سماجی اہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا بیانیہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 25 / مارچ / 2018
- 11940
ہماری درس گاہوں یا دانش گاہوں میں فکری اور علمی بنیادوں پر امن ، سماجی ہم آہنگی، رواداری اور قومی یکجہتی کی بنیاد پر بچوں اوربچیوں میں ایک نئے بیانیہ کی بحث کو آگے بڑھایا جائے تو اس کے مستقبل پر دوررس مثبت نتائج مرتب ہوں گے ۔ کیونکہ نئی نسل میں عدم برداشت اور ایک دوسرے کے خیالات میں مختلف سوچ اور فکر کے باوجو د مل کر آگے نہ بڑھنے کی جو روش سماج میں طاقت پکڑ رہی ہے، وہ ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جو اہل دانش اور دیگر طبقات کو غور وفکر کی دعوت بھی دیتی ہے ۔
بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہے کہ ہم میں ایک دوسرے کی رائے کو تسلیم نہ کرنے یا اسے احترام نہ دینے کا جو رجحان بڑھ رہا ہے اس سے کیسے نمٹا جائے۔ یہ ہی سوال اہل دانش کے لیے نئی فکر مندی کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ان محرکات کو سمجھ کر ایک ایسے بیانیہ یا متبادل یا علم کی تلاش میں نئی نسل کی راہنمائی کرنے میں مدد کریں جو ہمیں روداداری پر مبنی سماج کی طرف بڑھنے میں مدد فراہم کرسکے ۔ پچھلے دنوں میں پنجاب کی اہم اور بڑ ی درس گاہ جامعہ پنجاب اور سنٹر فار ہیلتھ اینڈ صنفی برابری کے تعاون سے ’’ امن ، سماجی آہم اہنگی، رواداری اور قومی یکجہتی ‘‘ کے موضوع پر ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر محمد زکریا زاکر نے کی جبکہ مہمان خصوصی میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کے سربراہ پروفیسر ڈاکڑ نظام الدین ، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان، جنرل (ر) زاہد مبشر شیخ، گومل یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور، پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید، معروف صحافی افتخار احمد، ڈاکٹر رعنا ملک، معروف ادیب شاعر منصور آفاق، اعظم ملک، سینٹر فار ہیلتھ برائے صنفی برابری کے سربراہ ممتاز حسین اور راقم شامل تھے ۔
یہ محض ایک روزہ کانفرنس ہی نہیں تھی ، بلکہ گزشتہ ایک برس سے امن، رواداری اور سماجی آہم اہنگی کے تناظر میں جامعہ پنجاب اور سنٹر فارہیلتھ اینڈ صنفی برابری کے تعاون سے جاری مختلف شعبہ جات کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے درمیان تسلسل سے کئی گئی مختلف سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی ایک اختتامی تقریب تھی۔ اس پروگرام کے تحت جامعہ پنجاب میں کل 85 سے زیادہ امن اور رواداری، سماجی آہم اہنگی پر مبنی مختلف تقریبات جن میں سیمینار، مشاعرے، ورکشاپس، پوسٹرز نمائش، تھیٹر، کوئیز، واک ، ڈاکو مینٹریزکا انعقاد کیا گیا۔ اس کا کریڈیٹ جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر زکریا زاکرکو جاتا ہے جنہوں نے طلبہ وطالبات اور اساتذہ کو اس اہم اور حساس ایجنڈے پر جوڑ کر عدم برداشت جیسے موذی مرض سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کام میں ان کو ڈاکٹر ساجد رشید اور ممتاز حسین کا تعاون بھی حاصل تھا ۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہماری بڑی جامعات کے سربراہان اب اس اہم مسئلہ کی شدت اور اس سے نمٹنے کے معاملات میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کیونکہ نئی نسل میں عدم برداشت، انتہا پسندی اور مختلف سوچ وفکر کے لوگوں میں تنازعات یا دوریاں پیدا ہورہی ہیں ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ میں ہمیشہ اس بنیادی نکتہ پر زور دیتا رہتا ہوں کہ اصولی طور پر درس گاہوں کا مقصد ایک روائتی اور پرانے خیالات کے مقابلے میں نئے علم کی تلاش اور متبادل ترقی اور سماجی اہم آہنگی کا بیانیہ پیش کرنا ہوتا ہے ۔ جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر زکریا زاکر کے بقول نئے بیانیہ یا علم کی تلاش اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب ہم جامعات کی سطح پر سوچنے ، سمجھنے اور پرکھنے والے لوگوں میں سوچ اور فکر کی آزادی کو تقویت دیں گے۔ جب تک پروفیسرز ، اساتذہ اور طلبہ وطالبات کو فکری طور پر سوچ کی آزادی نہیں دی جائے گی متبادل بیانیہ بھی ممکن نہیں ۔
