نواز شریف اپنا بویا کاٹ رہا ہے
- تحریر محمدعامرحسینی
- جمعہ 16 / مارچ / 2018
- 4378
نواز شریف پہ جس جامعہ نعیمیہ میں تشریف لے جانے پہ جوتا لگا، اس جامعہ کے سابق مہتم ڈاکٹر سرفراز نعیمی ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ میں نے ان کے بیٹے ڈاکٹر راغب نعیمی اور اس حادثے میں زخمی ہونے والے سرفراز نعیمی کے معاون جو ٹاؤن شپ میں رہتے ہیں، سے پوچھا تھا کہ اس ہولناک واقعہ پہ ہونے والی تفتیش سے کیا وہ مطمئن ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ حکومت نے اس حوالے سے کچھ بتایا ہی نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس واقعے پہ مٹی ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے ۔
اس انٹرویو کے بعد جب ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی پہلی برسی آئی تو راغب نعیمی نے چیف منسٹر شہباز شریف کو چیف گیسٹ بنالیا۔ اس موقعہ پہ شہباز شریف نے جو تقریر کی وہ آن دی ریکارڈ ہے ۔ میں نے ڈاکٹر راغب نعیمی سے پوچھا تھا کہ جب پنجاب حکومت اور پولیس ان کے والد اور ان کے مدرسے کے دیگر لوگوں کی خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے کیس کو دبانے میں لگی ہوئی ہے تو وہ اب تک ان کے ساتھ کیوں ہیں۔ اور یہ بات وہ پریس کانفرنس کرکے کیوں نہیں کہتے ۔ اس موقعہ پہ اہھوں نے جو جواب دیا وہ آف دی ریکارڈ کہہ کر ایک طرح سے چھپا لیا گیا۔ جامعہ نعیمیہ کے افراد کا میاں محمد شریف اور ان کے صاحبزادوں سے بہت پرانا تعلق ہے ۔ میاں صاحبان اس مدرسے اور اس سے جڑے اداروں کے بڑے فنانسرز میں بھی شمار ہوتے ہیں اور اس ادارے نے ہمیشہ میاں نواز شریف کا ساتھ دیا ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر میں اگر کہیں سے میاں صاحبان کو سیاسی طور پہ چیلنج کیا گیا تو جامعہ نعیمیہ کی انتظامیہ ان کے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔ جے یو پی نورانی گروپ ہو یا پاکستان عوامی تحریک، یہ لاہور میں میاں صاحب کو سیاسی طور پہ چیلنج کرنے کی جب کوشش کرتے تو ڈاکٹر سرفراز نعیمی، غلام علی اوکاڑوی اور ایک بڑے عرصے تک فیصل آباد سے صاحبزادہ فضل کریم، میاں صاحبان کے لیے بریلوی ووٹ کو خاص طور پہ لاہور ڈویژن میں میاں صاحبان کے خلاف جانے سے روکتے رہے ۔
میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے لاہور میں جامعہ نعیمہ (بریلوی) ، جامعہ اشرفیہ لاہور (دیوبندی) اور مرکز جمعیت اہلحدیث(ساجد میر گروپ) کو ہمیشہ اپنے خلاف اٹھنے والی مذہبی سیاسی چیلنچوں سے مقابلہ کرنے کے لیے بہت طریقے سے استعمال کیا۔ جامعہ نعیمیہ پہ 2008 سے لے کر 2018 تک بڑا دباؤ بھی پڑا ہے کیونکہ نواز شریف و شہباز شریف کے دیوبندی مکتبہ فکر کے عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے گروپوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان، کے ساتھ اشتراک کے خلاف عام بریلوی کے اندر خاصا ردعمل پایا جاتا ہے۔ اور بریلوی میں ایک بڑا حصّہ ان سے جامعہ نعیمیہ کے لوگوں کو الگ کرنے کا خواہشمند ہے ۔ لاہور میں پنجاب بھر میں ایک متحدہ سنّی محاذ کے نام سے اتحاد بھی بنا اور پھر تحریک لبیک یارسول اللہ ؐکے نام سے الگ پارٹی بھی ہے ۔
میاں محمد نواز شریف اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ایک لمبے عرصے تک پنجاب میں مذہبی جماعتوں اور مسالک کے تنظیمی نیٹ ورک کے اندر 'لڑاؤ اور تقسیم کرو' کی سیاست کرتے آئے اور اب یہ ٹاسک زیادہ تر شہباز شریف کے پاس ہے۔ وہ اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی مینی پولشن سے جمعیت العلمائے پاکستان اور جماعت اسلامی تقسیم ہوئیں۔ یہاں تک کہ ایک دور میں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کو پنجاب میں تنہا کیا اور سپاہ صحابہ پاکستان نے ان کی جگہ لی۔ آج جب سپاہ صحابہ پاکستان کے لیے اپنے ناموں سے الیکشن لڑنے میں دشواریوں کا سامنا ہے تو فضل الرحمان کی پارٹی میں ان کے مضبوط گھوڑے جا شامل ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں جو صحافت کا مرکزی دھارا ہے وہ نواز شریف، شہباز شریف کی طرف سے مذہبی سیاسی کارڈز کو استعمال کرنے کی روش پہ پردہ ڈالتا رہتا ہے ۔ نواز لیگ نے انہی مذہبی کارڈز کو سلمان تاثیر، شہباز بھٹی اور پھر طاہر القادری اور یہاں تک کہ حامد سعید کاظمی کے خلاف بھی استعمال کیا۔
جامعہ نعیمیہ میں نواز شریف پہ جوتا پھینکنے والے بریلوی مسلک میں تحریک لبیک یارسول اللہؐ سے ہمدردی رکھنے والے بتائے جارہے ہیں اور اس پہ بار بار بریلوی ، بریلوی شناخت کا شور بھی مچایا جارہا ہے ۔ میں ایک بار پھر بتانا چاہتا ہوں کہ خادم رضوی سمیت جو بریلوی مولوی آج مسلم لیگ نواز کے خلاف مذہبی جنون لے کر کھڑے ہیں ان میں سب مولویوں کے ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف فتوے موجود ہیں۔ فتوؤں و بیانات کی مہم اس وقت چلی تھی جب ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز شریف کے خلاف سیاسی محاذ نوے کی دہائی میں گرم کیا۔ اور جب دھرنا شروع ہوا تو پاکستان ٹیلی ویژن پہ بریلوی مولویوں کو لاکر ان کے خلاف تکفیر و گمراہی کے فتوے دلائے گئے۔ لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ طاہر القادری جمعہ کا خطبہ اپنی مسجد میں دے رہے تھے تو اگلی صف میں بیٹھے ایک شخص نے ان پہ اپنے عصا کو دے مارا تھا اور وہ لہولہان ہوگئے تھے۔
نواز شریف اپنا بویا کاٹ رہا ہے اور کاٹتا رہے گا۔ جب تک وہ مذہبی کارڈ اپنے مخالفوں کے خلاف استعمال کرتا رہے گا ۔ ویسے میاں شریف کی ایک وڈیو ہے اسے بھی سن لیا جائے کہ میاں شریف نے ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں کیا کہا تھا۔