موریشس میں بچوں کا ادب
- تحریر آبیناز جان علی
- ہفتہ 24 / مارچ / 2018
- 6502
آشیانہ سیریز کی رنگین اور دیدہ زیب تصانیف کو دیکھ کر بچپن کی یادیں ہم کو آگھیرتی ہیں۔ بچپن کی آرام دہ اور پرکیف زندگی ذہن کو ایک تسکین پہنچاتی ہے۔ من میں ایک ٹھراؤ آتا ہے۔ وقت رک سا جاتا ہے۔ ہر چیز سہل سی لگنے لگتی ہے۔ میرے خیال سے آشیانہ سیریز سے نہ صرف ننھے منّے بچے فیض اٹھا سکتے ہیں بلکہ بڑے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ موریشس میں ادبِ اطفال کے میدان میں خالق بوچا کی یہ پہلی کاوش سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آشیانہ سیریز سے پہلے اس ضمن میں کوئی شائع شدہ کتاب دستیاب نہیں۔ چنانچہ خالق بوچا صاحب کی پہل قابلِ ستائش ہے۔
2004 میں شائع ہونے والی آشیانہ سیریز پانچ کتابوں پر مشتمل ہے۔ علی بابا اور چالیس چور، بکری اور میمنے، بانٹ کر کھانے میں مزہ، اشرف کا فارم ، اور پردیس کسی کو راس نہیں آتا ۔ ان میں آسان فہم زبان کا سہارا لیا گیا ہے اور تحریروں میں روانی اور برجستگی ہے جس سے پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یقیناً یہ کہانیاں بچوں کے ذہن اور نفسیات کو مدِ نظر رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ پانچوں کتابیں اتنی پتلی ہیں کہ ان کو پڑھنے میں دس منٹ بھی نہیں لگیں گے۔ جلی حروف پڑھنے کو آسان تر بناتے ہیں۔ گویا آشیانہ سیریز ایک مقناطیسی کشش رکھتی ہے۔ کتابوں پر نظر ڈالتے ہوئے گمان ہوتا ہے کہ ہم کہانیوں کو دو بار پڑھ رہے ہیں، ایک تحریروں کے مابین اور دوسری بار تصویروں کے ذریعے۔
میری رائے میں آشیانہ سیریز کا منفرد انداز موریشس کے اردو سیکھنے والے بچوں کی زبان میں بہت مدد کرے گی۔ اپنے تجزیہ میں میں جن نقطوں کی طرف اشارہ کروں گی ممکن ہے کہ وہ باتیں اہلِ زبان کو معمولی لگیں لیکن موریشس میں اردو نہ تو ہماری مادری زبان ہے اور نہ ہی فرانسسی اور انگریزی کی طرح سرکاری زبان ہے بلکہ یہ ہماری ثقافتی شناخت ہے۔ ایسی صورت میں یہ باریکیاں ہی بچوں کے معیار کو بڑھا سکتی ہیں۔
1) علی بابا اور چالیس چور
اس کہانی سے سبھی واقف ہیں۔ چنانچہ اس کو پڑھتے وقت بچے پلاٹ پر کم اور زبان پر زیادہ توجہ دیں گے۔ کتاب کی رنگین تصاویرتفہیم میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ کہانی میں احساسات کو بخوبی ابھارا گیا ہے۔ مثال کے طور پر چوروں کو دیکھ کر علی بابا ’ڈر‘ کے مارے سہم گیا پھر غار میں ’کھل جا سم سم‘ کہہ کر داخل ہوتے اور باہر آتے ہوئے چوروں کو دیکھ کر علی بابا کو حیرت ہوئی۔ قاسم کو جب دروازہ کھولنے کا فارمولا یاد نہ رہا تو وہ ’پریشان حال ‘ ہوا۔ اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر علی بابا کو افسوس ہوا اور آخر میں نوکرانی کی چالاکی سے علی بابا ’خوش ‘ہوا۔ غرض کہ کہانی کو پڑھتے وقت بچے ان جذبات و احساسات سے دوچار ہوں گے اور یہ بھی سیکھیں گے کہ اردو میں ان کو کیسے بیان کیا جاتا ہے۔
