برگ بر دوشِ ہوا
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 20 / مارچ / 2018
- 5660
برگ بر دوشِ ہوا
Blad for Vinden
شاعر: افضل عبّاس
یہ ایک شعری مجموعہ ہے جو چھوٹی چھوٹی ایک سو ایک نارویجین نظموں پر مشتمل ہے جنہیں ایک پاکستانی نژاد نارویجین شہری سُخن طراز افضل عباس نے بڑے سلیقے اور رچاؤ سے مرتب کیا ہے ۔ کتاب کے نام کو اردو یا پنجابی کے شعری تناظر میں دیکھیں تو دو کتابیں فوراً ذہن میں آتی ہیں ۔ پہلی تو حبیب جالب کی برگِ آواہ اور دوسری ناصر کاظمی کی برگِ نَے ۔ اور پھر آپ ہی آپ من گنگنانے لگتا ہے:
زرد پتوں کے پیچھے اُڑاتا رہا شوقِ آوارگی
چھوٹی چھوٹی نظموں کی روایت خالص پنجابی روایت ہے جو بولیوں ، ڈھولوں اور ماہیوں کی صورت میں خزاں کے پیلے اور لال پتوں کی طرح ہماری دیہی معاشرت کی پگڈنڈیوں پر بکھری دکھائی دیتی ہیں جنہیں چوپالوں میں اور ڈیروں پر گایا جاتا ہے ۔ اِن مختصر نظموں میں ضرب الامثال کی سی کاٹ ہے جو تیر کی طرح بصارت اور سماعت کے آر پار ہو جاتی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب کی نظمیں پنجاب کے ایک دیہی دانشور اور کسان زادے افضل عباس کے قلم سے بانسری کے سروں کی طرح پھوٹی ہیں اور نارویجین زبان میں ہوتے ہوئے بھی پنجاب کے دیہی مزاج کی آئینہ دار ہیں ۔ بعض نظمیں دو چٹکی خوشبو کی نظمیں ہیں اور بعض کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تتلی اپنے پروں کے رنگ کاغذ کو سونپ کر اُڑ گئی ہے یا کوئی چڑیا اپنا چوں چوں کا لباس اُتار کر دریا کے گھاٹ پر نہانے چلی گئی ہے ۔ اور اسی اسلوب میں پنجابی نارویجین شاعر افضل عباس کا شعری آہنگ ہے جو پنجاب کے دیہات سے یورپ کے سفر کی طرح ٹرانزٹ لاؤنج کی فضا میں مرتب ہوا محسوس ہوتا ہے ۔
یہ نظمیں دو مختلف ثقافتی اور تہذیبی دھاروں کے درمیان رابطے کی کڑیاں ہیں جو اُس پل کی اینٹوں کی طرح ہیں جو مختلف نسلی گروہوں کے مابین انسانی تعلق کو باہم ملاتی اور ایک دوسرے میں مدغم کرتی ہیں ۔ یہ نظمیں ہماری معاشرتی اکائیوں میں ظلم ، تشدد ، دہشت گردی اور صنفی امتیاز کے خلاف صدائے احتجاج کی طرح ہیں جس کی مثال دو نظمیں " قادرہ" اور "مُلّا" ہیں ۔ یہ دونوں نظمیں شاعر کی آزادی فکر اور بے باکی کی دلیل ہیں ۔ یہ نظمیں نارویجین کے مروجہ ایڈیم میں ہیں جن میں اجنبیت کا احساس تک نہیں لیکن نظموں کا فکری متن اُنہیں پنجابی روایت سے منسلک کرتا ہے ۔
افضل عباس اوسلو کی ادبی تنظیموں اور شعری محفلوں میں شاذ ہی دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی یہ نظمیں ادب سے اُن کی کمِٹ مینٹ کی واضح شہادت ہیں ۔ جہالت کے موضوع پر ایک چُٹکی بجاتی نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا :
جہالت مآب لوگ
UVITENDE FOLK
مت رو اُن پر
جو مر چکے ہیں
لیکن اپنے آنسو
جہالت مآبوں پر بہا
اُن پر جن کے درمیان
تم لمحہ لمحہ
اپنے دکھ درد کے ساتھ رہتے ہو
اسی طرح کی ایک اور نظم ہے:
تن کی صفائی
KROPPVASK
اگر کسی کا من میلا ہے
تو اُس کا صابن سے نہانا دھونا عبث ہے
مچھلی شب و روز پانی میں رہتی ہے
مگر مچھلی کی بُو نہیں جاتی
یہ نظمیں ناروے اور پاکستانی پنجاب کے درمیان ایک ثقافتی اور فکری رشتوں کا ایک خوبصورت " پراگا " ہیں، جسے شاعر نے بڑی نفاست اور فکری بالیدگی سے تیار کیا ہے ۔ یہ کتاب اوسلو کے کولون فورلاگ نے شائع کی ہےجو کتابوں کی دکانوں میں دستیاب ہے ۔ اس سے پہلے افضل کی اردو اور پنجابی شاعری کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے ۔ افضل عباس کو یہ شعری مجموعہ مبارک ہو جس پر نارویجین مصنف ٹوم لوتھرینٹن ، مصنف تھیریےبیورانگر، پروفیسر اُنّی ویکان اور رانڈی ہامر سٹروم کی آرا کے علاوہ مصنف کا پیش لفظ بھی شامل ہے ۔ کتاب پر قیمت درج نہیں ہے ۔