اسٹیفن ہاکنگ نے فلسطینی عوام کے حق آزادی کی حمایت کی
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- منگل 20 / مارچ / 2018
- 4687
انسانی معاشرہ اللہ تعالیٰ کی باشعور مخلوق کا اجتما ع ہے۔ کیا کسی مخلوق کے لیے مخلوق کا بنایا ہوا نظام کارگر ہوسکتا ہ۔؟ کبھی نہیں ۔ ہم جس خالق کی تخلیق ہیں، ہمارے لیے امن وسلامتی کے ساتھ جینے کا شیڈول بھی اسی نے دیا ہے۔ آج پوری دنیا میں جنگ کا عالم ہے۔ قدرتی وسائل اور انسانوں کو غلام بننے کے خواہش مند لوگ پوری دنیا کے امن کو برباد کیے ہوئے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلم ممالک میں خون کی ندیا ں بہہ رہی ہیں۔ پاکستان ، افغانستان ،شام ، عراق، فلسطین، برما اور ہندوستان سمیت متعدد ممالک میں مسلمان بدامنی کے اس ریلے سے محفوظ نہیں۔ اس قیامت خیز قتل و غارت کی تمام تر وجہ انسانی معاشرے میں نافذ نظام ہائے حیات و حکومت کا ناقص ہونا ہے۔
لیکن حقیقت وقت گزرنے کے بعد سامنے آتی ہے ۔ اسٹیفن ہاکنگ بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کے معروف ماہر طبیعیات تھے۔ انہیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ موصوف جہاں اپنے سائنسی نظریات کے حوالے سے متنازع رہے وہیں انسانی حقوق کے باب میں ان کا موقف نپا تلا اور حقیقت پرمبنی تھا۔ غیرمسلم بلکہ ملحد ہونے کے باوجود قضیہ فلسطین کے پرزور حامی اور اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے چلنے والی عالمی تحریکوں کے بھی حامی تھے۔ گزشتہ روز متعدد اخبارات میں اسٹیفن ہاکنگ کے حوالے رپورٹ شائع ہوئی جن میں ان کی قیام امن کے لئے خدمات کو سراہاگیا ۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے ”مڈل ایسٹ آئی‘ ویب سائیٹ “ کے حوالے ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ اسٹیفن ہاکنگ کو صیہونیوں کی جانب سے ہمیشہ نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ صیہونی اور اسرائیلی لیڈر شپ انہیں تختہ مشق بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ اپنے سائنسی نظریات سے ہٹ کرانہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ شام میں جنگ بندی پر زور دیا اور عراق پر امریکا کی قیادت میں مسلط کی گئی جنگ کے اسباب کو گمراہ کن قرار دے کر اس جنگ کو ظالمانہ کارروائی قرار دیا تھا۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ معذوری کے عالم میں گزارنے والے اس شہرہ آفاق سائنسدان نے 76 سال کی عمر پائی۔ انہیں سائنس کے میدان میں گراں قیمت خدمات انجام دینے پر نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ ان کے کئی سائنسی افکار ونظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگران کی انسانیت نوازی ، انسان دوستی اور انسانی حقوق کے باب میں خدمات سے انکارممکن نہیں۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے دنیا کی مظلوم اقوام کی حمایت کی۔
اخبارات میں سنہ 2013کے دوران اسٹیفن ہاکنگ کا ایک خطاب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ’القدس میں اسرائیل کا مستقبل‘ کے عنوان سے خطاب میں انہوں نے اسرائیلی ریاست کا بائیکاٹ کرنے والے اداروں، ملکوں اور تنظیموں کا احترام کرنے کی بات کی۔ فلسطینیوں کی حمایت میں انہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فلسطینی تجزیہ نگاروں، سیاسی قیادت اور فلسطینی عوامی حلقوں نے اسٹیفن ہاکنگ کے موقف کو سراہا اور کہا کہ مغربی دنیا کے سائنسی اور علمی حلقوں میں ہاکنگ کا شمار فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں اور صیہونی ریاست کے مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے والوں میں ہوگا۔ انہوں نے اسرائیل پراقتصادی پابندیاں لگانے کی حمایت کی اور کہا کہ صیہونی ریاست کا عالمی سطح پر جاری اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی بائیکاٹ کیا جائے تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے صیہونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے میں مدد مل سکے۔ دوسری جانب اسرائیل کے حامیوں نے ہاکنگ کو مسلسل تنقید اور مذمت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہاکنگ کی وفات کے بعد اسرائیلی وزارت خارجہ ایک بیان میں کہا کہ ہاکنگ جیسا کوئی سائنسدان ایسا نہیں جس نے صیہونی ریاست کے بائیکاٹ کی کھل کرحمایت کی ہو۔
جنوری 2009 میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پرننگی جارحیت کرکے 1000 سے زاید فلسطینی شہید کردیئے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اوکنگ نے کہا کہ اسرائیل امن نہیں چاہتا۔ فلسطینیوں سمیت غاصب ریاست کے قبئضے کے خلاف جدو جہد مزاحمت کا حق حاصل ہے۔ فلسطینی قوم اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے وہی کچھ کیا جو آئرلینڈ کے عوام نے برطانوی فوج کے خلاف کیا۔ غزہ کی پٹی میں حماس کی منتخب قیادت کی حکومت قائم ہے۔ حماس کو فلسطینی عوام نے جمہوری انداز میں منتخب کیا ہے اور حماس کو فلسطین میں حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔سنہ 2006 میں ہاکنگ نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطین کا آٹھ روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک سے بھی ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بیت المقدس میں اسرائیل کی عبرانی یونی ورسٹی اورغرب اردن میں بیرزیت یونیورسٹی میں طلبا اور دانشوروں سے خطاب کیا۔ ہاکنگ نے فیس بک پر فلسطینی سائنسدانوں کی مکمل حمایت اور تائید کا اعلان کیا اور عالمی برادری سے فلسطین میں طبیعات کا جدید مرکز قائم کرنے کے لیےمالی مددکی معاونت کی۔
اسٹیفن ہاکنگ نے شام اور عراق میں جاری جنگ ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق، شام اور فلسطین میں جاری جنگوں میں بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔ پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ جنگ کاخاتمہ اور بچوں کے دفاع کےلئے اقدامات کرنا چاہئیں۔ سنہ 2003 میں جب امریکا نے عراق پر حملہ کیا تو اسٹیفن ہاکنگ نے اس جنگ کی بھی ڈٹ کر مخالفت کی۔ سنہ 2004 میں عراق جنگ روکنے کے حوالے سے نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب میں اسٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ عراق پر جھوٹ کی بنیاد پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ عراق کے پاس وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی وجود نہیں۔ صدام حسین کے خلاف بلا جواز جنگ چھیڑی گئی اور نائن الیون کے حملوں میں کوئی صداقت نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قیام امن کیلئے مسلم حکمران مل کر کوشش کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب قدرتی وسائل اور انسانوں کو غلام بننے کے خواہش مند لوگ کی جانب سے دنیا میں جاری بدامنی اور قیامت خیز قتل و غارت کے اس ریلے میں مسلمانوں کا سب کچھ بہہ جائے گا۔ اس بات کی تاریخ گواہ ہے جوقومیں اپنے مقصد اور حقوق کو بھول جاتیں ہیں ، تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ ابھی وقت ہے ہم سب مل کر قیام امن اور اپنے حقوق کے لئے کچھ کریں:
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے