عبید اللہ سندھی اور ترقی پسندی
- تحریر محمدعامرحسینی
- اتوار 18 / مارچ / 2018
- 16199
ہمارے بہت سارے بائیں بازو اور لبرل کیمپ کے لکھاری اور ایکٹوسٹ مولانا عبیداللہ سندھی کو ترقی پسند، روشن خیال اور رجعت پرستی سے خالی سامراج دشمن مفکر خیال کرتے ہیں ۔میرا اپنا خیال بھی ابتداء میں ایسا ہی تھا لیکن جب میں نے دیوبندی تحریک کا منظم مطالعہ شروع کیا اور عبیداللہ سندھی کی کتب میرے سامنے آنا شروع ہوئیں تو میرے خیالات میں واضح بدلاؤ آیا۔ عبیداللہ سندھی کے خیالات شیعہ، ہندو، کرسچن، صوفیاء کے بارے میں نہ تو وہابی ازم سے مختلف ہیں اور نہ ہی دیوبند کے سخت گیر لوگوں سے ۔ ان کے ہاں تکثریت پسندی غائب ہے اور مجھے ان خیالات کو پڑھ کر یہ حیرانی ہوتی ہے کہ وہ کیسے ہمارے بائیں بازو کے کیمپ کے پسندیدہ لوگوں میں شمار ہوگئے ۔
مولانا عبید اللہ سندھی کی کتاب’’ شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی زندگی ‘‘ کا مطالعہ کریں تو بعض اقتباسات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں عبید اللہ سندھی نے یہ دعوی کیا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہندوستان میں جدید سیاسی معنوں میں ایک مربوط نظام فکر و عمل کی حامل ایک انقلابی جماعت اور اس جماعت کے اوپر ایک تحریک چلانے کے خواہاں تھے۔ لیکن ان کے اس دعوے کے جواب میں جب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے کام سے آشنا یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے ذہن میں اپنی انقلابی جماعت اور ایک تحریک پیدا کرنے کا خیال تھا تو انہوں نے کسی ایک جگہ اس کا تذکرہ کیوں نہ کیا۔ عبید اللہ سندھی اس کا جواب یوں دیتے ہیں:
امام ولی اللہ نے اس فکر کی اشاعت اور تعلیم کی غرض سے بیسوں کتابیں لکھیں اور سب دہلی کی علمی زبان عربی اور عام پڑھے لکھوں کی زبان فارسی میں تھیں۔ ان کتابوں کو حکیم الہند (شاہ ولی اللہ ) نے اپنی دعوت کے اصول اور مسائل ضبط کئے ۔ لیکن اس معاملے میں اتنا التزام فرمایا کہ ان امور کو ایک جگہ قلمبند نہ کیا بلکہ ان کو اپنی تصانیف میں ادھر ادھر پھیلا کر بیان کیا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ نااہل لوگوں کی دست برد سے محفوظ رہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی، شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک کو ہندوستان کے تمام باشندوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے پیغام ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ اور ان کے پیش روؤں کے خیالات پہ جب نظر دوڑائی جاتی ہے تو ان کی تحریک تو ہندوستان کے مسلمانوں کے جملہ مکاتب فکر سے بھی جا ٹکراتی ہے ۔ ان کی تھیالوجی، فقہ اور سیاسی سوچ خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کے لئے ناقابل قبول ٹھہر جاتی ہے ۔
