اٹلانٹا : امریکہ کا سب سے بڑا چھوٹا شہر

  • تحریر
  • جمعہ 23 / مارچ / 2018
  • 4102

امریکہ کے شہر اٹلانٹا کے بارے میں گزشتہ کالم پر وہاں کے ایک پرانے رہائشی نوجوان نے شکوہ کیا کہ آپ نے اٹلانٹا شہر کے زندگی سے بھرپور پہلوؤں کو نظر انداز کرکے ایک ہی پہلو پر زورِ قلم صرف کر دیا۔ آج ان ہی چند دلچسپ پہلوؤں کا ذکر ہے جن کا ہمیں اپنے قیام کے دوران براہِ راست مشاہدہ ہوا۔

اٹلانٹا قیام کے ابھی ہمیں دو ہی دن گزرے تھے کہ ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے میزبان گھر شفٹ کر رہے تھے، اس دوران اپنے فالتو کپڑوں کو پلاسٹک کی ایک مستطیل گہری پلاسٹک ٹوکری میں ڈالے جا رہے تھے۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ ایک فلاحی ادارے گڈ وِل ( Goodwill ) کو عطیہ کریں گے۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے جا رکی۔ یہ عطیات وصول کرنے کا شعبہ تھا۔ سفید ایپرن پہنے اسٹاف نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا۔ پلاسٹک کی ٹوکری وصول کی۔ پوچھا، ان کی قیمت لگانی ہے یا نہیں۔ جواب ملا، اس کی ضرورت نہیں۔ یہ ادارہ ایسے سامان کو معمولی رقم کے عوض خریدتا ہے یا عطیے کے طور پر لے لیتا ہے۔ ملبوسات اور دیگر گھریلو سامان کی صفائی ستھرائی کے بعد اسٹور میں بیچنے کے لئے رکھ دیا جاتا ہے، قیمت بہت کم رکھی جاتی ہے، مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ سفید پوش یا مالی طور پر کمزور ہیں، وہ استعمال کی یہ اشیاء خرید کر خوش پوش، مناسب لائف اسٹائل کی زندگی گزار سکیں۔  اصل پہلو مگر یہ ہے کہ بے روزگار اشخاص کے لئے ٹریننگ کا ایک وسیع سلسلہ اس سیلز سے حاصل ہونے والی آمدنی سے فنانس کیا جاتا ہے ۔ یہ ادارہ 1902 میں امریکی شہر بوسٹن میں ایک سماجی کارکن ایدگر ہیلمز نے قائم کیا جس کی اس وقت امریکہ اور کینیڈا میں 162 برانچز ہیں جن کی سیلز کا مجموعی حجم ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے بھی زائد ہے۔ صرف 2016 میں اس ادارے نے تعلیم، ٹریننگ اور کیرئیر کونسلنگ کی مدد سے تین لاکھ تیرہ ہزار لوگوں کو ملازمت کے حصول کے قابل بنایا۔

