روزگار کے شعبہ میں تعلیم یافتہ لوگوں کا استحصال
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 19 / مارچ / 2018
- 5422
ہمیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ مختلف ممالک میں سروے کرنے والی مالیاتی ایجنسوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ مگر ہمارے حکمرانوں کے بقول چند قوتیں پاکستان کو معاشی طور پر پھلنے پھولنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہیں یہ امید ہے اگر چند سالوں میں پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں ہوگا۔ دوسری طرف اخبارات میں حکومت کی طرف سے عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں کی رقوم سے خوش کن اور خوبصورت اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں جن میں کہیں پر سڑکوں، پلوں، فلائی اورز کا افتتاح، بجلی کے کار خانوں کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہوتا ہے جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
پرائیوٹ سیکٹر میں یہ شعبے سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال پاپو لسٹ حمایت کرنے والی جماعتوں کی ہے جہاں پر سرمایہ دار اور جاگیر دار عہدوں اور وزارتوں پر فائز ہیں اور پاور شیئرنگ کے ذریعے اپنے کاروبار اور دولت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سرمائے کے پیدا کردہ لالچ اور ہوس کے اہم شعبے تعلیم اور صحت ہیں۔ ملک میں صنعت کاری کا عمل زوال پذیر ہے، برآمدات گر رہی ہیں، سٹاک مارکیٹ انڈیکس کی تاریخی حدود پھلانگ چکا ہے مگر اس سے حاصل کر دہ سرمائے سے کوئی صنعت نہیں لگائی جا رہی ہے۔ کسی نئے یونٹ کے قائم کرنے کیلئے شیئرز فلوٹ کیے جا رہے ہیں، صنعت ہی واحد ذریعہ ہوتا ہے جو کہ روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرتا ہے مگر بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے پیدا واری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی سستی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے صنعت کار حکومت سے پیکج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ ملک میں زیادہ تر سرمایہ کاری سروسز سیکٹر، بینکنگ اور انشورنس کے شعبے میں آئی ہے۔ کچھ ملازمتوں کے مواقع انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی پیدا ہوئے ہیں اور اب ساری معاشی ترقی کا ہدف پاک چین راہداری کے تحت قائم ہونے والے منصوبوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ایک طرف ملازمت کے مواقع بہت کم ہیں تو دوسری طرف نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں لاکھوں کی تعداد میں ڈگریاں جاری کر رہی ہیں۔ اب تو خاصی تعداد پی ایچ ڈی والوں کی ہو چکی ہے اور ان میں سے بعض اداروں کی جعلی کردہ ڈگریوں کو مقامی اور عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ جبکہ سائنس اور انجیئرنگ کی ڈگریاں substandard نصاب بھی عالمی گلوبل مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں درمیانہ طبقہ زیادہ سے زیادہ آبادی کا 20سے 25فیصد کا ہے یعنی بہت اندازے کے مطابق پانچ کروڑ سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب کہ پندرہ کروڑ عوام مزید غربت میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ غربت اور ترقی ماپنے کے پیمانے اور طبقات کی درجہ بندی کے طریقے بھی جان بوجھ کر ناقص اور دوھوکہ دہی پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کی معاشی ترقی اور غربت میں کمی کی رپورٹ شائع کروانے والوں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کالے دھن کی مالیت مجموعی قومی پیداوار سے دوگنی ہو چکی ہے۔ تجارتی اور کرنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بر قرار رکھنے کیلئے ہر ماہ چین سے تجارتی شرح سود پر 700 سے 800 ملین کا قرضہ لیا جا رہا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرزمیں نئی ملازمتوں کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ تو اجارہ داروں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ملازمین کو زیادہ یا کم تنخواہ دیں اور انہیں لیبر قوانین سے قطع نظر اپنی شرائط پر ملازمتیں فراہم کریں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ سہولتیں اور زیادہ تحفظ کی وجہ سے پر کشش سرکاری ملازمتیں ہیں۔ پنجاب حکومت نے حال ہی میں اعلیٰ پوسٹوں کی تنخواہوں میں کئی گناہ اضافہ کیا ہے جبکہ دیگر ملازمین کیلئے یوٹیلٹی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت ملک میں سول اور فوجی ملازمین کی تعداد مجموعی نوکری کرنے والوں کا پانچ فیصد ہے جس میں 20سے60سال کی عمر کے افراد شامل ہیں ۔ 1.5فیصد کا تعلق فوجی اور پیرا ملٹری فورسز جبکہ3.5فیصد وفاقی صوبائی اور مقامی اداروں کی ملازمتوں میں شامل ہیں۔
