ان باتوں کا درست ہونا بالکل واضح ہے

حیرت ہوتی ہے ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں، کیا عجوبہ فضا ہے کہ ایک طرف انسانی عقل و علم چھلانگیں مارتا ہر دس سال کے دوران پچھلے عشرے کو گویا ایک صدی پیچھے چھوڑتا اس تیزی سے آگے جا رہا ہے کہ ایک طالب علم کیلئے اس کا پیچھا کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ اگلے مرحلے پر سائنسی ریسرچ تباہ کاریوں کا نیا حربہ نکال لے گی یا تعمیر و ترقی و سلامتی کا سرو سامان ۔۔۔۔۔ گزشتہ برس کی تو بات چھوڑیئے، اس نئے برس یعنی 2018 میں خلائی پروگرام یا اسٹار وار اتنا آگے جا چکا ہوگا کہ روئے زمین کو ستاروں کی گزر گاہ پر خلائی اسٹیشن کا کوئی بٹن دبا کر تباہ کیا جا سکے گا۔

ایک خوش خبری سائنس نے یہ دی ہے کہ وہ شے جسے جین GENE کہتے ہیں وہ حتمی طور پر دریافت ہو گیا ہے جسے کینسر یا سرطان کا توڑ کہا جا سکتا ہے۔ کسی زمانے میں ہیضے کی وبا، طاعون کی وبا، ملیریا کی، گردن توڑ بخار کی، یرقان کی، یا ایڈز کی وبا جان لیوا شمار ہوتی تھی۔ گزشتہ صدی میں ان سب وباؤں کے توڑ ملتے گئے اور آج ترقی یافتہ ملکوں میں (ان میں سے ایک ملک جہاں میں رہتا ہوں) کوئی ان بیماریوں سے خوف زدہ نہیں۔ سب کے معالج ہیں۔ اسپتال ہیں۔ فوری علاج کے اور انسدادی تدبیروں کے انجکشن موجود ہیں، جن تک غریب و امیر کی رسائی ہے۔ تمدن و تدبیر، اور بین الاقوامی ریسرچ اداروں کی بدولت آج انسانی عمر کا اوسط بڑھتا جا رہا ہے لیکن ایک ’’بلا‘‘ ایسی ہے کہ انسان کو اس کا علم تو صدیوں سے ہے، بھرپور علاج اب تک دریافت نہیں ہو۔ اور نہ ٹھیک ٹھیک یہ دریافت ہو سکا کہ مرض کی جڑ کہاں ہے۔ یہ مرض ہے کینسر جسے عربی میں ’’سرگان‘‘ کہتے ہیں۔ حکیم بو علی سینا نے کتاب ’’القانون‘‘ میں یہی نام درج کیا ہے۔

برج سرطان کی شکل رصد گاہوں میں دیکھی جو کہ کیکڑے کی سی تھی۔ اسے کیکڑا یا سرطان بھی کہتے ہیں۔ یہی لفظ اس معنی میں لاطینی سے انگریزی میں کینسر اور بعض یورپی زبانوں میں ’’زاک‘‘ یعنی کیکڑا کہلایا۔ خدا جانے خون میں، ورثے میں، ہوا میں ، غذا میں، تنفس کی راہ سے، منہ ، ناک یا لمس کی راہ سے کون سی نامعلوم شے نفوذ پائی جاتی ہے کہ پھر وہ کیکڑے کی طرح ہاتھ پاؤں پھیلا کر تیزی سے جسم کو زہر آلود کر دیتی ہے۔ پتہ چلا کہ تمباکو کھانے والے اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ڈر کے مارے ہزاروں لوگوں نے سگریٹ، تمباکو نوشی ترک کر دی۔ پھر ہم جیسوں کے علاوہ خدا کے نیک بندوں میں بھی یہی مرض پایا گیا جو نہایت احتیاط سے پاک و صاف اور باوضو رہتے ہیں۔ پھر بچوں کی اموات کینسر سے ہوئیں۔ ہر ایک ترقی یافتہ ملک میں کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کھلے ہوئے ہیں، کروڑوں ڈالر و یورو کی رقم اس پر خرچ کی جا رہی ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ کینسر کے ابتدائی مرحلے پر تو اس کا توڑ ہو بھی جاتا ہے، اس مرحلے سے آگے اگر مرض پہنچ گیا تو پھر ڈاکٹر حضرات مریض کو تجربوں کا نشانہ بنا لیتے ہیں کہ مریض کے بچنے کی آس معدوم ہو جاتی ہے۔ پھر کہیں نہ کہیں سے خبر آتی ہے کہ ریسرچ کرنے والوں نے مرض کی جڑ پکڑ لی ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ جس پر ہاتھ پڑا وہ کینسر کی جڑ نہیں تھی۔

