ملتان میں کاشی گری کا آغاز کب ہوا

کاشی گری ملتان کی پہچان ہے۔ ملتان میں کاشی گری کا خوب صورت کام بہااُلدین زکریا، شاہ رکن عالم اور شاہ یوسف گردیز کے مزارات کے کے علاوہ مسجد علی محمد خان، ساوی مسجد اور مسجد بہا اُلدین زکریا کے علاوہ بہت سی مساجد اور مزارات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ملتان کے علاوہ سندھ کے اکثر مزارات و مساجد میں کاشی گری کے عمدہ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود کاشی گری کے ان عظیم شاہکاروں کی چمک اب بھی اُسی طرح برقرار ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال پرانا یہ فن اب آہستہ آہستہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

اب صرف گنتی کے چند لوگ باقی بچے ہیں جو اپنی محنت اور جانفشانی سے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کاشی گری کے فن کو وہ پزیرائی نہیں ملی، جو اسے ملنی چاہئے تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرکاری سرپرستی کا نہ ہونا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کاشی گری کا فارمولا شروع دن سے ہی ایک ہی خاندان کی میراث رہا ہے اور اس خاندان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کاشی گری فن خاندان سے باہر نہ جانے پائے۔
ملتان شہر کی تاریخ کی طرح کاشی گری کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے۔ کاشی گری کے فن کے بارے میں بہت سی روایتیں مشہور ہیں۔ اس فن شریف کے صناع چھٹی صدی ہجری تاتاریوں کے حملے کے سبب کاشان سے ترک وطن کر کے صوفیا و مشائخ کے ہمراہ آئے اور یہاں اُنہوں نے عمارات کی آرائش بالخصوص مساجد و مقابر کے لئے روغنی اینٹیں تیار کرنا شروع کیں۔ بعض مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فن موہن جوداڑو کے دور سے چلا آ رہا ہ، لیکن یہ محض قیاس آرائی ہے، اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ موہن جوداڑو سے ملنے والے آثار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موہن جوداڑو کے لوگ مٹی کے برتن اور اُن برتنوں پر خوبصورت نقش و نگار بنانے میں مہارت رکھتے تھے، لیکن کاشی گری کے فن سے ناواقف تھے۔ موہن جوداڑو سے ملنے والے برتنوں میں سے ایک بھی برتن ایسا نہیں ملا جسے کاشی گری قرار دیا جا سکے۔

کاشی گری کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ کاشی گری کے فن کی ابتدا چین سے ہوئی، وہاں سے ایران اور ایران سے ملتان آیا۔ ایران کی بہت سی مساجد اور مزارات میں کشی گری کا عمدہ کام دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر مشہد کے بہتر شہید مسجد کے دروازے اور دیواروں پر بہت خوبصورتی سے کاشی گری کا کام کیا گیا ہے۔ ملتان میں محلہ کمگنراں کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ اسے ایران سے آئے ہوئے کاشی گروں نے آباد کیا تھا۔ علامہ عتیق فکری، جو اسی محلے کے رہنے والے تھے، نے اپنی کتاب نقش ملتان میں یہاں کے رہنے والے بہت سے کاشی گروں کا ذکر کیا ہے۔  تاریخ ملتان کے مصنف نور احمد فریدی کا بھی یہی خیال ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ " اس فن شریف کے صناع چھٹی صدی ہجری تاتاریوں کے حملے کے سبب کاشان سے ترک وطن کر کے صوفیا و مشائخ کے ہمراہ آئے اور یہاں اُنہوں نے عمارات کی آرائش بالخصوص مساجد و مقابر کے لئے روغی اینٹیں تیار کرنا شروع کیں۔ دیدہ زیب نقش و نگار کی کاشی ٹائلیں مغل عہد 1550 تا 1750 تک مختلف رنگوں میں منظر عام پر آنے لگیں مگر فیروزی اور نیلے رنگوں کو ملتان سے خصوصی نسبت ٹھہری اور یہ رنگ ملتانی رنگ کہلانے لگے۔ بعد ازاں  قسم کے ظروف، پھولدان اور ستون بننے لگے۔ کاشی گری میں بالعموم فروزی رنگ کا کام ہوتا ہے سبز رنگ بھی استعمال ہوتا ہے مگر بہت کم۔"

پاکستان کے آثار قدیمہ کے مصنف شیخ نوید اسلم لکھتے ہیں کہ نقش و نگار میں پتوں شاخوں اور پھولوں کا استعمال اس فن پر ایرانی اثرات کا غماز ہے۔ ایرانی فنون لطیفہ میں چونکہ منگول اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں اس لئے بعض مورخین کا خیال ہے کہ کاشی گری کا آغاز غالباً کاشغر (چین) میں ہوا۔ آٹھویں صدی کے آغاز میں جب مسلمان فاتح محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا تو اسلامی لشکر کے ہمراہ کاشی گر یہاں آئے اور ملتان میں آباد ہوئے۔ مغلیہ دور حکومت میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1853 میں جب ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں عمدہ پیمانے پر کھدائی ہوئی تو ایسی روغنی ٹائلیں برآمد ہوئیں، جن کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ وہ نویں صدی عیسوی میں تیار کی گئی تھیں۔ اخلاق احمد قادری اپنی کتاب تاریخ و تمدن ملتان میں کاشی گری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سادہ، فیروزی اور نیلے رنگ کی ٹائلیں پہلے پہل یہاں تیرھویں صدی عیسوی میں تیار کی گئیں تھیں۔ آہستہ آہستہ دیدہ زیب نقش و نگار کی کاشی ٹائلیں مغل عہد 1550 تا 1750 تک مختلف رنگوں میں منظر عام پر آنے لگیں۔ مگر فیروزی اور نیلے رنگوں کو ملتان سے خصوصی نسبت ٹھہری اور یہ رنگ ملتانی رنگ کہلانے لگے۔

عمارات میں ان ٹائلوں کا استعمال عام ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ ظروف بھی بنے۔ شیخ نوید اسلم کے مطابق اس فن کی ترقی کے لئے نہ صرف پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کام ہو رہا ہے بلکہ عالمی بنک اور یونیسکو جیسے ادارے بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کاشی گری کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں۔ بلیو پاٹری کے کام والی دیگر مصنوعات کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے اس میدان میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش موجود ہے۔

(بشکریہ: سجاگ ۔ ملتان)