جمہوریت کے لئے برا شگون

سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی، شریف خا ندان کی مستقبل کی سیاسی امید، اور مسلم لیگ (ن ) کی ابھرتی ہوئی قیادت محترمہ مریم نواز اب ترازو لے کر عوامی جلسوں میں آگئی ہیں۔ راولپنڈی کے سوشل میڈیا کنوشن میں جب انہوں نے وہ ترازو لہرایا جس کا ایک پلڑا ڈائس کو چھو رہا تھا اور دوسرا ہوا میں ہچکولے کھا رہا تھا تو جماعت اسلامی کے لوگوں کو یقینا خوشی ہوئی ہوگی کہ اُن کا ا تخابی نشان اُن کے مخالفین کے ہاتھوں میں بھی آگیا ہے ۔ تاہم راولپنڈی شہر میں مریم نواز کا ترازو لہرانا حنیف عباسی کو پا نی پا نی کرگیا ہوگا جو کبھی ’’ترازو‘‘ کے نشان پر جیتے تھے اور اب ایک سیاسی خاندان کی ذہنی غلامی میں خوار و زار ہورہے ہیں۔

مریم نواز نے عدم توازن کے باعث ہوا میں اڑتے ہوئے ترازو کو عوام کے سامنے لہرا کر توہیِن عدالت کا ایک اور جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ واضح طور پر اس طرح کے کام کرتی رہی ہیں۔ کبھی وہ پوچھتی ہیں کہ پانچ افراد کو کیا حق ہے کہ وہ کروڑوں افراد کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دیں! کبھی وہ عدالتی فیصلے کو عوام سے نامنظور کرواتی ہیں۔ اور کبھی اسی طرح کی دوسری باتیں کرتی ہیں جو نہال ہاشمی کی گفتگو سے زیادہ پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں۔ اس وقت نوازشریف اور مریم نواز کی گفتگو پر دیگر سیاسی جماعتیں تحفظات کا اظہار اور تنقید کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اداروں کا احترام ضروری ہے، اور ایک آئینی ادارے کے خلاف عوامی جلسوں میں تقریریں کرنے اور عوام کو اکسانے سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ لیکن نوازشریف اور مریم نواز نہ صرف اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے بلکہ ہر روز ان کے لہجے میں تلخی بڑھتی جارہی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ا ندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی ماضی میں عدالتی فیصلوں اور عدلیہ پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی جمہوریت کے لیے حقیقی اقدامات کیے، نہ اس کے لیے کبھی ایثار سے کام لیا۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ ہماری بیشتر سیاسی جماعتوں کا اندرونی نظام ہی غیر جمہوری ہے۔ پارٹیوں پر خاندانوں کا قبضہ ہے اور یہاں قیادت انتخاب کے بجائے موروثیت کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔

پارٹیوں کے اندر مشاورتی ظام کم اور قیادت کی خوشامد زیادہ ہے۔ اکثر جماعتوں کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیاں عملاً بے اثر ہیں۔ ان کی رائے کی پارٹی لیڈر کے سامنے کوئی وقعت نہیں۔ بہت سے معاملات میں پارٹی لیڈر اپنی ایگزیکٹو کونسل سے رائے لینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ دوسرے، سیاسی جماعتیں عوامی خدمت کے بجائے مقتدر حلقوں کی آشیرباد سے آگے بڑھتی ہیں۔ یہ طرزعمل انہیں عدلیہ کے بارے میں بھی غیر جمہوری انداز پر اکساتا ہے۔ چنانچہ سیاسی جماعتیں زبانی طور پر تو عدلیہ کی آزادی کی حامی ہیں لیک عملاً عدلیہ کو اپنے زیراثر رکھنا چاہتی ہیں، اور وہی عدالتی فیصلے قبول کرتی ہیں جو خود ان کے حق میں ہوں۔ اپنے مؤقف کے مخالف عدالتی فیصلوں کو اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی قبول نہیں کیا۔ اور ہماری پوری سیاسی تاریخ ایسے عدالتی فیصلوں اور متاثرہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کے بارے میں توہین آمیز رویوں سے بھری پڑی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے سا گھڑ کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کو گرفتار کرکے جیل بھجوادیا تھا لیکن اس پر پیپلزپارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں نے کوئی آواز نہیں اٹھائی تھی۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کو پیپلزپارٹی نے کبھی قبول نہیں کیا، پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف نہ صرف ہر سطح پر توہین آمیز رویہ اپنایا بلکہ اسے عدالتی قتل کہہ کر اس پر نظرثانی کی باقاعدہ کوشش بھی کی۔ اس سلسلے میں بے نظیر کے پہلے دورِ حکومت میں ایک ا نٹرنیشنل جیورسٹ کا فرنس بھی بلائی گئی تھی، جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ مختلف ممالک کے ججوں سے بھٹو پھا نسی کیس کے خلاف رائے لی جاسکے۔ لیکن پیپلز پارٹی اس میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ صرف سری لنکا کے ایک جج نے پیپلزپارٹی کی پسند کی رائے دی، باقی نے اس کیس کو ری اوپن کر نے کی حمایت نہیں کی۔ حالا نکہ بھٹو صاحب کو سزا لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے متفقہ طور پر سنائی تھی اور سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریتی رائے سے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا مگر پیپلزپارٹی آج تک یہ کہتی ہے کہ یہ فیصلہ ججوں کا نہیں ضیاء الحق کا تھا۔ نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت میں صدر غلام اسحق خان نے نواز حکومت کو برطرف کیا اور نواز شریف اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے جہاں سے وہ بحال ہوئے تو پیپلزپارٹی نے اسے چمک کا فیصلہ قرار دیا اور اپنے جلوسوں میں ایک بچے کو جناح کیپ پہناکر بریف کیس ہاتھ میں پکڑا کر پورے ملک میں گھمایا۔ یہ عدلیہ کی توہین کی ایسی ہی مثال تھی جیسی اب ہوا میں اڑتے ہوئے ترازو کی ہے۔ نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور بے نظیر وزیراعظم، تب نوازشریف کی کمپنی اتفاق فاؤنڈری لمیٹڈ کا اسکریپ سے بھرا جہاز جوناتھ کئی ماہ تک کراچی کی بندرگاہ پر کھڑا رہا لیکن بے نظیر حکومت نے عدالتی احکامات کے باوجود اتفاق کمپنی کو ریلوے ویگن فراہم نہیں کیں۔

عمران خان نے 2013 کے ا تخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ فیصلہ ان کے حق میں نہ آسکا لیکن عمران خان اب تک اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں، اور فیصلہ آنے کے فوری بعد تحریک انصاف کے جیالوں نے سوشل میڈیا پر جو طوفان اٹھایا وہ سب کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے خلاف عدالتی کارروائی پر پیپلزپارٹی ابھی تک برہم ہے۔ جمعیت العلمائے پاکستان کے مولانا حامد سعید کاظمی کو بطور وزیر مذہبی امور سپریم کورٹ نے جیل بھجوایا تو سّنی جماعتوں نے اسے فرقہ واریت کا رنگ دے دیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو سے متعلق درخواست پر عدالت سے ریلیف نہ ملا تو انہوں نے عدالتی فیصلے پر خاصی تنقید کی۔ 1985 میں ڈاکٹر شیر افگن مرحوم میانوالی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کے مخالف عامر حیات روکڑی ان کے خلاف انتخابی عذرداری لے کر سپریم کورٹ پہنچے جہاں ڈاکٹر شیرافگن  اہل ہوئے۔ لیک جمہوریت کے اس چیمپئن اور آئینی امور کے اس ماہر ڈاکٹر شیرافگن نے اس فیصلے پر ایسے ریمارکس دیئے جنہیں دہرانا مشکل ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں مفتی محمد حسین نعیمی مرحوم نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ بھٹو مرحوم کو شہید نہ لکھا جائے، یہ عدالتی فیصلے کی توہین ہے۔ عدالت نے یہ درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ کسی کے شہید ہو نے یا نہ ہونے کا فیصلہ اللہ کی ذات ہی کرسکتی ہے، جس پر مفتی نعیمی نے ایک بیان جاری کیا کہ میری درخواست کا فیصلہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں اُس وقت ہوگیا تھا جب وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی متعلقہ ججوں سے ملاقات کرائی گئی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کی ااہلی کو پیپلز پارٹی آج بھی تسلیم نہیں کرتی۔

سپریم کورٹ پر حملے کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے جن لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی، مسلم لیگ (ن) نے نہ صرف اسے قبول نہیں کیا بلکہ جو لوگ عدالتی فیصلے سے متاثر ہوئے انہیں پارٹی اور حکومتی عہدے بھی دیئے۔ نوازشریف طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے ایک کردار سابق آئی جی سندھ رانا مقبول کو مسلم لیگ (ن) نے پہلے صوبائی مشیر بنائے رکھا اور اب سینیٹر منتخب کروا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جہا نگیر ترین کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا تو تحریک انصاف نے ان کے نوآموز بیٹے کو ٹکٹ جاری کرکے عدالتی فیصلے کا مذاق اڑایا۔ ہماری پوری سیاسی تاریخ میں ایسے تمام افراد جو مختلف عدالتی کارروائیوں کی زد میں آئے، سیاسی جماعتوں نے نہ صرف انہیں گلے لگایا بلکہ انہیں حکومتی اور جماعتی عہدے دے کر واضح کردیا کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام صرف زبا نی طور پر کرتے ہیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ شجاعت عظیم اسی دور میں شہری ہوابازی کے مشیر تھے۔ وہ غیر مننتخب، دہری شہریت کے حامل اور ایئر فورس سے کورٹ مارشل ہوچکے تھے۔ عدالت کے سخت ریمارکس اور تیور دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد نوازشریف نے انہیں دوبارہ اسی محکمے کا مشیر مقرر کیا۔

یہ ہے ریکارڈ ہماری سیاسی جماعتوں کا عدلیہ کے بارے میں۔ یہ اپوزیشن میں ہوں تو عدلیہ کی آزادی کے نعرے لگاتی ہیں، اور حکومت میں آجائیں تو عدلیہ کو اپنا ایک زیرانتظام محکمہ بناکر رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ اپنی مرضی کے جج مقرر کرنا چاہتی ہیں اور ان سے مرضی کے فیصلے چاہتی ہیں۔ اگر کبھی عدلیہ ان کے خلاف فیصلہ دے دے تو ترازو لے کر میدان میں آجاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں سپریم کورٹ نے شرجیل میمن اور تاج حیدر کو توہیِن عدالت میں طلب کیا تو پیپلزپارٹی سندھ کے 90 سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی اسلام آباد پہنچے جہاں عدالت عظمیٰ کے خلاف پریس کا نفرنس کی اور عدالت میں اس طرح پیش ہوئے جیسے کسی کو ڈرانے آئے ہوں۔ ایسے میں ترازو لہرانے، اور لہراتے ترازو میں عدم توازن ظاہر کرنے میں مریم واز کہاں تک جاتی ہیں۔۔۔ عدالت اس کا نوٹس لیتی ہے یا ہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن) اسے کس طرح لیتی ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں اس پر کیا ردعمل دیتی ہیں، خصوصاً پارلیمنٹ اس پر کیا رائے دیتی ہے، یہ بات اہم تو ہے، لیکن لگتا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی سابقہ روش سے باز نہیں آئیں گی اور یہ جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