آخری معرکہ اور توقعات کا بوجھ

ہزاروں تماشائی گراؤنڈ میں ، کروڑوں ٹی وی اسکرینز کے سامنے ، شاندار پرفارمنسز سے سجی جاندار اختتامی تقریب۔ پاکستان سپر لیگ کا کراچی میں کھیلا گیا فائنل توقعات کے مطابق سپر ہٹ رہا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے یونائیٹڈ اسکواڈ نے دوسری مرتبہ ٹائٹل کی جنگ اپنے نام کرلی۔ سپر اسٹارز سے سجی پشاور زلمی ٹائٹل کے دفاع میں ناکام رہی۔

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن سے تیسرے ایڈیشن تک کے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سفر پر نگاہ دوڑائی جائے تو نہ انہیں ویسی میڈیاکوریج ملی نہ ہی اتنی پذیرائی جتنی بڑی بڑی اور مہنگی ٹیموں جیسے کراچی کنگز، لاہور قلندرز یا دیگر ٹیموں کو ملی۔ مگر شاید یہی پہلو اسلام آباد یونائیٹڈ کی طاقت بنا رہا اور وہ  صرف کرکٹ پر توجہ مرکوز کرکے دوسری بار چیمپئن بن گئی۔ اسلام آباد کی جیت کی راہ اگرچہ کئی رکاوٹیں بھی حائل ہوئیں۔ کپتان مصباح الحق ان فٹ ہو کر فائنل میچ نہ کھیل سکے اور نائب کپتان رومان رئیس بھی فائنل الیون کا حصہ نہ تھے مگر کوچنگ اسٹاف اور انتظامیہ جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے پہلے ہی مومینٹم حاصل کر چکے تھے۔ کہنہ مشق اور مشہور ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹوں کی بھرمار نہ ہونے کے باوجود تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے وہ کر دکھایا جو مشہور زمانہ اسٹارز بھی نہ کر سکے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جیت میں یوں تو کلیدی کردار نیوزی لینڈ کے جارح مزاج وکٹ کیپر بیٹسمین لیوک رونکی اور نوجوان پاکستانی آل راؤنڈر فہیم اشرف کا رہا تاہم ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے بھی کئی اہم مواقع پر گرتی ٹیم کو سنبھالا دیا اور جیت کی راہ پر گامزن کیا۔ بالخصوص نوجوان بیٹسمین حسین طلعت اور آصف علی کی پرفارمنس نے کئی بار اسلام آباد یونائیٹڈ کو غیر یقینی کی صورتحال سے نکالا۔ چیمپئنز کی چیمپئن پرفارمنس کا سہرا یقیناً پوری ٹیم کے سر باندھا جائے گا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے برعکس ملتان سلطانز ، پشاور زلمی اور خصوصاً لاہور قلندرز اور کراچی کنگز توقعات کے بوجھ تلے دبی رہیں۔ کراچی کنگز کے طوفانی آغاز نے سبھی کو متاثر کیا مگر اسٹار ڈم سے مزین ٹیم کو اسی بوجھ تلے دب کر شکستوں کی مالا پہن کر سونا پڑا۔ کراچی کنگز کو سست رفتار بیٹنگ نے اہم مواقع پر شکست سے دوچا ر کیا جس پر آگے چل کر اس فرنچائز کو یقیناً کام کرنا پڑے گا۔ لاہور قلندرز وہ ٹیم جسے ہمیشہ میڈیا میں زندہ رکھا گیا اور اسے بے پناہ پذیرائی اور کوریج ملی مگر کمبی نیشن کے عدم توازن نے لاہور قلندرز کو کسی بھی موقع پر ٹورنامنٹ میں ان رہنے کا چانس نہیں دیا۔ پلاننگ کا فقدان ہر میچ کے دوران کھل کر سامنے آیا۔ کسی بھی موقع پر ایسا نہیں لگا کہ لاہور قلندرز کا کوچنگ اسٹاف کسی گیم پلان کے تحت ٹیم کو میدان میں اتار رہا ہے۔ ہر میچ میں بولنگ اور بیٹنگ آرڈر میں تبدیلیاں شکست کی بڑی وجہ رہیں۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ لاہور قلندرز سے ہی ایک اور نوجوان فاسٹ بولر شاہین آفریدی سامنے آئے جنہوں نے سبھی کو متاثر کیا۔ اسی طرح ملتان سلطانز بظاہر ایک نہایت تگڑی ٹیم نظر آ رہی تھی جس میں کئی سپر اسٹارز شامل تھے۔ توقعات کے مطابق ٹیم نے ٹورنامنٹ میں اچھا آغاز کیا مگر آگے چل کر اس ریس میں اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکی اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

پشاور زلمی کی بات کی جائے تو یہ ٹیم شروع میں لڑکھڑائی ضرور مگر پھر سنبھلی اور ایسا سنبھلی کہ کوئی بھی ٹیم اسے پکڑ نہ پائی۔ پلے آف اور سیمی فائنل میں شاندار پرفارمنس نے پشاور زلمی کو فیورٹس میں لا کھڑا کیا مگر آخری معرکے میں کچھ غلط فیصلوں اور ناقص فیلڈنگ نے چیمپئن بننے کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ پورے ٹورنامنٹ میں دوران تمام بڑی ٹیموں اگر مگر کی صورتحال سے دوچار ہوئیں اسلام آباد یونائیٹڈ وہ واحد ٹیم تھی جسے کسی اگر مگر کی سچوئشن سے نہیں گزرنا پڑا اور اس طرح کھیل کی لگن ، سو فیصد پرفارمنس کی بھوک اور صرف جیت کا مقصد اسلام آباد یونائیٹڈ کو دوسری بار پاکستان سپر لیگ کا چیمپئن بنوا گیا۔