ہمارے میزبان کا تعلق اٹلانٹا شہر کی ایک مشہور اسٹیٹ یونی ورسٹی سے تھا یعنی جارجیا اسٹیٹ یونی ورسٹی۔ 1913 میں قائم کی گئی اس یونی ورسٹی میں اس وقت طلباء کی تعداد باون ہزار سے بھی زائد ہے۔ ساڑھے تین ہزار سے زائد اکیڈمک فیکلٹی ہے۔ اس یونی ورسٹی کے دو کیمپس ہیں، ڈاؤن ٹاؤن کیمپس جس میں ہمیں تین بار جانے کا موقع ملا اس میں بتیس ہزار طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔ یونی ورسٹی کی دو بڑی لائبریریوں میں کتابوں کی کل تعداد سن کر کچھ دیر کے لئے تو ہمارے ذہن میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی، تینتالیس لاکھ سے زائد کتابیں ! امریکہ میں یونی ورسٹیاں عموما صرف تعلیم کو اپنا مرکز بناتی ہیں لیکن چند بڑی یونی ورسٹیاں ریسرچ کو بھی اپنا محور بناتی ہیں۔ جارجیا اسٹیٹ یونی ورسٹی ایسی ہی ایک ریسرچ یونی ورسٹی ہے جو 250 سے زائد ڈگریوں کی تعلیم دیتی ہے۔ اس یونی ورسٹی کے ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر لونگ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ پولیٹیکل سائنس ان کا خاص موضوع ہے۔ دنیا کے بیشتر حصے گھوم چکے ہیں۔ دنیا اور بالخصوص جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسیوں کے نقاد بھی تھے اور کچھ پالیسیوں کا دفاع بھی کرتے رہے۔ ایک بات کا بار بار ذکر کیا کہ شاید امریکہ کو مقامی قبائلی اور مخصوص سیاسی پس منطر سے کما حقہ آگاہی نہ تھی ورنہ افغان جنگ اس قدر جلد بازی میں اور اس کے عواقب کے مناسب ادراک کے بغیر شروع نہ کرتا۔ انہیں خدشہ تھا کہ داعش یا اس جیسی تنظیمیں اب افغانستان میں قدم جما کر وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے لئے ایک سنگین خطرہ بنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی یونی ورسٹی میں بھارت نژاد امریکی پروفیسر ڈاکٹر راشد نعیم سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ اسّی کی دِہائی میں بہار سے یہاں پی ایچ ڈی کرنے آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ انتہائی نرم لہجے اور شستہ گفتار کے مالک ڈاکٹر نعیم راشد پولیٹیکل سائنس پڑھاتے ہیں۔ تقابلی سیاست اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ ان کے خاص میدان ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کے بارے میں فکر مند اور ان کے مستقبل کے بارے میں انہیں تشویش تھی۔ ان کے خیال میں آئین میں سیکولر شقیں بھارت کی وحدت اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے بہت بڑا سیفٹی والو ہیں لیکن بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے نے آئین کی سیکولر روح کو زخمی کر دیا ہے۔ عملی طور پر کمزور کانگرس فی الحال ہندوتوا کے سیاسی جوبن کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی مشکلات میں کمی کا امکان کم ہی ہے۔ جبکہ مسلمان تقسیم ہند کے عواقب سے ابھی تک نبرد آزما ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش تو الگ الگ ممالک کی صورت آزاد ٹھہرے لیکن تقسیم کے عواقب کا ملبہ اور ہندو اکثریت کی تلخی کا سارا کڑوا پن بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو ہی سہنا پڑا رہاہے۔

