ایک دن کی خبریں، جہان معانی افشا ہوتا ہے
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 24 / مارچ / 2018
- 4733
دنیا میں ایک دن کی تفصیلی خبریں سن کر اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ دنیا کس سمت میں سفر کر رہی ہے۔ میں آج 20 مارچ 2018 کے ایک دن کی خبریں جو آپ میں سے بہت سے لوگوں نے سنیں ہوں گی مگر بہت ساروں نے شاید نہ سنی ہوں، اور بہت کم لوگوں نے اس پر غور کر نے کی زحمت کی ہو گی ۔۔۔ آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ فیک نیوز کے اس دور میں انسان خبریں تو سنتا ہے مگر غور سے نہیں سنتا ہے اور اس سے لا تعلق ہی رہتا ہے۔ ایسی خبروں سے بالخصوص لا تعلق رہتا ہے جو بہت دور کہیں وقوع ہو رہی ہیں۔
چلئے چند خبریں پڑھتے ہیں اور سوچتے ہیں۔ یہ خبریں فیک نہیں ہیں اس کا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ چونکہ یہ خبریں بڑے بڑے خبر رساں ادارے جیسے ڈوئچ لینڈ فنک، اشپیگل، روئٹر اور بی بی سی وغیرہ سے مستعار لی گئی ہیں۔
سب سے پہلی خبر اور ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک سعودی عرب کے امیر ترین بادشاہت کے ولی عہد نے 45 کروڑ ڈالر کی مالیت کا ایک فن پارہ جو کہ ڈاونچی کا تھا، خریدا ہے۔ انہیں اس کے علاوہ دنیا کا مہنگا ترین محل خریدنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ جو کہ فرانس میں واقع ہے۔ سعودی شہنشاہ کے محل سے صرف ایک ہزار چارسواناسی کلو میٹر یا کار سے صرف سترہ گھنٹے کے سفر کے فاصلے پر یمن کا شہر صعنا واقع ہے جہاں بھوک اور افلاس قدرتی نہیں خشک سالی سے نہیں بلکہ سعودی ہونہار پائلٹوں کی بمباری سے در آئی ہے۔ زندگی اجیرن ہے۔ چلئے سعودیوں معاملے پر زیادہ لب کشائی کرنا تو گناہ ہے اس لئے آپ کو دنیا کے کسی اور طرف لئے چلتے ہیں۔ ذرا مختلف خبریں سناتے ہیں۔ چین میں صدر زی جن پنگ کو تاحیات صدر بنانے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔ چین اپنے طرزحکومت میں پہلے بھی کبھی بہت زیادہ مغربی طرز کا آزاد خیال ملک تو تھا نہیں۔ مگر چین کی فولادی دیوار کے گرنے کے بعد تیزی سے رونما ہونے والی ترقی سے امید ہو چلی تھی کہ چین میں بھی مزدور اور عوامی اصلاحات ، تنقید وغیرہ کے جراثیم در آئیں گے مگر ماشاءاللہ چینوں نے اس کا بھی علاج ڈھونڈ لیا ہے۔
مگر یہ کیا کہ جمہوریت پر بھی یاسیت طاری ہورہی ہے۔ انجیلیکا میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر بن گئی ہیں۔ اور سارکوزی پر الزام ہے کہ انہوں نےقذافی مرحوم جنہیں وہ جمہوریت کا ازلی دشمن قرار دیتے تھے، سے پیسے لے کر اپنی جمہوری صدارتی کرسی کو دوام بخشا تھا۔ ایک اور بہت اہم خبر جو آج کے مؤقر جریدوں کی زینت بنی ہے وہ یہ ہے کہ خشک سالی، فصل کے ضائع ہونے اور سیلاب کی وجہ سے سن 2050 تک قریب قریب 140 ملین افراد جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور جنوبی صحرا کے افریقی ممالک سے ہجرت کر نے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہ ہجرت درون و بیرون ملک ہو سکتی ہے۔ ہجرت سے ایک اور خبر سامنے آگئی۔ شہر آفرین آجکل خبروں میں کافی جگہ پارہا ہے۔ آفرین شہر سے گرچہ کہ یہ ملک شام میں واقع ہے اور امریکی اتحاد، جو ہمیشہ ہی کردوں کے حقوق کو جانے کیوں مقدم جانتا ہے، یہاں کردوں کو مسلح کیا تھا۔ تاکہ وہ شامی جنگجوؤں سے نجات پاسکیں۔ وہاں کردوں کے حال کا کیا ذکر کیا جائے۔ صرف ایک خبر ہے کہ وہاں سڑکوں پر انسان کیڑوں مکڑوں کی طرح مر رہے ہیں۔ ایک ہزار ایک سو ستاون کلو میٹر دور ازمیر میں صدر اردوان بچوں کو کھلونے تقسیم کرتے ہوئے بھی دکھائی دیئے۔ کاش وہ آفرین جاکر یہ بانٹ رہے ہوتے۔