کہانی لکھتے وقت زبان کی طرف بھی خاص دھیان دیا گیا ہے تاکہ بچے اس سے فیض اٹھائیں۔ جگہ جگہ عمدہ اور موزوں ذخیرہ الفاظ ہیں جیسے ’ٹاپوں کی آواز‘، ’ سونے چاندی‘، ’ہیرے موتی‘ اور ’احتیاط‘۔ نیز محاورات بھی استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً ’ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جانا‘ ، ’راز فاش ہونا‘، اور ’ رفو چکّر ہونا‘۔ عمدہ صفتیں بھی شامل کی گئی ہیں ’ظالم چور‘، ’ علی بابا کی سخاوت اور فراح دلی‘ ، ’ہونہار نوجوان‘، اور ہوشیار نوکرانی‘۔ علی بابا اور چالیس چور میں کردار نگاری خوبصورتی سے ادا کی گئی ہے۔ علی بابا ایک انسان ہے جو انجانی چیزوں سے گھبراتا ہے۔ وہ بڑی بات دوسروں کو بتائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دولت پاکر وہ خوش ہوتا ہے۔ بھائی کی موت سے اس کو صدمہ ہوتا ہے۔ علی بابا کا بھائی قاسم لالچ میں آکر جان گنواتا ہے اور علی بابا کی نوکرانی جب چالاکی سے گملوں میں گرم تیل چھرکتی ہے تو قاری چین کا سانس لیتا ہے اور دشمن کی ہار پر خوش ہوتا ہے۔ چوروں کا سردار ایک پر وقار قائد کے طور پر سامنے آتا ہے جو اپنے راز اور اپنے مال و دولت کے تحفظ کے لئے جان لینے پر آمادہ رہتا ہے۔ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے علی بابا کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ آخرکار نوکرانی کی چالاکی سے وہ اپنی فوج کو کھودیتا ہے اور دم دبا کر بھاگتا ہے۔
یہ کہانی بچوں کو لالچ سے دور رہنا سکھاتی ہے۔ لاچ کے پیچھے قاسم نے اپنی جان گنوائی۔ اس کے ساتھ ساتھ دکھایا گیا ہے کہ زندگی میں ہوشیاری کام آتی ہے اور مشکل سے بچاتی ہے۔ کسی پر آنکھ بند کر کے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کہیں جان کے لالے نہ پڑ جائیں۔ اس کے علاوہ نوکرانی کی دیانتداری اور علی بابا کا اپنے بھائی کی طرف انسیت مثبت خصلتیں ہیں جو سامنے آتی ہیں۔
2) بکری اور میمنے
یہ کہانی مکالموں کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور مکالموں نے کہانی میں جان ڈال دی ہے۔ اس کو پڑھتے وقت ہنسی چھوٹتی ہے۔
’اتنی بدصورت ٹانگ! یہ ماں کی نہیں ہو سکتی۔ یہ تو بھیڑیا ہے! بھاگو یہاں سے۔‘
کہانی میں استعمال شدہ زبان بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ جانوروں کے نام سیکھتے ہیں۔ جیسے بکری، میمنا، بھیڑیا اور لومڑی۔ وہ برتنوں کے نام سے آشنا ہوتے ہیں: کیتلی، پتیلے، پیالی اور گلاس۔ وہ طرح طرح کے احساسات سے بھی دوچار ہوتے ہیں جیسے کہ شرمندہ ہونا اور مایوس ہونا۔ متعدد محاورات نے بھی تحریر کو زیبائش بخشی ہے۔ مثال کے طور پر ’آگ بگولہ ہونا‘ اور’ دم دبا کر بھاگنا‘ ،’جان میں جان آنا‘ اور’ خوشی کے مارے پھولے نہیں سمانا‘۔ صفتیں بھی نظر آتی ہیں جیسے’ شیطانی دماغ‘۔ اس کے علاوہ زبان کی مختلف ٹیکنیک نے اس کہانی کو زیبائش بخشی ہے۔ حرفِ ربط جیسے کہ ’جوں ہی‘ اور دلچسپ فقرے بھی پائے گئے ہیں جو بچوں کو زبان پر دسترس حاصل کرنے کے لئے معاون ہیں: ’ دوڑتے دوڑتے‘، ’جھٹ سے‘، ’ میمنے تھر تھر کانپنے لگے۔‘
کہانی کو ہلکے پھلکے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں ننھے قاری کو ضرور ہنسی آئے گی جب بکری بھیڑیے پر جھپٹتی ہے اور اپنی سینگ سے اسے ندی میں گراتی ہے۔ علاوہ ازیں اسمِ صوت کا استعمال تحریر میں جاذبیت پیدا کرتی ہے۔ ’بوم بوم‘اور ’ٹک ٹک ٹک‘۔ ’بکری اور میمنے ‘کی کہانی والدین کی فرمانبرداری کرنے کا درس سکھاتی ہے تاکہ وہ خطروں سے محفوظ رہیں۔ ساتھ ساتھ ایک ماں کی اہمیت دکھائی گئی ہے۔ وہ بچوں سے شفقت سے پیش آتی ہے لیکن جب کوئی اس کے بچے کو نقصان پہنچانا چاہے تو حملہ کے لئے پاش پاش رہتی ہے۔
3) بانٹ کر کھانے میں مزہ
آشیانہ سیریز کی تیسری کتاب میں دیہات کی زندگی کا عکس ہے جہاں پکے پپیتے سے لدے ہوئے پیڑ نظر آتے ہیں اور شہناز کا خاندان احاطے میں بیٹھ کر پھل کا مزا لیتے ہیں۔ شہناز کا پاپا کھیت میں کام کرتا ہے اور اس کا بڑا بھائی سلیم جنگل میں لکڑی چنتا ہے۔ اس کہانی میں ماضی کی جھلک دکھائی دیتی ہے خواتین شہنار کی طرح سر پر کپڑوں کی گھٹری لیتے ہوئے ندی کا رخ کرتی ہیں۔ آجکل موریشس میں شاید ہی یہ منظر دیکھنے کو ملے۔ اس کتاب کے اوراق بچوں کو قدرت کی طرف راغب ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ کہانی کے شروع میں ہندومسلم اتحاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ موریشس کثیر المذاہب کا ملک ہے۔ ’شہناز کے ہندو دوست ہولی کے تہوار میں مست تھے۔‘
’بانٹ کر کھانے کا مزہ‘ کا مرکزی مقصد بچوں کو دوسروں کے بارے میں سوچنا سکھانا ہے۔ شہناز پپیتا نہیں کھاتی اور اپنی ماں کو دیتی ہے۔ ماں سلیم کے بارے میں سوچتی ہے اور سلیم پپیتا نہ کھا کر پاپا کو دیتا ہے جو پپیتا شہناز کے لئے رکھتا ہے۔ ہر چیز بانٹ کر کھانے میں خوشی ہوتی ہے اور اسی میں برکت ہے۔ زبان کے معیار کو بڑھانے کے لئے معلومات آمیز ذخیرہ الفاظ ہیں۔ ’ دھوپ اور گرمی کی وجہ سے سلیم پسینے میں شرابور تھا۔‘ بچے محاورات سے بھی ہمکنار ہوتے ہیں: ’ منہ میں پانی بھر آنا۔‘
4) ’اشرف کا فارم‘
یہ موریشس کے ایک زمیندار کی کہانی ہے۔ اس میں جغرافیائی حقیقت نگاری ہے جو بچوں کو موریشس کی جگہوں سے واقف ہونے میں مدد کرتی ہے۔ اشرف سورینام میں رہتا ہے۔ وہ ناریل کا پانی پینے کا شوقین ہے۔ یہ موریشس میں مقبولِ عام ہے۔ یہ کہانی محنت کا درس دیتی ہے۔ اشرف صبح اٹھ بجے سے کام پے لگ جاتا ہے اور بازار میں اپنے پھلوں کو بیچتا ہے۔ اس سے دنیاداری کی ایک خفیف سی جھلک سامنے آتی ہے۔ کہانی جانوروں کے لئے محبت کا رویہ اختیار کرنے پر اکساتی ہے ۔ بلی بستر پر سوتی ہے۔ کتے کو سہلایا جاتا ہے۔ اس میں جانوروں کے نام، ان کی عادتیں اور خصلتیں درج ہیں۔ مرغا بانگتا ہے اور ککڑوں کوں کرتا ہے۔ بلّی میاؤں میاؤں کرتی ہے۔ مرغا سویرے جگاتا ہے جبکہ بلّی بستر چھوڑنے میں کاہلی دکھاتی ہے۔ کتّے کی وفاداری کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وہ گھر کی رکھوالی کرتا ہے۔ گائے سے منسلک ذخیرہ الفاظ درج ہیں۔ جیسے دودھ، دہی، مکھن اور پنیر۔ جانوروں کی جمع اور تذکیر و تانیث شامل کئے گئے ہیں: مرغے، مرغیاں، بکرے، بکریاں، گھوڑے، گھوڑیاں۔ سبزیوں کے نام درج ہیں:آلو اور ٹماٹر۔
کہانی میں اتحاد کی برکت کو دکھایا گیا ہے۔ اشرف دوستوں، پڑوسیوں اور رشتے داروں میں زائد پھل تقسیم کرتا ہے۔ اس طرح اتحاد اور انسانی رشتوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ کہانی یہ بھی دکھاتی ہے کہ قدرت سے قربت رکھنے والا شخص خوش مزاج اور فعال زندگی گزارتا ہے۔
5) پردیس کبھی بھی کسی کو راس نہیں آتا
اس کہانی میں مٹھاس ہے۔ اس کو پڑھ کر بچے جانوروں کی طرف حساس ضرور ہوں گے۔ وہ رفیق کی طرح زخمی جانوروں کا خیال رکھنا چاہیں گے۔ ان کے زخم پر مرہم پٹی کریں گے۔ ان کوٹھہرنے کی جگہ دیں گے اور کھانے پینے کا انتظام بھی کریں گے۔ یہ کہانی بچوں کو نیک دلی کی دعوت دیتی ہے۔ جانور بھی اتنا وفادار نکلا کہ مینوش کے جنگل کے لوٹنے کے بعد بھی وہ رفیق کو دیکھنے آتا۔
کہانی میں مترادفات شامل ہیں: ’رفتہ رفتہ‘ اور’ آہستہ آہستہ‘۔ اور انواع و اقسام کی صفتیں بھی ہیں ’ دلکش اور خوبصورت‘۔ پھل اور سبزیوں کے ذخیرۂ الفاظ بھی ہیں (’امرود‘ اور ’گوبھی‘)۔ بچے رنگ بھی سیکھتے ہیں: ’لال، پیلا، ہرا۔ یہ کہانی بچوں کو سکھاتی ہے کہ دنیا کی چیزیں آنی جانی ہیں۔ اس سے توقعات رکھنا بے سود ہے۔ ہر کسی کو اس کی آزادی دینی چاہئے کہ و ہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزارے۔ ہر کسی کی اپنی منزل ہے اور جس جانب منزل بلائے وہیں جانا ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی سکھاتی ہے کہ محبت دلوں کو جوڑتی ہے۔ دور رہ کر بھی دل اس پیار کو نہیں بھولتا اور یہی پیارا ن کو واپس کھینچ کر لاتی ہے۔
آشیانہ سیریز کو پڑھنے کے بعد واقعی لگتا ہے کہ ان میں خالق بوچا کے بے شمار سالوں کے تجربے کا نچوڑ ہے۔ بچوں میں اردو کے معیار کو بلند کرنے میں ان کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ لسانی اعتبار سے تسلی بخش ہے۔ ہر کہانی میں تعلیمی وتدریسی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہیں۔ یقیناًیہ موریشس کا مایہ ناز سرمایہ ادب ہے۔
(آبیناز جان علی کا تعلق موریشس سے ہے۔ وہ 11 سال سے مہاتما گاندھی سکنڈری اسکول میں اردو پڑھارہی ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج سے بی اے آنز اردو کے لئے وظیفہ حاصل کیا۔ دہلی اردو اکادمی سے بھی اعزاز حاصل کرچکی ہیں۔ انہوں نے دہلی کے ایران کلچر ہاؤس سے فارسی سیکھی۔ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے ایم اے اردو مکمل کیا۔ انہیں عربی زبان سے بھی واقفیت ہے۔ آبیناز جان علی موریشس کی اردو اسپیکنگ یونین کی رکن ہیں۔ اردو کے اخبار صدائے اردو کی مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘پیچ وخم‘ کے نام سے وزارتِ فنون و ثقافت شائع کررہی ہے۔ )