ہمارے ہاں پنجاب یونیورسٹی سمیت تمام جامعات میں پرانے تصورات نمایاں طور پر بالادست نظر آتے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اب جامعات کا ماحول بدل رہا ہے اور وہاں خیالات کے تناظر میں گھٹن کا ماحول تھا اس میں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں ۔ البتہ اس ماحول کو اور زیادہ سازگار بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ اصل مسئلہ طلبہ وطالبات کو ان بڑی درس گاہوں میں ایسا ماحول اور سرگرمیاں پیدا کرنا ہے جو ان کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ان میں درویاں یا تلخیاں ہیں ان کو بھی کم کیا جاسکے ۔ اس کانفرنس میں سب مقررین نے جو بنیادی باتیں کی ان میں کیسے ان درس گاہوں کو علمی، فکری ، تحقیقی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے ۔ سب کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ یہ بڑی درس گاہیں محض ڈگریاں بانٹنے کا کام نہ کریں بلکہ طلبہ و طالبات کو اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ سماج کی ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے ۔ ڈاکٹر نظام الدین کے بقول ہمیں اپنی تعلیم کے مجموعی ماحول اور کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا اور اس میں جذباتیت کے مقابلے میں تحقیق اور شعور یا عقل کو بنیادی فہم کا حصہ بنایا جائے ۔ ڈاکٹر نظام الدین کی بطور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کے طور پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام جامعات کو جوڑ کرتسلسل کے ساتھ اس مکالمہ کو آگے بڑھائیں کہ انتہا پسندی کے خاتمہ میں نئی نسل اور جامعات کیا کردار ادا کرسکتی ہیں اور کس طرح سے امن، روداری کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔
کانفرنس میں نئی نسل کے تناظر میں افتخار احمد اور راقم نے میڈیا کے کردار پرگفتگو کی اور کہا کہ نئی نسل کو رسمی میڈیا کے مقابلے میں متبادل یا سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنانا ہوگا۔ سوشل میڈیا کی مدد سے ہمیں نفرت اور تقسیم کرنے والے ایجنڈے کو بنیاد بنانے کی بجائے امن ، روداری اور سماجی اہم آہنگی کو مباحث کا حصہ بنانا چاہیے ۔ اگر ہم نئی نسل کو سوشل میڈیا کی مدد سے سماج میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو صورتحال میں بہتر تبدیلی کا عمل ممکن ہوگا ۔ میڈیا محض بحران کو دکھانے کی بجائے مثبت عمل کو بھی دکھائے جو لوگوں کو تقسیم کی بجائے جوڑسکے ۔ راقم نے تجویز دی کہ میڈیا سمیت سوشل میڈیا ، سائبر کرائم کے مضمون کو بطور لٹریسی ہر شعبہ میں متعارف کروایا جائے ۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان ، جنرل (ر) زاہد مبشر شیخ اور ڈاکر محمد سرور نے اسی نکتہ پر زور دیا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہم نے معاشرے سے انتہا پسندی سے نمٹنا ہے تو اس میں نئی نسل کے مسائل کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا اور ہمیں مسائل کو اور زیادہ گہرائی میں جاکر حقایق پر مبنی تجزیہ اور حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس بنیادی نکتہ پر بھی زور دیا گیا کہ اگر ہم نے ملک میں حکمرانی کے بحران اور معاشرے میں موجود محرومی سمیت سیاسی، سماجی ، قانونی او رمعاشی انصاف کے عمل کو مضبوط نہ کیا تو عدم برداشت یا انتہا پسندی کا عمل کمزور نہیں بلکہ او رزیادہ طاقت پکڑے گا۔
اچھی بات یہ ہے کہ کانفرنس میں 1500سے زیادہ طلبہ و طالبات کی شرکت اوربالخصوص لڑکیوں کی امن اور رواداری کے فروغ میں دلچسپی کا پہلو نمایاں نظر آیا ۔ بہت سے طلبہ و طالبات نے برملا کہا کہ ایک برس سے جاری جامعہ پنجاب اور سنٹر فار ہیلتھ اینڈ صنفی برابری کے تعاون سے جاری سرگرمیوں سے ان کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور ہم نے خود آگے بڑھ کو جو امن کے تناظر میں سرگرمیاں کیں اس سے ہمارا اعتماد بڑھا ہے ۔ یہ اچھی بات ہے کہ اگر نئی نسل امن اور روداری سمیت سماجی اہم آہنگی کے فروغ میں ایک سفیر کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکیں اور ان کی راہنمائی ہو تو یہ واقعی سماج کی بڑ ی خدمت ہوگی ۔ کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیاجس میں تعلیمی نصاب، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی ماحول ، تحقیقی عمل ، فکری آزادیوں، غیر نصابی سرگرمیوں، تنازعات سے نمٹنے میں طلبہ و طالبات کی راہنمائی اور تربیت، جامعہ کے اشاعتی مواد اور ایف ایم ریڈیوکو امن اور رواداری کے تناظر میں بہتر طور پر استعمال کی جائے ۔
جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر زکریا زاکر اور دیگر اساتذہ جامعات کی سطح پر امن ، سماجی اہم آہنگی اور رواداری کے پھیلاؤ کے لئے جو کام کررہے ہیں اس میں اور زیادہ تسلسل لاکر اپنی ترجیحات کا اہم حصہ بنائیں تو یہ واقعی نئے بیانیہ کی تلاش کو تقویت دے گا۔ اور اس تاثر کی نفی ہوگی کہ ہماری جامعات بھی انتہا پسندی کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