کسے بے وقوف بنا رہے ہیں؟
پاکستان میں پی ایس ایل کا بخار سبھی کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پاکستانی دل کھول کر کرکٹ مقابلوں کو انجوائے کر رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بھی پی ایس ایل کی دھن سوار ہے۔ کون آیا ، کون نہیں آیا ، کون کہاں گیا، کھلاڑی کیا کہہ رہے ہیں، کوچ کیا فرما رہے ہیں اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ارشادات کیا ہی۔؟ سبھی کی نظر اسی پر ٹکی ہے۔
فول پروف سکیورٹی انتظامات کا شور و غوغا ہر زبان پر ہے۔ اسٹیڈیم کے آس پاس کوئی پرندہ بھی بغیر اجازت پر نہیں مار سکتا۔ اتنے ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، فلاں فلاں اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اتنے واک تھرو گیٹس لگ گئے، اتنے ڈیٹیکٹرز سے تلاشی لی جا رہی ہے، فلاں فلاں سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ غرض ایسے کڑے پہرے ہیں کہ الامان الحفیظ۔۔ اتنے انتظامات کے باوجود تاثر یوں دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر طرف امن کی فاختائیں اڑ رہی ہیں۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں۔ ہر کوئی بھائی بھائی کھیل رہا ہے۔ کسی کو کسی سے بیر ہے نہ کوئی رنجش اور نہ ہی شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا ہے۔ اس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے ’’کیا یہ کھلا تضاد نہیں‘‘۔ ہم کسے بے وقوف بنا رہے ہیں۔
ادھر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی صاحب کا فرمانا ہے کہ لاہور اور کراچی کو تو گرین سگنل مل گیا، اب پشاور اور اسلام آباد کے اسٹیڈیم بھی آباد کریں گے۔ اگلے سال آدھی پی ایس ایل پاکستان میں کرائیں گے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔ اتنے سخت سکیورٹی انتظامات اور آدھے شہر کو بند کر کے تو یمن ، افغانستان اور شام میں بھی میچ کروایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں اسپتالوں کو جانے والی سڑکیں بند، آدھا شہر باقی شہر سے کٹ جائے گا، میچ سے دو روز پہلے ہی شہری سڑکوں پر یہاں سے وہاں خوار ہوتے پھر رہے ہیں۔ کیا یہ ہے آپ کا امن۔ یہ ہے آپ کی سکیورٹی۔ اور یہ ہے آپ کا پرامن پاکستان۔
پاکستان سپر لیگ کھیلنے کیلئے دبئی پہنچنے والے متعدد سپر اسٹارز نے مسلسل دوسرے سال بھی پاکستان آنے سے انکار کیا۔ شین واٹسن اور کیون پیٹرسن جیسے سپر اسٹار پاکستان نہیں آئے حالانکہ انہیں کئی گنا معاوضہ آفر کیا گیا۔ اس صورتحال میں کیسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر پرامن ہو گیا۔ اگر پاکستان میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں تو ہم دنیا کو یہ باور کرانے میں کیوں ناکام ہیں۔ اگر واقعتا ہم ایک پرامن قوم ہیں تو دنیا یہ تسلیم کرنے سے کیوں انکار کررہی ہے۔ مسئلہ ہمارے ساتھ ہے یا ہمیں میں ہے۔ اس کا حل نکالیں، پھر ستے خیراں۔