خزاں کی رُت کیوں سنہری ہے
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 25 / مارچ / 2018
- 10231
”خزاں کی رُت سنہری ہے “۔ عظمی جون کی یہ بات گہری ہے۔ انہوں نے خزاں کی رُت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑکراورخزاں کو سنہرا کہہ کراپنی شاعری کے مجموعی تاثر کابھی پتہ دے دیاہے ۔ عظمی بھی ہماری طرح اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، جس نے آنکھوں میں بہت سے خواب سجائے ، بہاروں کی امیدرکھی لیکن جب خوابوں کوتعبیر نہ ملی اورخزاں ہمارے جیون میں ٹھہر گئی توعظمی نے خزاں کو ہی سنہراجان کر اس میں بہارکے آثار تلاش کرلئے ۔
بلوچستان کے شہر سبی سے تعلق رکھنے والا عظمی جان خزاں کاہی توباسی ہے۔ عظمی نے اپنی اس کتاب کے منظوم پیش لفظ میں خزاں کی سنہری رُت کااحوال بہت تفصیل کے ساتھ بیان کردیا۔ ”بہاریں توبہاریں ہیں، خزاں کی زرد رنگت بھی کبھی پیلی نہیں لگتی ، مر ی آنکھوں کی سرحد کے پرے خوابوں کی بستی میں خزاں کی رت سنہری ہے“۔ عظمی جون کی اس کتاب میں پہلا مضمون محسن بھوپالی کاہے جنہوں نے عظمی جون کی شاعری کا تفصیلی محاکمہ کیا ، فلیپ پر پروفیسر سحرانصاری ، امجداسلام امجد اور ڈاکٹرفاروق احمد کی آراء درج ہیں ۔ کتاب میں شامل نظمیں اورغزلیں پڑھنے والے کو حیران کرتی ہیں ۔عظمی جون کی شاعری میں غم جاناں اورغم دوراں دونوں کا احوال موجود ہے ۔
یہ عظمی جون کا پہلاشعری مجموعہ ہے جو18برس قبل شائع ہوا اوراس کے بعد سے اب تک اس کے 8ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ ایک ایسے دورمیں جب ہم گلہ کرتے ہیں کہ لوگ شعر و ادب اور کتاب سے دورہوچکے ہیں عظمی کی اس کتاب کی تسلسل کے ساتھ اشاعت یہ بتاتی ہے کہ اچھی شاعری کاقاری آج بھی موجود ہے ۔160صفحات پرمشتمل یہ شعری مجموعہ دھنک پبلیکشنز مسجد روڈ سبی بلوچستان سے حاصل کیاجا سکتاہے ۔
عظمی جَون کے چند اشعاردوستوں کی نذر کرتا ہوں:
تم اک کاغذ کے ٹکڑے پر”نہیں ملنا“ جولکھتے ہو
میں اُس ٹکڑے پہ ملنے کے کئی منظربناتاہوں
۔۔۔۔۔
اتنی جلدی کب دعائیں رنگ لاتی ہیں بھلا
مل رہاہے آج جو، مانگا ہوا پہلے سے تھا
۔۔۔۔۔
حال دل کہنے گیاتھا، رہ گیا
موسموں پرگفتگواچھی رہی
۔۔۔۔۔
مجھے اچھانہیں لگتاہے نمایاں ہونا
ورنہ شہرت تو کئی دن سے مر ی تاک میں ہے
۔۔۔۔۔
سبھی سے محبت جتا تورہا ہے
کسی سے بھی اس کومحبت نہیں ہے
۔۔۔۔۔
وہ بھی اب دشنام طرازی کرتے ہیں
طوطوں کوہربات رٹائی جاسکتی ہے
۔۔۔۔۔
کسی کوتاہ قامت کو کشیدہ کہہ نہیں سکتا
خوشامد کےلئے شہ کاقصیدہ کہہ نہیں سکتا
۔۔۔۔
ابھی اونچا ہی رہناہے علم حق وصداقت کا
ابھی یہ جاں سلامت ہے ابھی یہ بات باقی ہے
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)