شام میں بربریت کا کھیل اور عالمی قوتیں
- تحریر افتخار بھٹہ
- اتوار 18 / مارچ / 2018
- 4787
شام میں7 سال سے جاری خانہ جنگی نے پورے ملک کو تباہ و بربا د کر کے رکھ دیا ہے۔ شام بیرونی طاقتوں اور علاقائی پراکسیوں کا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بقول مشرقی غوطہ زمین پر جہنم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس شہر میں 93ہزا ر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ میڈیا پر بمباری سے ہلاک ہونے والے اور زخمیوں اورلاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے مغربی میڈیا اس ساری صورتحال کا ذمہ دار شامی حکومت اور روس کو ٹھہرا رہا ہے۔ روس نے براہ راست مداخلت کی تردید کی ہے۔ شامی حکومت کا کہنا ہے اس کا مقصد عوام کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مشرقی غوطہ کو دہشت گردوں سے آزاد کرانا ہے۔
مگر کس کی بات پر یقین کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کے بارے میں رائے شماری کئی بار تعطل کا شکار ہوئی۔ روس جو کہ شام کا اتحادی ہے اس نے قرا ر داد کے مندرجات میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا۔ روس کو جنگ بندی کرنے کی جلدی نہیں تھی کیونکہ شام میں اس کے اتحادی میدان جنگ جیت رہے تھے۔ جس میں بیچارے عوام ہی لقمہ اجل بن رہے تھے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ساری صورتحال کو روس کے خلاف میڈیا وار جیتنے کیلئے استعمال کر رہے تھے۔ جس طرح غوطہ میں ہلاکتوں کے بارے میں جذبا ت کا اظہار کیا گیا ویسا موصل کے بارے میں نہیں ہؤا۔ شاید وہاں پر امریکی بم گر رہے تھے۔ بالآخر روس نے30روزہ جنگ بندی کی قرا داد پر دستخط کر دیئے جس میں امن کے حوالے سے مشرقی غوطہ نہیں بلکہ پورے شام کا ذکر تھا۔ جنگ بندی محض پانچ گھنٹے تک رہی۔ محصور لوگ علاقے سے باہر نہیں نکل سکے۔ جہادی اور شامی ایک دوسرے کے خلاف بم برساتے رہے، امریکیوں کے بقول وہ عام باغیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جنہیں سرگرم شامی کارکنان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ محصور علاقوں پر جنگجو جہادیوں کا قبضہ ہے جن کے نظریاتی داعش اور القاعدہ کے ساتھ ملتے ہیں۔ سی آئی اے بشار الاسد کو سبق سکھانے کیلئے ان انتہا پسندوں کی حمایت کر رہی ہے مگر شامی صدر روس کی مدد سے ان باغیوں کو سبق سیکھا رہا ہے ۔ یہ جہادی گروپ جان بوجھ کر مشرقی غوطہ کی طرف آنے والے امدادی قافلوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو یر غمال بنا رکھا ہے۔ وہ دمشق پر گولہ باری بھی کر رہے ہیں ۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کا اطلاق داعش یا النصرہ پر نہیں ہوتا ۔ روس نے دوسرے گروہوں کو بھی اس میں شامل کرنے کا کہا ہے جنہیں اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ مغربی میڈیا نے غوطہ کے بارے میں بہت شور مچا رکھا ہے جبکہ موصل اور حلب میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا کچھ ذکر نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ تمام تباہی امریکی بمبوں، میزائیلوں، گولہ بارود اور سفید گندھک کے استعمال سے ہوئی ہے ۔ شامی اور روسی اتحادیوں کے جنگی جرائم کی مذمت تو کی جاتی ہے مگر امریکی اتحادیوں کے جنگی جرائم کے بارے میں کچھ سنائی نہیں دیتا ہے۔ میڈیا اور اس کے پروپیگنڈا کا واحد مقصد دنیا بھر کی رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا کرنا ہے تاکہ امریکہ کے دشمنوں کو بد نام کرتے ہوئے مشرق وسطی میں مزید سامراجی مداخلت کا اخلاقی جواز پیدا کیا جا سکے۔ بہر حال موجودہ پروپیگنڈا سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ حتمی فتح شامی افواج کی ہوگی ۔ ماضی میں امریکہ نے عراق میں مداخلت کی تھی جو اس خونی کھیل کی بنیاد بنی۔ نتیجہ میں لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔ خطے میں کنٹرول حاصل کرنے کیلئے اپنے حواریوں کی حمایت حاصل کی جس میں صدام حسین کو ایک خونی درندہ اور حافظ الاسد کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا دشمن قرار دیا گیا۔ اس انتقام کی بھینٹ لیبیا کے صدر کرنل قذافی کو چڑھا دیا گیا ۔ یہ بات سب کے علم میں ہے افغانستان سے لے کر مشرق وسطی میں طالبان ، القاعدہ اور داعش کے ابھار اور قیام کیلئے کن ممالک نے معاونت کی تھی۔ یہ گھناؤنا کھیل پاکستان میں بھی کھیلنے کی کوشش کی گئی جس کو پاکستان کی مسلح افواج نے ناکام بنا دیا ۔ اور ابھی تک ان کے بچے کھچے افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ پاکستان نے کسی بھی ایسے فوجی اتحاد میں شمولیت سے معذرت کی ہے جو اسلامی اتحا د کو مزید انتشار سے دو چار کر سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ احمد ظریف دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں خیر سگالی اور تعاون کا عندیہ دیا گیا ہے ۔
بد قسمتی سے ہمارے بائیں بازو کے دانشوروں کو ہر تحریک میں انقلاب اور تبدیلی آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے یہی صورتحال شام میں سات سال قبل باغیوں کی تحریک کے حوالے سے ہے۔ جنہیں چند ممالک نے پیسہ لگا کر داعش کی صورت میں بھیجا تھا۔ انہوں نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ ان تمام گروہوں کو پینٹا گون اور امریکہ کے مغربی اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی جو دنیا سے نیو ورلڈ آرڈر کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ مگر عالمگیرت کی بالا دستی کا یہ خواب دنیا میں اٹھنے والی مخالف تحریکوں ، خانہ جنگیوں، اقتصادی تضادات اور چین کی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت اور روس کی حکمت عملیوں کی وجہ سے بکھر چکا ہے۔ سعودی عرب یمن میں ممکنہ جنگی کارروائیوں کی وجہ سے مالیاتی دباؤ میں ہے۔ وہ نوجوان نسل کو انقلاب اور بغاوت سے روکنے کیلئے ترمیم پسندی پر مجبور ہو چکا ہے۔ اور مغرب سے ہم آہنگ سماج کا قیام چاہتا ہے۔ یہ ملک تبدیلیوں کے ارتقائی دور سے گزر رہا ہے جن کے حوالے سے پاکستان میں ایک مسلک سے تعلق رکھنے والے گروہ پریشان نظر آتے ہیں ۔
شام میں روس کی مداخلت سے حالات فیصلہ کن انداز میں بشار الاسد کے حق میں چلے گئے ہیں۔ حلب میں شکست ایک فیصلہ کن موڑ تھا جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی حکمران طبقے کا بڑا حصہ جنگ بندی کے حق میں تھا۔ پیوٹن نے ہر قدم پر ان کی کارروائیوں کو ناکام بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں روس اور شام علاقے میں غالب قوت کے طور پر موجود ہیں۔ امریکہ کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا ہے۔ وہ افغانستان میں امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے جس کیلئے وہ پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔ عراق اور شام ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں غیر مستحکم رہیں گے۔ ایران نے پورے خطے میں اپنے اثر رسوخ میں اضافہ کر لیا ہے۔ عالمی طاقتیں شام میں گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ بشارالاسد کو تو بچا لیا گیا ہے مگر اس کے ساتھ ترکی سے ساز باز جاری ہے۔ روس کی اجازت کے بغیر یہ بات مشکل لگتی ہے کہ اردگان شام میں کردوں پر حملہ کرنے کیلئے اپنی فوج بھیجتا۔ اس حوالے سے روس اور ترکی کے درمیان معاہدہ موجود ہے کہ وہ شامی اور وسی فوجوں کی کارروائی کی مخالف نہیں کرے گی۔
روس جنگ کے دوران ایران کے ساتھ اتحاد میں رہا ہے۔ اب کرد اپنی بقء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو غالباً انہیں شام کا حصہ رہنے کی شرط پر خود مختاری مل جائے گی۔ اس طرح شام میں ہونے والی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس میں سرحد پر بیٹھی قوتیں اور ان کے مفادات نئی سمتوں کا تعین کریں گے۔ مختلف قوتوں کے درمیان اتحاد تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر مسائل کا نشانہ ہمیشہ شامی عوام ہی ہوں گے۔