اب جا کر نیویارک سے خوش آئند خبر ملی ہے کہ یہ راز دریافت ہو گیا ہے کہ کچھ لوگوں میں کینسر کا شکار ہونے کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ کیوں ہوتی ہے کہ کیسے یہ موروثی مرض بن جاتا ہے۔ کیسے پھیلتا اور گرفت سے نکل جاتا ہے اور یہ سب کچھ طبی سائنس کی دین ہے۔۔۔۔ ’’جین‘‘ کیا ہے؟ چار چیزوں کی پہلی شکل کا مادہ، یعنی خون، بلغم ، سودا، خفرا۔ زرے سے بھی کم۔ حتیٰ کہ ننگی آنکھ سے بھی نظر نہ آنے والا۔ لیکن اثرات کو آگے لے جانے والا۔ وجود کی تشکیل میں تاثیر دکھانے والا مادہ۔ جتنی لفظ جین سے بنے ہیں ان سب میں تولید اور تناسل مشترک ہے۔ ہمارے عام لفظ جیسے جنتی، جن ، جنا، جننا وغیرہ اسی جین سے ماخوذ ہیں اور اسی مادے کے حوالے سے GENETIC اور جنیالوجی بنے ہیں۔ ظاہر ہے صدیوں سے ہم نے جین کو مادہ اولیٰ میں شامل یا اس کی بنیادی اینٹ مان لیا تھا اور یہ بھی جان لیا تھا کہ خون میں کہاں کہاں اس کی تاثیر چھپی ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں نہ تب معلوم تھا اور نہ اب تک قطعی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ بدن کے اندر نسوں اور رگ پٹھوں میں، پہلو کی نالیوں میں یا خون کے اجزا میں یہ کیکڑا پنپتا کیسے ہے۔ اسے پنپنے سے پہلے ختم کرنے اور بھسم کر ڈالنے تک تو طبی سائنس پہنچ گئی تھی لیکن اس کے ’’انڈے یا بچے‘‘ دینے کے گھونسلے کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ تمباکو نوشی سے جو سوزش ہوتی ہے وہ کینسر کی رفتار تیز ضرور کرتی ہے لیکن رفتار سے پہلے اس کی آماجگاہ ۔۔۔۔۔۔۔

خیر اب پوری امید ہے کہ ’’مجرم‘‘ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں گے۔ کینسر کا موضوع آج کل بیالوجی میں تفصیل سے پڑھایا جانے لگا ہے (ملک میں تو بیالوجی میں نماز روزہ تک پڑھایا جا رہا ہے) لیکن پھر بھی پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں کینسر کا ابتدائی مرحلے میں حتمی پتہ نہیں چلتا۔ چھوٹے پیمانے پر چند لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر کسی انسٹی ٹویٹ یا ریسرچ پروگرام کی کشور حسین سے نوید نہیں آئی۔  البتہ کینسر کے علاج کا چند اسپتالوں میں انتظام ضرور کیا گیا ہے جن میں معروف کرکٹر عمران خان نے اپنی مرحومہ والدہ کے نام پر قائم ہونے والے اسپتال میں علاج کرنے کی اعلیٰ پیمانے پر کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں عمران خان سیاست کو خیر باد کہہ کر اگر رفاہی کاموں پر توجہ دے تو یہ عوام کے حق میں کہیں بہتر ہوگا کہ پاکستان کو عمران خانوں سے زیادہ سائنس دانوں کی ضرورت ہے۔

کیا میں نے غلط سوچا ہے۔