متحدہ مجلس عمل اور مذہبی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 26 / مارچ / 2018
- 5163
پاکستان میں سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں تضادات کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔ تضادات پر مبنی سیاست کا عمل محض سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی سیاسی جماعتو ں کے سامنے اصول، نظریات، سوچ، فکر اور اخلاص کے مقابلے میں مفادات اور اقتدار کی سیاست کا غلبہ ہوگیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر اور مذہبی سیاسی جماعتیں اسلام کے نام پر اسے بطور ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو گمرا ہ کرتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذہبی سیاست نے کی ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔
ماضی میں اگر ہم مذہبی سیاست یا ان کے درمیان اتحاد کی سیاست کو دیکھیں تو اس کے نتائج نہ تو جمہوریت کے حق میں برآمد ہوسکے اور نہ ہی اس سے اسلام کی خدمت ہوسکی ۔ پاکستان قومی اتحاد ہو یا اسلامی جمہوری اتحاد سمیت متحدہ مجلس عمل کا تجربہ ، اس میں مذہبی سیاست کو بنیاد تو بنایا گیا لیکن یہ سیاست اپنے لیے یا کسی اور کے لیے اقتدار کی سیاست سے جڑی نظر آئی۔ قومی اتحاد اور اسلامی جمہوری اتحاد میں اگرچہ مذہبی سیاست کو بنیاد بنا کر سیاسی مخالفین کے خلاف بھر پور مہم چلائی گئی لیکن یہ محض بھٹو یا پیپلز پارٹی دشمنی تک محدود نظر آئی ۔ 2002کے انتخابات میں پہلی بار تمام مذہبی سیاسی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھی۔ اس اتحاد میں مذہبی سیاسی جماعتو ں کے بڑے نام جن میں مرحوم قاضی حسین احمد، مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق جیسے جید راہنما پیش پیش تھے ۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس اتحاد کو اسٹیبلیشمنٹ کا اتحاد کہتے ہیں مگر اس کے برعکس اس متحدہ مجلس عمل کی مجموعی سیاست بشمول خیبر پختونخواہ میں اقتدار کی سیاست کا جائزہ لیں تو اس نے ملک میں مذہبی سیاست کی حمایت کرنے والوں کو بہت زیادہ مایوس کیا ۔ اس اتحاد کو برباد کرنے اور ذاتی مفادات کی سیاست کو طاقت پہنچانے اور کرپشن پر مبنی سیاست کو فروغ دینے میں جو کردار مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے ادا کیا وہ قابل گرفت ہے۔ مگر اس کا ادراک مذہبی جماعتوں میں کم پایا جاتا ہے ۔
اس کے باوجود ملک میں متحدہ مجلس عمل اپنے آپ کو اتحاد کی صورت میں برقرار نہ رکھ سکی اور یہ اتحاد اقتدار کی سیاست کے بعد عملی طور پر ختم ہوگیا تھا ۔ مولانا فضل الرحمن نے 2013کے انتخابات میں بھی متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی کوشش کی تھی مگر اس وقت کے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی مزاحمت کے باعث یہ اتحاد بحال نہیں ہوسکا تھا ۔ اب ایک بار پھر2018کے انتخابات کے تناظر میں متحدہ مجلس عمل کو بحال کرکے مولانا فضل الرحمن کو اس اتحاد کا سربراہ اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ کو سیکرٹری جنرل بنایا گیا ہے ۔ اس اتحادکی بحالی کی ایک وجہ مذہبی سیاست عملی طور پر انتخابی سیاست میں بڑی حد تک سیاسی تنہائی کا شکار ہوگئی تھی ۔ بڑی سیاسی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے بھی انتخابی سیاست میں مذہبی جماعتوں کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی ۔ لیکن اب ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل سیاسی لنگوٹ کس کر انتخابی میدان میں اترنے اور دیگر بڑی جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا ارادہ رکھ کر انتخابی سیاست میں راستے کی تلاش میں ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہبی سیاسی انتخابی اتحاد کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ عمومی طور پر سیاسی اتحاد ہی بنتے ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی ان سیاسی اتحادوں میں اپنے لیے راستہ تلاش کرتی ہیں ۔ کیونکہ جب یہ کہا جائے کہ یہ مذہبی سیاسی اتحاد ہے تو کیا دیگر اتحادوں کو ہم غیر مذہبی سیاسی اتحاد کہیں گے یا ان کی اسلام کی حیثیت کو چیلنج کریں گے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل بحال تو کردیا گیا لیکن ماضی کے اس اتحاد کے تجربے سے کچھ سبق سیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا بڑا فائدہ مولانا فضل الرحمن کو ہوا ہے ۔ وہ اس سے دو کام کریں گے۔ اول خیبر پختونخواہ میں وہ اور جماعت اسلامی مل کر نواز شریف کی جماعت سے اتحاد کرکے تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔ دوئم مولانا فضل الرحمن اس اتحاد سے بڑی جماعتوں کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر متحدہ مجلس عمل سے زیادہ خود سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔ متحدہ مجلس عمل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہبی سیاسی انتخابی اتحاد کو انتخابات کے تناظر میں ایک منصوبے یا پراجیکٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ اس میں اصولی طو رپر اسلام کا نفاذ کوئی ایجنڈا نہیں ۔ کیونکہ جب چاروں اطراف طاقت کے حصول کی سیاست کو غلبہ ہو تو مذہبی جماعتیں بھی اس ڈور سے کیونکر اپنے آپ کو باہر رکھ سکے گی ۔ جہاں تک اسلام کے نفاذ یا اس کے پھیلاؤ کا تعلق ہے تو یہ محض ایک مذہبی نعرہ ہوگا۔ ویسے بھی مولانا فضل الرحمن جیسے موقع پرست، اقتدار پرست اور بدعنوانی پر مبنی سیاست کے علمبردار سے اسلام کی خدمت کی توقع محض خوش فہمی سے زیادہ نہیں ۔ جماعت اسلامی اس اتحاد میں سوائے مولانا فضل الرحمن کی مفاداتی سیاست کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بنے گی اور اس کو اس اتحادی سیاست میں کچھ زیادہ نہیں مل سکے گا۔ اس اتحاد میں صرف دو ہی اہم جماعتیں ہیں جن میں جے یو آئی او رجماعت اسلامی شامل ہیں ، باقی کی کوئی بڑ ی سیاسی حیثیت نہیں ۔
جماعت اسلامی کا مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے چند برسوں میں اس کا ووٹ بینک بہت حد تک نیچے چلا گیا ہے اور اسی وجہ سے اس کو اب بڑی جماعتیں زیادہ اہمیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ۔ جماعت اسلامی کا خیال ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی اس کی ڈوبتی سیاسی کشتی کو کچھ محفوظ سیاسی سہارا مل سکے گا۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا خیبر پختونخواہ میں کچھ ووٹ بینک ہے اس کا فائدہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حمایت سے اٹھاسکتی ہیں۔ مگر پنجاب کی سیاست میں جے یو آئی کا ووٹ بینک نہیں اور جماعت اسلامی کا ووٹ بینک بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ اس لیے پنجاب کی سیاست میں متحدہ مجلس عمل کا اتحاد کچھ نہیں کرسکے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے سامنے ایک بڑا چیلنج تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ کا بھی ہے اور وہ اپنے اس اتحاد کی صورت میں ان دونوں مذہبی جماعتوں کو کیسے کمزور کرسکے گی ، خود بڑا چیلنج ہے۔
اصل مسئلہ اتحادی سیاست میں اخلاقی ساکھ کا ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مذہبی لوگ یا ووٹر کیونکر متحدہ مجلس عمل پر اعتماد کریں گے ۔ کیونکہ جو کچھ ماضی میں متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخواہ میں اپنی صوبائی حکومت کے دور میں کیا وہ ایسا نہیں جو لوگوں کو ان کی حمایت کی طرف مجبور کرسکے ۔ یقینی طور پر متحدہ مجلس عمل اس اتحاد میں اسلام کے نفاذ کو ضرور ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گی مگر عملی طور پر ان کی یہ حکمت عملی اقتدار کی سیاست کے سوا کچھ نہیں ۔ نواز شریف کو متحدہ مجلس عمل پر یہ اعتماد ضرور ہے کہ اس میں ان کے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمن اور پروفیسر ساجد میر پیش پیش ہیں اور وہ جماعت اسلامی کو بھی نواز شریف کی حمایت کی طرف لاسکیں گے ۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ متحدہ مجلس عمل ماضی کے مقابلے میں زیادہ کمزور ثابت ہوگی ۔ کیونکہ قاضی حسین احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی کی موجودگی میں مولانا فضل الرحمن تنہا پرواز نہیں کرسکتے تھے ۔ جب کہ اب جو اتحاد بنا ہے اس میں مولانا فضل الرحمن اتحاد کو اپنی سیاست کے حق میں استعمال کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتیں مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں کھلونا ہی بنے رہیں گی ۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی ووٹرز کی سطح پر کوئی بڑی مثبت تبدیلی نہیں پیدا کرسکے گا ۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جیسے دیگرسیاسی قیادت ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کررہے ہیں وہی حال ان مذہبی جماعتوں او ران کی قیادت کا بھی ہوگا۔ ان کے سامنے کرپٹ نظام کی تبدیلی کی سوچ بالادست نہیں ہوگی بلکہ وہ طاقت کے مراکز میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
اس لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاست اور ان کی قیادت نے بھی لوگوں کو سوائے مایوسی کے اور کچھ نہیں دیا۔ ان کے پاس بھی اس کرپٹ اور بدعنوانی پر مبنی نظام کو بدلنے کی نہ تو کوئی خواہش ہے اور نہ ہی کوئی ایسا جامع منشور یا پروگرام ہے جو ملک میں منصفانہ اور شفاف نظام پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو۔