اٹلانٹا : تعبیر کے انتطار میں
- تحریر
- جمعہ 16 / مارچ / 2018
- 3637
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا، کے مصداق گزشتہ دو ہفتے کالم کی غیر حاضری ایک اہم ذاتی مصروفیت کے باعث ہوئی۔ ایک خوشگوار خانگی فریضہ تھا، اللہ کا احسان کہ خوش اسلوبی سے انجام پایا۔ امریکہ پہلے بھی کئی بار جا چکے لیکن مشرقی اور مغربی ساحلی شہروں میں، نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی ، لاس اینجلز، سان فرانسسکو وغیرہ ۔ اب کی بار اسی فریضے کے لئے جنوبی علاقے کی ایک اہم ریاست جارجیا کا قصد تھا۔ اس ریاست کے صدر مقام اور سب سے بڑے شہر اٹلانٹا کا۔
اٹلانٹا کا بہت سن رکھا تھا کہ امریکہ میں غلاموں کی تجارت میں یہ علاقے سرِ فہرست تھے۔ امریکہ میں خانہ جنگی ہوئی تو شمال سے وفاقی حکومت کی فوجیں قہر بن کو اس شہر پر ٹوٹیں۔ 1864 میں نو خیز شہر اٹلانٹا جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ راکھ کے اس ڈھیر سے نئے شہر نے جنم لیا۔ ایک صدی بعد اسی شہر نے سول حقوق کے لئے برپا سیاہ فاموں کی تحریک میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونئیر اسی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے قتل ہوئے۔ سیاہ فام نسلی تفریق کے قوانین بالآخر تبدیل ہوئے اور قانون کی حد تک سب کو مساوی مواقع کا بنیادی حق تسلیم کر لیا گیا۔ اس شہر کی وجہ شہرت صرف سیاہ فاموں کی تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ اسی شہر میں دنیا بھر میں امریکہ کی شناخت کے طور پر مشہور ہونے والا مشروب کوکا کولا تخلیق کیا گیا، آج بھی اس کا ہیڈ کوارٹر اسی شہر میں ہے۔ اٹلانٹا ہی میں دنیا کا پہلا چوبیس گھنٹے کیبل نیوز نیٹ ورک سی این این قا ئم ہوا۔ امریکہ کی تین ائیر لائنز میں سے ایک ڈیلٹا ائیر لائن کا مرکز بھی یہی شہر ہے جس کے سبب اٹلانٹا 1998 سے دنیا کا مصروف ترین ائیرپورٹ چلا آ رہا ہے۔ یہ شہر اپنے محل وقوع کی وجہ سے جنوب کی ریاستوں میں معاشی طور پر خوشحال اور اہم ترین اقتصادی مرکز ہے۔ نقل و حمل، پیشہ ورانہ بزنس سروسز، میڈیا سروسز اور آئی ٹی اس شہر کے نمایاں ترین کاروبار ہیں۔ گو اس شہر کی آبادی سوا چار لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن دنیا بھر کے متمول ترین شہروں میں اٹلانٹا کا نمبر 18 واں اور امریکہ میں 7 واں ہے۔ اس شہر کی مجموعی جی ڈی پی 320 ارب ڈالرزکے لگ بھگ ہے یعنی پاکستان کی کل جی ڈی پی سے کچھ زائد! 1996 میں منعقدہ اولمپکس نے اس شہر کی شہرت کو مزید دد چند کر دیا۔
اٹلانٹا میں وارد ہونے کے فوری بعد چار چیزوں کی افراط دیکھی۔ سڑکیں، گاڑیاں، پائن کے درخت اور موٹاپا ۔ امریکہ کے شہر، صنعت و تجارت اور اقتصادی ڈھانچہ کچھ اس طرح کا ہے کہ سڑکوں کا جال اور گاڑیوں کی بہتات ہی اس کی جان ہے۔ امریکہ میں تین سب سے بڑے مقامی موٹر ساز ادارے ہیں۔ مشہور ہے کہ اگر سب سے بڑی موٹر ساز کمپنی جنرل موٹرز کو چھینک بھی آ جائے تو امریکی معیشت کو زکام ہو جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اور ان کے بڑے شہر دیکھنے کے بعد اٹلانٹا میں سڑکوں اور گاڑیوں کی بہتات دیکھنے کے باوجود ایک کمی سی محسوس کی۔ میزبان سے اس کمی کی بابت استفسار کیا کہ اتنا بڑا اور مصروف شہر ہونے کے باوجود اس شہر میں ماس ٹرانسپورٹ کا جدید اور مربوط نظام دیکھنے کو نہیں ملا۔ میٹروپولیٹن ٹرین کا مقامی نام مارٹا ہے۔ مارٹا ٹرین کے نظام کی سب سے لمبی پٹڑی ییلو لائن شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک عمودی لکیر کی طرح بنائی گئی ہے۔ اس کے مرکزی حصے میں تین چھوٹی چھوٹی لائینز اس سے مربوط ہیں۔ مجموعی طور اس ٹرین سسٹم کی پہنچ محدود علاقے تک ہے۔ نیویارک، لندن، پیرس، فرینکفرٹ، بارسلونا سے لے کر تمام ایشیائی ممالک میں زیر زمین یا بر سرِ زمین ٹرین سسٹم کو پورے شہر میں پھیلا ہوا اور مربوط پایا لیکن اٹلانٹا میں معاملہ الٹ دیکھا۔ مزید حیرت اس پر ہوئی کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کی تعداد بھی بہت کم، محدود علاقوں تک پہنچ اور اس پر مستزاد درمیانی وقفہ ایک ایک گھنٹے تک محیط۔ حیرت سے میزبان سے پوچھا تو انہوں نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔ بالکل صحیح نوٹ کیا آپ نے اور اس کی وجہ بھی بڑی سادہ سے ہے، وہ ہے نسلی تفریق اور تعصب ۔
حیرت سے ہمارا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ہماری حیرت دیکھتے ہوئے ہمارے میزبان نے وضاحت کی کہ اٹلانٹا شہر کے انفرا سٹرکچر کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی ہے کہ سیاہ فام آبادیاں مخصوص علاقوں تک محدود رکھی جائیں۔ کام کاج کے سلسلے میں سفر کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ سستا ترین ذریعہ ہے، اس کی محدود دستیابی سے خودکار انداز میں سیاہ فاموں کی ڈاؤن ٹاون اور دیگر علاقوں میں آبادی کی نقل و حمل کنٹرول ہو جاتا ہے۔ رہے مقامی سفید فام یا مقامی متمول سیاہ فام اور دیگر اقلیتی لسانی گروپس، تو جن کے پاس گاڑیوں کی سکت ہے ان کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ۔ اپنے دو ہفتے کے قیام کے دوران ہم نے اس اصول کو شہر کی روزمرہ کی زندگی میں سرایت دیکھا۔ گو اس بندو بست میں لوگوں کا اچھا خاصا وقت سڑکوں پر آتے جاتے صرف ہو جاتا ہے لیکن شہر کے باسیوں کی عادت اب اس بندو بست کے ساتھ پختہ ہو گئی ہے۔
امریکہ میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت 1760 سے لے کر 1810 کے درمیان اپنے جوبن پر رہی۔ زیادہ تر سیاہ فام جنوبی ریاستوں نارتھ اور ساوتھ کیرولائینا کی بندرگاہ چارلسٹن کے ذریعے لائے گئے۔ یہ بد قسمت زیادہ تر مغربی افریقہ اور مڈغاسکر سے لائے گئے۔ بعد ازاں غلامی کے خاتمے کے قوانین کی جنوبی ریاستوں نے خم ٹھونک کر مزاحمت کی۔ امریکہ کی خانہ جنگی کے اس دور میں مرکزی حکومت کی فوجوں نے اس شہر پر چڑھائی کرکے اسے جلا ڈالا لیکن سیاہ فاموں کو اپنے حقوق کے لئے ابھی ایک صدی مزید جدو جہد کرنا تھی۔ سفید فام اکثریت نے کاروبار، تعلیم اور روزگار میں سیاہ فام آبادی کاراستہ روکے رکھا۔ سماجی طور پر سیاہ فام اقلیت کے ساتھ شدید نسلی عصبیت روا رکھا گیا۔ اس عصبیت کی معروف ترین شکل نسلی تفریق تھی یعنی Racial Segregation ۔ ریلوے کا سفر ہو یا پبلک بسوں میں، پبلک ٹیکسیاں ہوں یا ریستوران، اسکول ہوں یا تفریح گاہیں، سفید فاموں کی جگہیں سیاہ فاموں سے الگ مخصوص تھیں۔ سیاہ فاموں کا قانوناٌ سفید فام حصے میں داخلہ ممنوع تھا۔ دونوں نسلوں کے درمیان شادیاں ممنوع تھیں۔ آج لکھنا آسان ہے مگر اس زمانے کی نسلی علیحدگی یا تفریق کی وسعت اور پھیلاؤ کی تفصیلات پڑھ کر یا میوزیم میں دیکھ کر آج بھی بدن میں خوف اور حقارت کی ایک جھرجھری سی آ جاتی ہے۔
