گزرے ماہ و سال

یہ سوال بار بار ذہن کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ خالق کائنات نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہم خالق کے شاہکار ہیں۔ اس نے ہمارے لئے کیا کیا نہیں کیا۔ ہمیں اپنے شاہکار سیارے میں اتارا اور کرہ ارض کو لاتعداد نعمتوں سے مالا مال کیا۔ اسے بدلتے موسموں سے سنوارا۔ بلند و بالا پہاڑ ، گہرے سمندوں اور قد آور درختوں سے مزین کیا۔ ہمارے لئے رشد و ہدایت کیلئے وقفے وقفے بعد پیغمبر آتے رہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری جسمانی و ذہنی اور روحانی نشوونما ہوتی رہی۔ ہم نے غاروں سے نکل کر جگمگاتے شہروں کو آباد کیا۔ بسیط خلاؤں اور گہرے سمندروں کی واقفیت حاصل کی۔ اور پھر بھی دل بے رحم پکار اٹھتا ہے:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آر ہی ہے دما دم صدائے کن فیکون

نہ جانے آج یہ خیالات ہمارے چاروں اور کیوں منڈلا رہے ہیں۔ شاید اس لئے کہ ہم غریب آفتاب کی وادی کے مسافر ہیں۔ گزرے ماہ و سال ہم رکاب ہیں۔ ہمارے عزیزوں اور چاہنے والوں کے دلفریب پیام آر ہے ہیں۔ ہمیں مبارکباد دے رہے ہیں۔ ہمارے اسی سالہ یوم پیدائش کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ مبارک صد مبارک کی صدائیں آ رہی ہیں۔ شاید ان کے پیام محبت یہ نوید ہے کہ ہماری زندگی اب کے مختلف ہوگی۔ یہی خیال میں پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر اکسا رہا ہے۔ ذہن بار بار اجنبی دیس سے نکل کر جانے پہچانے دیس کی طرف پرواز کر رہا ہے۔ دیس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہم نے جب ماں کی آغوش الفت میں دلربا ’’لوری‘‘ سنی تھی۔ شعور بیدار ہوا۔ دہکتے سورج نے آنکھوں کو خیرہ کیا تھا۔ رات کے اندھیروں سے جگمگاتے تاروں کے کارواں در کارواں سفر کو حد نظر تک دیکھتے رہے۔ بچپن، لڑکپن، تعلیمی ادارے، گھر کا مہرباں ماحول، والدین کی شفقت، بہنوں بھائیوں کی رفاقت اور لاتعداد محبت۔ پھر حصول نان جویں کے سفر در سفر کی ابتدا۔ یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور بالآخر نان جویں امریکا میں لنگر انداز ہو گئی۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایک اور خیال سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ قرآن حکیم میں جس جنت کی طرف اشارہ ہے۔ کیا ہم اس جنت سے گزر آئے ہیں۔ یا وہ جنت ہمارے چاروں اور بکھری پڑی ہے۔ کیا ماں کی گود جنت نہیں۔ کیا ماں کی مدبھری لوری جنت نہیں۔ کیا ہمارا بچھڑا پرانا محبتوں بھرا گھر جنت نہ تھا۔ کیا مشرق سے ابھرتا سورج اور تاروں بھرے آسمان پر دمکتا ماہتاب جنت نہیں۔ کیا ہم اپنی اپنی جنت پیچھے چھوڑ آئے ہیں یا ہم جنت کی تلاش میں بدستور جادہ پیما ہیں:

نظر میں ہے ہماری جادہ راہ فنا غالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجرائے پریشاں کا

ہمیں اس بات پر گھمنڈ ہے کہ ہم خالق کائنات کی اشرف المخلوقات ہیں۔ ہم خالق کائنات کا شاہکار ہیں۔ خالق کائنات نے ہمیں کرہ ارض عطا کیا جو خلا کا حسین ترین سیارہ ہے۔ اور ہم نے کرہ ارض کو چار چاند لگا دیئے۔ کرہ ارض میں نئی راہیں تلاش کیں۔ ان ہی راہوں میں تخلیق نو کی جوت جگائی۔ وہ کن فیکون والے ہمارے ہی ہاتھ تھے۔
انسان عظیم ہے نہ رہا ۔۔۔۔

کیا ہم نے اپنی حیثیت سے رخصت ہونا ہے۔ جس طرح آدم و حوا جنت سے رخصت ہوئے۔ کیا ہم آدم کی اولاد بھی آدم و حوا ہیں۔ ہم بھی غروب آفتاب کی وادی میں پھرتے کسی دوسرے جہاں میں پہنچ جائیں گے۔ جس طرح ہماری مہرباں ماں اپنی لوری سمیت نقاب خاک میں روپوش ہو گئیں، ہم سے سدا سدا کیلئے بچھڑ گئیں۔

ذہن بھٹک رہا ہے۔ صدائیں آ رہی ہیں کہ اے پروردگار!! آپ نے تو ہمیں اپنا شاہکار بنا کر کرہ ارض پر آباد کیا تھا۔ اور اب آپ ہی اپنے شاہکار کا اختتام کر رہے ہیں۔ ہم نے اس کرہ ارض کے ریزہ ریزہ کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنایا۔ اپنی سانسوں میں اسے سنوارا۔ ہمارے دلوں کی دھڑکن اس کے دل کی دھڑکن ہم آہنگ رہی۔ ہم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی محدود ہیں۔ ہم وہی سوچ سکتے ہیں جس کے ہم اہل ہیں۔ کیا اس سے آگے بھی جہاں اور بھی ہیں۔ لیکن ہماری سوچ محدود ہے۔ ہم تو صرف یہی التجا کر سکتے ہیں:

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا