’’ووٹ کو عزت دو‘‘

مسلم لیگ(ن) کی قیادت اور بالخصوص سابق وزیر اعظم اور تاحیات پارٹی کے قائد نواز شریف نے 2018کے انتخابات کے تناظر میں جو بنیادی انتخابی منشور کا نکتہ پیش کیا ہے، وہ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ ہوگا۔ نواز شریف یقینی طور پر اپنی نااہلی کے بعد سیاسی طور پر بہت رنجیدہ ہیں ۔ ان کے بقول ایک خاص سازش کے تحت پس پردہ قوتوں نے  ان کو سیاسی طور پر بے دخل کیا ہے ۔ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو قبول کرکے گھر بیٹھنے کی بجائے خود باہر نکل کر سیاسی میدان میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نواز شریف کے پاس یہ ہی واحد آپشن تھا وگرنہ دوسری صورت میں ان کی سیاست کا خاتمہ ہوجاتا۔

نواز شریف نے جو بیانیہ سیاسی محاذ پر پیش کیا ہے اس میں ایک نکتہ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ بنایا ہے ۔ ان کے بقول جب تک اس ملک میں اسٹیبلیشمنٹ سمیت دیگر ادارے ووٹ کی حرمت کو پاسداری نہیں دیں گے، جمہوری  عمل مستحکم نہیں ہوسکے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوری معاشروں میں تبدیلی کا عمل انتخابات اور ووٹ کی سیاست سے جڑا ہے ۔ جمہوری نظام کی خوبی یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ شہری کو ووٹ کا حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی قیادت کا انتخاب کرسکے ۔لیکن اگر ہم پاکستا ن کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں سول ملٹری اداروں کے درمیان جو باہمی چپلقش بالادست نظر آتی ہے اس نے سیاسی نظام میں تسلسل کو قائم نہیں کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جمہوری نظام نہ تو طاقت پکڑ سکا او رنہ ہی جمہوری نظام اپنا تسلسل برقرار رکھ سکا ۔ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اچھے اور اہم حساس نوعیت کے معاملات پر فکرمندی اس وقت ہوتی ہے جب وہ سیاسی عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قیادت اقتدار کی سیاست میں حصہ دار ہوتی ہے تو ان کا طرز عمل اصلاحات اور بہتر تبدیلی کے امکانات کو پیدا کرنے کی بجائے ذاتی مفادات پر مبنی سیاست ہوتی ہے ۔ آج نواز شریف جن اصلاحات سمیت ووٹ کو عزت دو کی بحالی پر انتخابی منشور چلانے کی بات کررہے ہیں، تو ان سے یہ ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ جب وہ اقتدار کی سیاست میں تھے تو ان کو ان  اصلاحات کا خیال کیوں نہیں آیا اور وہ کیوں  جمہوری سیاست کو مضبوط کرنے پر مبنی اقدامات نہ کرسکے۔

نواز شریف کا بیانیہ یہ ہے کہ ووٹ کو عزت نہیں مل رہی اس کی وجہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی نظام اور حکومتوں کو گرانے اور بنانے میں مداخلت کا عمل ہے ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے ا  راس کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ بھی سیاسی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنی ہے ۔ لیکن کیا مسئلہ محض اسٹیبلیشمنٹ کا تھا یا اس میں ہماری سیاسی جماعتیں خاص طور بڑی جماعتیں اور ان کی قیادت کا بھی کوئی عمل دخل ہے ۔ یہ جو ہم یک طرفہ بنیاد پر حالات کا تجزیہ کرکے بیانیہ بناتے ہیں اس میں مکمل سچ کہیں چھپ کر رہ جاتا ہے ۔ 90 کی دہائی میں جو سیاست پاکستان پر غالب تھی اس میں نواز شریف ووٹ کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کی بجائے مخالفین کی حکومتوں کو گرانے کے کھیل میں خود اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل میں حصہ دار ہوتے تھے ۔ یہ ہی کام بے نظیر بھٹو مرحومہ نے بھی جوابی ردعمل میں  کیا جو نواز شریف نے کیا۔ ان حقائق کوکیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ ووٹ کی عزت کا مسئلہ محض سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کو ایک اور تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ووٹ کی عزت کا تعلق سیاسی قیادت اور ووٹر کے درمیان باہمی تعلق کا بھی ہے ۔ ہماری سیاسی قیادتیں خود ووٹر کو عزت دینے کے لیے تیار نہیں ۔ ووٹر کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی عزت صرف  انتخابی مہم میں ہی ہوتی ہے ۔ یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے جب مقامی سے لے کر قومی قیادت تک سب ہی ووٹرکو اپنے قریب کرنے لیے نئے طریقہ کار اختیار کرتے ہیں ۔ لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہوتے ہیں تو ووٹر اور سیاسی قیادتوں کا باہمی تعلق کمزور ہوجاتا ہے، جو جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے ۔

ہمیں عام آدمی کی زندگی میں محرومی کی سیاست بالادست نظر آتی ہے اس کی وجہ بھی ہماری سیاسی قیادتوں کی جانب سے ووٹ کی حرمت کو پاسداری نہ دینا ہوتا ہے ۔ اصل مسئلہ مسائل کی ترجیحات کا ہوتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ قوم و افراد کی ترجیحات کیا  ہیں۔ آپ لوگوں میں جائیں اور پوچھیں کہ ان کے منتخب نمائندے یا حکومتیں کس حد تک ان کے ووٹ کو عزت دیتے ہیں۔ ووٹ کو عزت دینے سے مراد بنیادی طور پر انسانوں کو اپنی ترجیحات میں لانا ہوتا ہے لیکن یہ عمل ہماری سیاست میں کمزور ہے ۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں اگر آپ انتخابات جیت جائیں یا اقتدار کی سیاست کا حصہ بنیں چاہے وہ یہ طاقت اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے ہی کیوں حاصل نہ ہو تو ووٹ کی عزت ہوتی ہے ۔ لیکن اگر آپ انتخاب ہار جائیں تو واویلا یہ ہی مچایا جاتا ہے کہ ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔ جب تک ہم لوگوں کی جانب سے دیئے جانے والے مینڈیٹ کو پذیرائی نہیں دیتے یہ بحران بدستور ہماری سیاست میں رہے گا۔ اصل مسئلہ ووٹ کی حرمت کے ساتھ ساتھ ایک منصفانہ اور شفاف سیاسی و انتخابی نظام ہے ۔ لیکن اس منصفانہ، شفاف انتخابی نظام یا سیاسی نظام کو لانے میں ہماری سیاسی جماعتوں کی عملا ترجیحات کمز ور ہیں ۔ ووٹ کو عزت دینے کا معاملہ کبھی بھی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس کا براہ راست تعلق مجموعی سیاسی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔

نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی بنیاد پر ضرور انتخابی مہم چلائیں لیکن پہلے اپنی ان غلطیوں کا بھی برملا اعتراف کریں کہ وہ خود اس نظام کے بگاڑ  میں برابر کے ذمہ دار ہیں ۔  ان کے بھائی اور موجودہ پارٹی صدر شہباز شریف رات کی تاریکی میں اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے اپنا اور خود نواز شریف کا سیاسی کھیل کھیلتے اور مخالفین کے خلاف پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل کرتے ہیں، اس کا بھی علاج ضروری ہے ۔ ایک طرف اسٹیبلیشمنٹ سے مزاحمت اور دوسری طرف اسی اسٹیبلیشمنٹ سے مفاہمت کا راستہ  متضاد سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ یہ عجیب مخمصہ ہے ساری سیاسی قیادتیں عمومی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کی مدد سے اپنے سیاسی کارڈ کھیلتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہی ان کی اصل طاقت ہیں۔ لیکن جب یہ ہی اسٹیبلیشمنٹ ان کے خلاف ہوتی ہے تو یہ سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ نواز شریف کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ پارلیمانی سیاست ، پارلیمنٹ اور سیاست میں جو طور طریقے وہ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ کبھی بھی سیاسی اداروں کو مضبوط نہیں بناسکتے۔ کیونکہ سینٹ میں رضا رربانی ، حاصل بزنجو اور محمود اچکزئی نے جو پارلیمنٹ کی کمزوری، جمہوری نظام کی بدحالی اور پس پردہ قوتوں کی بالادستی کا رونا رویا ہے وہ اپنی جگہ بجا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اپنا داخلی تجزیہ کرنے کے لیے تیار نہیں کہ خود ان کے طرز عمل سے جمہوری نظام اور ووٹ کی سیاست کیسے کمزور ہورہی ہے ۔ سیاسی جماعتیں خارجی مسائل کو اسی صورت میں نمٹ سکیں گی جب وہ اپنے داخلی مسائل کے حل میں موثر اور شفاف حکمت عملی اختیار کریں گی ۔

اگر پاکستان کی سیاسی قیادت نے واقعی اسٹیبلیشمنٹ کے مقابلے میں اپنی اور جمہوری سیاست کو مضبوط بنانا ہے تو یہ کام محض رونے دھونے سے نہیں ہوگا۔ اس کا براہ راست تعلق  جمہوری سیاست کے نظام کو شفاف اور جوابدہ بنا کر لوگوں کے ساتھ جمہوری سیاست کے تعلق کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جب جمہوری سیاست مضبوط ہوگی اور لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل حل کررہی ہوگی اور فیصلہ سازی کا عمل مشاورتی اور جمہوری ہوگا تو اسٹیبلیشمنٹ کو بھی اپنی سیاست کا موقع کم ملے گا۔ اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت اور سیاست کو کمزور کرنے کی متبادل حکمت عملی سیاسی جماعتوں کے مضبوط نظام سے ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادتیں اپنی ذات کو مضبوط بنا کر سیاسی نظام چلانا چاہتی ہیں ، جبکہ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کی یہ مہم یا نکتہ ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ ایک ردعمل کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ کیونکہ وہ غصے میں ہیں اس لیے انہوں نے یہ نعرہ اختیار کیا ہے ۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے نظام کی تبدیلی کی بجائے سٹیٹس کو کی سیاست کے قائل ہیں۔  اس کا علاج محض ردعمل کی سیاست نہیں بلکہ ایک مستقل سیاسی حکمت عملی ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف سمیت سیاسی قیادت طاقت کی سیاست کے پیچھے بھاگ رہی ہے ، یہ ہی ہماری سیاست کا بڑا المیہ ہے ۔