دیوارپر ٹنگے دنیا کے ایک بڑے نقشے کو دیکھتے ہوئے ہم نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا کہ اس دنیا کا آگے چل کر کیا ہو گا؟ ڈاکٹر راشد نعیم نے غور سے نقشے پر نظریں جمائے ہوئے جواب دیا کہ جس تیزی سے دنیا میں مختلف تنازعات جنم لے رہے ہیں اور دنیا کی بڑی طاقتیں ان تنازعات میں الجھتی جا رہی ہیں، دنیا اسی تیزی سے ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہم نے چونک کر اختلاف کی کوشش کی تو انہوں نے پولیٹیکل سائنس کے ایک پروفیسر کے طور پر تفصیل سے جواب دیا۔ خلاصہ جس کا یہ تھا کہ گزشتہ ستر سال سے قائم طاقت کا عالمی توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ کی مظبوط فوجی صلاحیت کے باوجود اس کی عالمی سیاسی طاقت اور اثر و نفوذ میں کمی ہو رہی ہے۔ طاقت کے نئے مراکز بن رہے ہیں۔ طاقت کے استعمال کا چلن آگے چل کر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال انتہائی ڈرامائی نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ چین کے ساتھ ساؤتھ چائنا سمندری علاقے سمیت بہت سے ایسے معاملات ہیں جنہیں دیا سلائی دکھانے کی صورت میں چین اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے درمیان صورتحال کشیدہ ہو سکتی ہے۔ اور بہت سے ایسے عالمی مسائل اس کے سِوا ہیں، لہذٰا موجودہ منظر نامہ تو یہی گواہی دے رہا ہے کہ دنیا شاید ایک مہلک جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اسی یونی ورسٹی میں ایک اور استاد اور یونی ورسٹی کے مالی معاملات سے منسلک سینئیر اہلکار گیری براؤن سے ملاقات ہوئی ، ان کا کمرہ بھی کتابوں سے بھرا ہوا پایا۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے بار ے میں انہیں خاص دلچسپی تھی۔ سیاحت اور مطالعہ کے شوقین افریقن امریکن ہیں، کھل کھلا کر ہنسنے والے اورروزمرہ کی زندگی میں پورے شوق سے جذب۔ حال ہی میں ملائیشیاء اور ہانگ کانگ کا سفر کرکے آئے تھے اور اب اس سال پاکستان کا عزم باندھے ہوئے ہیں۔ حسبِ معمول ایسے سوال سنے جن پر ہنسی چھوٹ گئی۔ ہم نے انہیں یقین دلایا کہ آپ آئیں، پاکستان وہ نہیں جو یہاں بیٹھ کر میڈیا کی اسکرین پر دِکھائی دیتا ہے۔ گو وقت کی قلت تھی لیکن بطور ایک سیّاح ہم نے شہر کے وسط میں 1996 میں ہونے والے اولمپکس کے لئے قائم Centennial Olympic Park کی سیر کے لئے وقت نکال ہی لیا۔ 21 ایکڑ پر قائم یہ پارک لاکھوں سیاحوں کے لئے وسیع و عریض سبزے اور پانی کے رقص کرتے فواروں پر مشتمل ہے۔ اسی پارک سے ذرا فاصلے پر سول و ہیومن رائٹس کی تحریک کا میوزیم ہے۔ کوکا کولا کا میوزیم، اولمپکس کے لئے قائم ایکوریم اور سی این این کا ہیڈ کوارٹر بھی اسی پارک کے آس پاس واقع ہے۔ ذرا نیچے اتریں تو ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا چرچ اور میوزیم ہے۔

چھٹی کا دن ہونے کے باوجود اس میوزیم میں سیاحوں کا ہجوم دیدنی تھا جن میں اکثریت سفید فام لوگوں کی تھی۔ بقول ہمارے میزبان کے سفید فام لوگ تاریخ سے آگاہی کا شغف بھی زیادہ رکھتے ہیں اور کچھ شاید انہیں اپنی تاریخی غلطیوں کا ادراک بھی ہے، اسی لئے میوزیم میں ہمیشہ رونق رہتی ہے۔ اس پر ہمیں چند سال قبل اسلام آباد میں قائم پاکستان آرکیالوجی سنٹر کی ناگفتہ بہ حالت یاد آئی کہ جہاں بھولے سے ہی کوئی اسکول کا گروپ یا سیاح داخل ہوتا۔ انتہائی قیمتی نوادرات بے قدری کی نذر ہوتے دیکھے۔ لائبریری میں ڈیڑھ سو سال سے بھی زائد پرانے اخبارات و جرائد کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کے لئے کوئی بجٹ نہیں تھا۔ اٹلانٹا کے ان میوزیموں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ ٹائن بی نے ٹھیک ہی کہا تھا، بقول مختار مسعود جو قومیں یہ نہیں جانتیں کہ پرانی دیوار کیوں گری، وہ مظبوط نئی دیوار کیسے کھڑی کر سکتی ہیں؟ امریکہ کے The biggest small town کے نام سے موسوم اٹلانٹا سے واپسی پر یہی سوال اور تاثرات ابھی تک ذہن میں جوابات کی تگ و دو میں ہیں۔