مولانا عبید اللہ سندھی کے جملوں سے پتا چلتا ہے کہ ان کو خود بھی اس مشکل کا اندازہ تھا۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ شاہ ولی اللہ جب حج سے واپس آئے تو انہوں نے اس وقت برسراقتدار بادشاہ محمد شاہ کے خلاف اشارے سے یا تفصیل سے کوئی ایک بات بھی نہ لکھی۔ اور اس دوران انہوں نے شاید روہیل کنڈھ ، اودھ ، جدید یوپی میں پشتون سرداروں سے روابط رکھے اور ان میں ایک بڑا رابطہ نجیب الدولہ سے تھا اور اسی نجیب الدولہ کے ذریعے سے شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ روابط خفیہ ہی تھے اسی وجہ سے محمد شاہ مغل بادشاہ نے دہلی میں پورا شاہجہان آباد محلہ شاہ ولی اللہ کو دے دیا تھا جہاں مدرسہ رحیمیہ دہلی کی نئی عمارت کی تعمیر ہوئی۔ مولانا عبید اللہ سندھی یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے محمد شاہ کو شاہ ولی اللہ کی دعوت سے آگاہی تھی، وہ اس دعوت کی مقبولیت سے خوش تھا اور اسی لئے اس نے زیادہ وسیع جگہ شاہ ولی اللہ کے مدرسے کے لئے دے دی۔ لیکن شاہ محمد کی پالیسیی تو صلح کل کی تھی اور وہ ہندوستان میں اس کلچر کو پروان چڑھا رہا تھا جس کی مذمت میں شاہ صاحب کے پیش روؤں نے بعد میں کتابوں کی کتابیں لکھ ماریں۔ شاہ اسماعیل و سید احمد بریلوی کی تحریک جہاد سے لے کر دیوبند مدرسہ تحریک ہندوستان برصغیر میں ایک مشترکہ کلچر کی نفی پہ ہی کھڑی کی گئی۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو مولانا عبید اللہ سندھی حل نہیں کرپاتے ۔ اور پھر وہ مدرسہ دہلی سے لے کر تحریک جہاد،1857 کی جنگ، دیوبند مدرسہ تحریک کو ایک تسلسل میں دکھاتے ہیں جس کا مقصد ہندوستان کے اندر مسلم اشرافیہ کے زوال کو ختم کرکے واپس لانا نہیں بلکہ عبید اللہ سندھی کے نزدیک وہ عالمگیر اسلامی انقلاب لانا تھا جس کو وہ اسلام کا مقصد اولین قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ شاہ ولی اللہ نے جب نجیب الدولہ سمیت افغان اشرافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کی تو اس سے صاف نظر آتا ہے کہ شاہ ولی اللہ کی اندرون خانہ خواہش تھی کہ مغلیہ سلطنت کابل کے ساتھ ملے۔ وہ شاید دربار میں شیعہ اور صوفی سنّی ایسے مقتدر لوگوں سے خوش نہ تھے جو ہندوستان میں ہندؤں، سکھ، مسلمان، شیعہ ، سنّی سب کو ساتھ لےکر چلنے کی بات کررہے تھے۔
شاہ ولی اللہ کے نزدیک اورنگ زیب کی روش بالکل درست تھی اور وہ اورنگ زیب کے زمانے والی صورت حال واپس لےکر آنا چاہتے تھے ۔ شاہ ولی اللہ کی کتابوں سے ہمیں کسی ایک جگہ پہ بھی یہ پتا نہیں چلتا کہ انہوں نے ہندوستان کے اندر مرکزی حکومت کے خلاف مرہٹہ، سکھ، سندھی اور دیگر مقامی لوگوں کی بغاوتوں اور ان کی بار بار چڑھائیوں بارے کوئی ایسا تجزیہ بھی کیا ہو جو یہ بتانے کے قابل ہو کہ اس صورت حال کے پیدا کرنے میں اورنگ زیب کی اپنی پالیسیوں کا کس قدر کردار تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عبید اللہ سندھی نے بھی اورنگ زیب کے بارے میں جو خیالات ظاہر کئے اس سے پتا یہ چلتا ہے کہ عبید اللہ سندھی کے نزدیک بھی اورنگ زیب بہت ہی زبردست بادشاہ تھا اور وہ اسے محی الدین بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ بہت ہی غیر سائنسی، غیر عقلی اور غیر منطقی تجزیہ ہے جو عبید اللہ سندھی اس زمانے کے بارے میں کرتے ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی شاہ ولی اللہ کے نجیب الدولہ سے گٹھ جوڑ اور اس کے ذریعے سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پہ حملے کی دعوت دینے کا پرزور دفاع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے دہلی کے سیاسی افق کو مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ کردیا گیا۔
