اسٹیبلیشمنٹ نے لکھا ہے اور ان کے حمایت یافتہ کرداروں اس میں رنگ بھرا ہے ۔ یقینی طور پر ہمیں اسٹیبلیشمنٹ کے عمل کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھناچاہیے ۔ ممکن ہے انہوں نے بھی رنگ بھرا ہو۔ لیکن اس کے باوجود جو کچھ بھی ہوا ہے وہ نئی سیاسی ضرورتوں کا بھی احاطہ کرتا ہے ۔ ہر جماعت نے کس کی حمایت کی یا کس کی مخالفت کی اس کے پیچھے جمہوریت سے زیادہ خود ان کی حال اور مستقبل کے تناظر میں جڑے ہوئے مسائل او رامکانات ہیں۔سیاسی محاذ پر سیاسی جماعتیں گھاٹے کا سودا کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مفادات کو تقویت دیتی ہیں۔ سینٹ کے نئے ارکان سمیت چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخابات کے بعد اب سیاسی قوتوں کا اصل میدان متوقع طور پر 2018کے عام انتخابات ہیں ۔ سیاسی محاذ پر ایک نئی سیاسی صف بندی بھی ہوگی ۔لیکن اس وقت سب سے بڑا اہم سوال نواز شریف او ران کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جاری مقدمات کا فیصلہ سمیت نیب اور عدالتوں کی جانب سے جاری احتساب کی مہم کا ہے ۔اگر عام انتخابات سے قبل احتساب کا یہ دائرہ کار پھیلتا ہے او راس کے نتائج بھی دیکھنے کو ملتے ہیں تو سیاسی محاذ پر بڑی تبدیلیاں نمودار ہوسکتی ہیں ۔پہلے ہی سیاست دانوں سمیت بیوروکریسی میں ایک خوف کی فضا قائم ہے کہ کہیں وہ قانون کی گرفت میں نہ آجائیں ۔
سیاسی جماعتوں اور بالخصوص حکمران جماعت میں یہ خوف موجود ہے کہ کہیں عام انتخابات سے قبل احتساب کا عمل ان کی انتخابی مہم پر منفی اثر نہ ڈال دے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دلیل دی جارہی ہے کہ قانونی احتساب کو بند کیا جائے اور عوامی عدالت میں یہ فیصلہ ہونے دیں کہ عوام کس کے ساتھ کھڑی ہے ۔لیکن اب جو نئی صورتحال بن رہی ہے او رجس انداز سے اداروں کو عوامی تائید مل رہی ہے اس نے اداروں میں بھی ایک نئی حرارت پیدا کی ہے ۔ عدلیہ کے عمل کو تو ایک بڑے جوڈیشل ایکٹوئزم کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ سینٹ کے انتخابات نے انتخابات لڑنے اور جیتنے والوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ نواز شریف کی سیاست ناگزیر نہیں او ران کی متبادل سیاست کے امکانات بھی ابھر رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں انتخابات لڑنے والے نئے حالات میں نئے فیصلوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔کئی لوگ نئی سیاسی آڑان کے لیے بھی تیار کھڑے ہیں جو ملک میں نئی سیاسی تبدیلیوں کی طرف پیش قدمی کے واضح اشارے دیتا ہے ۔