سینے میں علم کی آگ جلائی جائے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 20 / مارچ / 2018
- 6364
زندگی میں بہت سارے معاملات میں ایسا ممکن ہے کہ سیدھی سڑک پر چلتے ہوئے اچانک سے دائیں یا بائیں سے کسوئی گاڑی نمودار ہوجائے اور حادثہ ہوجائے۔ یا پھر بالکل سیدھی وکٹ پر کھیلتے ہوئے اچانک کسی وکٹ سے محروم بیزار گیند باز کی ایک گیند کا اچانک ٹرن ہوجانا یا پھر اضافی اچھال بلے باز کی باری ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ حادثے ہماری تاک میں ہوتے ہیں۔ ہمیں تنہا پاتے ہی دبوچ لیتے ہیں۔ کب، کہاں، کیا ہونے والا ہے اس کا اندازہ لگانا ناممکن سی بات ہے ۔ اسی طرح قدرت ہمیں خوشیاں بھی کب کہاں سے دے، ہمارے علم سے ماورا ہے۔ ان باتوں سے علم کا بہت گہرا تعلق ہے۔ علم والوں کو کسی حد تک پتہ ہوتا ہے کہ کب کیا ہوسکتا ہے ۔
مغرب نے ہم پر مادیت کی چادر تانی اور ہم پر سے آہستہ آہستہ روحانیت کی چادر کھینچ لی ۔ آج مادیت کی آلودگی میں ہم سب لتھڑتے ہیں ۔ ہم نے ہر چیز کو تولنا شروع کردیا ہے ۔ تعلق داریاں ہوں ، ہمدردیاں ہوں یا پھر نفرتیں، ہم نے ہر رشتے اور ہر جذبے کیلئے ترازو لگا لئے ہیں ۔ ہم نے خود ہی طے کرلیا ہے کہ کس کے تعلق میں کتنی ملاوٹ ہے اور ہم خود ہی درجہ بندیاں بھی کرتے جا رہے ہیں۔ اب کوئی لاکھ یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ وہ آپ سے بے لوث مل رہا ہے مگر زمانہ آپ کو یہ یقین دلا دے گا کہ ملنے والا کس مقصد سے مل رہا ہے۔ اس بات سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے تعلیم کو ایک ایسی خوفناک ڈراؤنی چیز بنا دیا ہے جس سے عام لوگوں کو ڈر لگنے لگا ہے۔ ہمارے ملک کا عام آدمی اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی نظام سے باز رکھنا چاہتا ہے جسے وہ نہ تو مالی طور پر برداشت کرسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر ۔ دنیا کا دباؤ ہے کہ علم وہ حاصل کرو جس سے دنیا کو کچھ دے سکو اور دنیا سے بہت کچھ لے سکو۔ دوسری طرف ایک دائمی معاملہ درپیش ہے جس کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ علم حاصل کرو جس کی بدولت دنیا کی عارضی زندگی کے بعد دوبارہ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی کیلئے آسائشیں جمع کرسکو۔ ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی زندگی بھر اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کے کرنا کیا ہے۔ اور تادم مرگ ذہنی الجھنوں کا شکار رہتے ہیں۔
ہم ہر عارضی شے سے رغبت پیدا کرلیتے ہیں۔ ترقی علم کے ذریعے وجود میں آئی۔ مادیت کی افزائش ترقی کہلاتی ہے۔ معاشرے میں ایسے لوگ جو علم کی روشنی پھیلانے میں اور جہالت کو بڑھنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں تقریباً ناپید ہوچکے ہیں۔ افراتفری کی سب سے بڑی وجہ علم کا نہ ہونا ہے۔ جہاں علم سے مراد صرف ایک دوسرے کو دھوکا دینا ہو تو وہ معاشرہ کیسے خیر و برکت کا اہل ہوسکتا ہے ۔ ہمارے درمیان ہر وہ شخص جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے اور معاملات پر نظر رکھتا ہے، اسے شاید علم کی آگ مل چکی ہے۔ اور وہ لمحہ لمحہ اس آگ میں جلتا ہوا خاک ہوا جا رہا ہے ۔دنیا نے اس آگہی کی آگ کو بھی بہت سارے نام دے رکھے ہیں جنہیں ہم اور آپ مختلف بیماریاں قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن علم اور راستی کی پہچان ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