1174 میں پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کی افواج نے مغلیہ افواج کو شکست دے دی اور اس واقعے کے دو سال بعد شاہ ولی اللہ کا انتقال ہوگیا۔ شاہ ولی اللہ ہوں، شاہ عبدالعزیز ہوں اور ان کے خاندان کے دیگر لوگ ہوں ، مدرسہ دیوبند تحریک کے اکابر ہوں یا عبیداللہ سندھی کے ماننے والے ہوں ان میں سے کسی ایک نے بھی احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پہ حملوں کے دوران لوٹ مار، قتل و غارت گری بارے کوئی ذکر نہیں کیا۔ احمد شاہ ابدالی کے پہلے حملے کی بات کریں یا اس کے پانچ حملوں کی بات کریں ان حملوں میں دہلی تک جس طرح سے صوفی سنّی صلح کل ، شیعہ ، سکھ، ہندوؤں وغیرہ کا قتلام ہوا اور جس طرح سے ان کو لوٹا کھسوٹا گیا اس بارے میں ایک لفظ بھی مذمت کا، افسوس کا، کہیں لکھا ہوا نہیں ملتا۔ پھر اس حقیقت پہ بھی عبیداللہ سندھی اور ان کے رفقاء کوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ جب نجیب الدولہ نے افغانیوں کے ساتھ اتحاد کرلیا تو اسی اتحاد کے سبب مغل بادشاہ، شیعہ ، صوفی سنّی ، سکھ ، مرہٹہ اور یہاں تک کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج نے مل کر روہیل کھنڈ پہ حملہ کیا تھا اور احمد شاہ ابدالی سے نجیب الدولہ کے اتحاد نے شاہ ولی اللہ سمیت علماء کی ایک خاص تعداد کی حمایت نے ہندوستان میں بین المذاہب اور بین الفرقہ ہم آہنگی کی شکستہ زنجیر کو اور کمزور کرڈالا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ اور ان کے پیش روؤں سے متاثر ہونے والی دیوبند مدرسہ تحریک کے مدح خواں جتنے بھی لکھاری ہیں بشمول عبیداللہ سندھی کے، ان سب نے ہندوستان میں "صلح کلیت اور تکثریت پسندی کی وہ روایت جو اکبر نے شروع کی تھی اس کے مقابلے میں ہمیشہ اورنگ زیب کو فوقیت دی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہندوستان میں دارا شکوہ، میاں میر قادری ، بلھے شاہ، شاہ حسین، کبیر، محب الہ آبادی، سرمد سے زیادہ شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی وغیرہ پہ زور نظر آتا ہے ۔
یہ سکھوں کے ملٹری ازم ، مرہٹہ کے ابھار کا بھی غلط تجزیہ کرتے ہیں۔ اگر عبیداللہ سندھی کی کتاب "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ‘‘ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حیرت انگیز بات یہ سامنے آتی ہے کہ عبیداللہ سندھی یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرہٹہ ، سکھ ، ایرانی درباری، صوفی سنّی، پنجابی یہ سب کے سب سازشی تھے اور اسلام اور مسلمانوں کے ٹھیک نمائندہ اگر کوئی ٹھہرتے تھے تو وہ افغانی ، روہیل کھنڈی اور ان کا ساتھ دینے والے سادات و دیگر قبیلوں کے علماء و نوابین تھے ۔ یہ احمد شاہ ابدالی کو اسلام کا ٹھیک نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ نواب نجیب الدولہ شاہ ولی اللہ کے خاص عقیدت مندوں میں تھے ۔ اور شاہ صاحب کے مشورے سے ہی انہوں نے اور ان کے رفقاء نے احمد شاہ ابدالی کو بلایا تھا۔ اس طرح شاہ صاحب نے دہلی کی حکومت کے اشتراک سے اپنے پروگرام کا ایک حصّہ مکمل کرلیا۔ پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کی کامیابی نے دہلی کے سیاسی افق کو مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ کردیا۔ اس واقعے کے دو برس بعد 1176ھ میں امام ولی اللہ کی وفات ہوئی۔