عقل عیّار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے، قانوناٌ غلامی ممنوع ہو گئی، رنگ یا نسل کی بنیاد پر تفریق یا Segregation بھی ختم ہوئی لیکن سفید فام اکثریت نے ریاست کے سماجی اور اقتصادی بندوبست میں ایسے پیچ و خم رکھ دیئے کہ ایک خودکار تسلسل کے ساتھ سفید اور سیاہ فاموں کی اکثریت کے درمیان یہ خلیج بدستور قائم ہے۔ اٹلانٹا کی آبادی کا 51% فی صد سیاہ فام ہے جبکہ 41% سفید فام اور تقریباٌ چار فی صد ایشیائی اور چار فی صد ہسپانوی اور لاطینی۔ 1974 آبادی کے اس ناموافق تناسب اور کارپوریشن پر سیاہ فام اکثریت کے غلبے کے پیشِ نظر شہر کے خوشحال اور متمول کاروباری آبادی نے قانون کا سہارا لے کر ایک کے بعد ایک تین نئے شہر اٹلانٹا شہر سے الگ کر لئے، بروک ہیون، سینڈی سپرنگ اور ڈن ووڈی۔ قانون کے مطابق مقامی ٹیکسز شہر اور ریاست میں تقسیم ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر سٹی کونسل کے محصولات کا اصل دارومدار سیلز ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس پر ہوتا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کا بیشتر حصہ پبلک اسکولز اور سڑکوں کے لئے مختص ہوتا ہے جبکہ سیلز ٹیکس کے محصولات بڑے بڑے پروجیکٹس کے لئے مختص کئے جاتے ہیں ۔ متمول سفید فام کاؤنٹی کے ٹیکس محصولات سیاہ فام اکثریتی علاقوں سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ پبلک اسکول کی فنڈنگ کے لئے مختص وسائل کا یہ عالم ہے کہ اندرونِ شہر سیاہ فام علاقے میں پورے اسکول کا بجٹ بمشکل سوا لاکھ ڈالر سالانہ ہوتا ہے جبکہ متمول سفید فام اکثریتی علاقے کے اسکول کی فٹ بال ٹیم کا بجٹ باآسانی تین لاکھ ڈالر سے زائد ہوتا ہے۔ بجٹ تفاوت کے یہ اثرات اساتذہ اور سہولیات پر بھی ہوتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ تعلیم کے معیار کی صورت میں بر آمد ہوتا ہے۔
یوں غلامی اور نسلی تفریق کو قانوناٌ ختم ہوئے تو مدت گذر گئی لیکن نسلی تفریق کی یہ انتظامی صورت اپنے بھیانک اثرات کے ساتھ آنے والی نسلوں کے درمیان ایک خلیج قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہ تفریق پولیس کے نظم و نسق میں یوں رچی ہوئی ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہر تین سیاہ فام مردوں میں سے ایک کو زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور جیل کی ہوا کھانا مقدر ہے۔ جیل جانے کا مطلب اس کے ریکارڈ، بیشتر صورتوں میں کریڈٹ ہسٹری اور سماجی مرتبے پر ایک نہ ختم ہونے والا زندگی بھر کا داغ ہے جو بینکنگ سے ملازمت تک اس کے مقدر کا منہ چڑائے گا۔ مارٹن لوتھر کنگ کا شہرہ آفاق فقرہ آج بھی مکمل تعبیر کے لئے اٹلانٹا کے درو دیوارسے تعبیر کے انتظار میں بھٹک رہا ہے۔۔۔ I have a dream ۔ اٹلانٹا کی کچھ دلچسپ مگر مثبت جھلکیاں اگلے کالم کے لئے موقوف۔