پبلک سیکٹر میں سب سے کم آمدنی والے کلرک ، چپڑاسی خاکروب، مالی، خدمتگار اور نرسز شامل ہیں۔ جن کو نجی سیکٹر کی نسبت دوگنی تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو پنشن علاج سیکورٹی قرضہ جات اور بہبود فنڈ کی سہولیات حاصل ہیں ، جبکہ دوسری طرف ملٹی نیشنل کمپنیوں اور نجی شعبوں میں ان سہولیات کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مگر ان اداروں میں چند افراد کو بہت زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں جو پرائیویٹ سیکرٹری کاروبار کی ترقی اور منافع میں اضافہ کیلئے اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اُن کم ملازمین سے زیادہ کام لینے کی صلاحیتوں کو سراہا جاتا ہے۔ حکومتی اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والوں کی تنخواہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ ملازمین سے کہیں کم ہوتی ہیں۔ ملازمین جس میں چپڑاسی اور خاکروب شامل ہیں اُن کو 12ہزار سے14ہزار ماہانہ دیا جاتا ہے جبکہ MBAاور ماسٹر کرنے والوں کو ابتدائی طور پر بینکوں میں14ہزار سے18ہزار ماہانہ پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ اور انہیں ابتدائی طور پر نجی اداروں میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے نوکری دی جاتی ہے۔ 25سال سرکاری ملازمت کرنے والے ٹیچرز کی تنخواہ 45 ہزار سے80ہزار ہو سکتی ہے وہ پنشن کا حقدار بھی ہوتا ہے۔ جبکہ نجی شعبوں میں ایسی مراعات کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
کنٹریکٹ سسٹم نے یونین کی سودا کاری کو صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ ہزاروں اداروں میں عارضی اور وقتی ملازمتیں دی جاتی ہیں اور جب چاہے لیبر کو فارغ کر دیا جاتا ہے کئی جگہوں پر بغیر تقرری اور معاہدے کے روازانہ، ہفتہ وار ، ماہانہ اجرتوں کی ادائیگی پر نوکری دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے عارضی ملازمین کو سوشل سیکورٹی اور پنشن کے حقوق نہیں حاصل ہوتے ہیں۔ فیکٹریز ، کمپنیز ، گارمنٹس انڈسٹری میں ملازمین کو 13ہزار سے کم تنخواہ دی جاتی ہے یہی صورتحال شاپنگ مال اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والوں کی ہے ، جنہیں بارہ گھنٹے کے کام کے عوض 6ہزار سے10ہزار تک ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس تمام صورتحا ل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نجی شعبوں میں کس طرح سے عام ملازمین کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نئی نسل کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق عام لوگوں کی زندگی پر سب سے زیادہ منفی اثر ہاؤسنگ شعبہ پر ڈالا ہے ، جس میں سب سے زیادہ چونیتس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بعض لوگ اپنی تنخواہ کا نصف کرایہ کی مد میں دیتے ہیں تعلیم کے شعبہ کے اخراجات کے شرح 12.73فیصد ہے ملک میں نجی اداروں کی جانب سے فیسوں میں اپنی مرضی سے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ دال چینی اور دیگر اشیائے خوراک کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ایسی صورتحال میں محدود یا اضافی آمدنی نہ رکھنے والے ملازمین کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ریاست نیو لبرل معیشت کی منڈی میں ان کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت سوشل ڈیمو کریسی کے تناظر میں کوئی منشور یا روڈ میپ رکھتی ہے۔
موجودہ حکومت کی اقتصادی بحالی کے حوالے سے کارکردگی کا کچا چٹھا حال ہی میں آئی ایم ایف کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ نے کھول دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر درآمدات کی ضروریات کیلئے منفی ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ہم سی پیک کے حوالے سے بہت شور و غل سنتے رہے ہیں مگر حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اس منصوبہ میں منافع کا حصہ10%سے بھی کم ہے۔ بھاری قرضوں کی ادائیگی پاکستانی قوم نے کرنی ہے۔ نواز شریف حکومت اپنے دور اقتدار کے دوران عوام کی فلاح کیلئے کیا کچھ کر سکی ہے وہ محض صرف قرضہ جاتی بوجھ لادنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بد قسمتی سے دوسری پارٹیاں بھی چونکہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ اکانومی سے متعلق پالیسیز رکھتی ہیں، ان سے بھی عوام کے بنیادی معاشی اور سماجی حقوق کے حل کے بارے میں کوئی امید نہیں ہے۔