یہ پینٹنگ مکاں سے لامکاں کا احاطہ کئے ہوئے ہے!

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں وہ پینٹنگ تو آپ نے دیکھی ہی ہوگی جو ’’پینوراما‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ پینٹنگ اپنی خوبصورتی ، دلکشی ، انفرادیت اور نوعیت کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے کہ یہ ایک کھلا ہوا مکمل نظارہ ہے جو نہ صرف دائیں بائیں بلکہ مشرق و مغرب و شمال جنوب تک پھیلی ہوئی ہے، ایک دائرے کی شکل میں۔ آپ سامنے لگے جنگلے کو تھام کر دائرہ میں ایک مکمل چکر لگاتے ہیں، یہ پیٹنگ زماں سے لازماں اور مکاں سے لامکاں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، بیکراں وسعتوں کی گہرائیوں میں ایک لاجواب جادوئی شاہکار ہے۔

’’دی ہیگ‘‘ کا ساحل سمندر جس کا ولندیزی تلفظ SCHENWENINGEN ہے کو اس پیٹنگ میں 1881 کے ایک آرٹسٹ ایچ ڈبلیو مس داخ H.W MESDAG (یاد رہے کہ ڈچ زبان میں جی G کو خ KH بولتے ہیں) نے بھرپور اور انتہائی مہارت و خوبصورتی سے پیش کیا ہے جس کو ایک کمپنی نے پینوراما کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور اب یہ شاہکار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی ذی شعور اس کو ناپسند، یا ’’ایویں‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد پینٹنگ ہے جو بے مثال ہے۔ فوٹو گرافی اور فلم کی ایجاد سے ذرا پہلے وجود میں آنے والی یہ پینٹنگ لینڈ اسکیپ کی حقیقی ، دلکش اور خوبصورت ترین مثال ہے۔  اس وقت دنیا میں قریباً تین سو ایسی پینٹنگ ہیں جو بے مثال اور یکتا ہیں اور یہ پینٹنگ ان میں سے ایک ہے جو اپنی تصوراتی، طلسماتی اور حیران کن دل فریبی میں سرفہرست اور یکتا ہے۔

پینٹنگ دیکھتے ہوئے جہاں آپ کھڑے ہوتے ہیں وہ ایک دائرہ نما ٹیرس ہے جس کی چھت دائرہ کے درمیان میں ایک پلر (ستون) کے سہارے کھڑی ہے، یہ چھت بھی ایک دائرہ ہی کی شکل میں بنی ہوئی ہے جس کا محیط 120 میٹر اور زمیں (سطح) سے اونچائی 14 میٹر ہے چونکہ درمیان کے علاوہ اور کوئی سپورٹ یا ستون نہیں ہے۔ اس لئے آپ بیک وقت چاروں جانب کی ہر شے دیکھ سکتے ہیں۔ پینٹنگ دیکھنے والا اسی غلط فہمی میں رہتا ہے کہ سامنے کا نظاہرہ (پینٹنگ) قریباً سو میٹر دور ہوگا لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایسا حقیقت میں نہیں ہے۔ یہ منظر جو کہ ایک مچھیروں کی بستی، ساحل اور سمندر پر مشتمل ہے محض آپ سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔ یہ نظارہ نہ صرف روشنیوں کی مدد سے انتہائی دیدہ زیب ہے بلکہ خوشگوار حیرت لئے ہوئے بھی ہے۔ کچھ وقت کیلئے یقیناً آپ حیرت کدہ میں گم ہو جائیں گے کہ آپ کے سامنے تاحد نظر نیلے آسماں پر بادل اور تیز چلتی ہوئی ہواؤں کا زور و شور ہے۔ سمندر کے پانی میں تلاطم ، موجوں میں مدوجزر، بیک گراؤنڈ میں ملاحوں کی آوازیں، یہ سب مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں کہ سب پر حقیقت کا گماں ہوتا ہے اور آدمی اس نظارہ میں ایسے محو ہوتا ہے کہ بس ۔۔۔۔۔۔

اب ذرا آپ جہاں کھڑے ہیں اس گول دائرہ میں چکر لگائیں تو دیکھیں گے گاؤں کی اس بستی میں چھوٹے چھوٹے مکانات، کھیتوں میں کام کرتے کسان اور مزدور، کھیلتے اور اچھلتے کودتے بچے، جہازوں کے رسوں کے ڈھیر، مچھلیاں پکڑنے کے جال، کشتیوں پر عورتوں اور بچوں کا ہجوم، ایک ایسا موسم گرما کا نظارہ پیش کرتے ہیں جس پر حقیقت کا گمان ہوگا۔ اس سے ذرا آگے بڑھیں گے (دائرہ میں) تو اونچے گول گنبد نما مینار والے محلات ان کے درمیان ایک چرچ، ایک طرف گھوڑے اور سازوسامان سے آراستہ بگھیاں جن کے پہیوں کی لکڑی نصف قطر تک گھسی صاف دکھائی دیتی ہے۔ سامنے سے آتی ہوئی کسی نواب کی شاہی سواری، نوجوان شہزادے اور شہزادیاں، امرا اور طبقہ اشرافیہ کے بچے اپنے زرق برق لباس میں کھیلتے نظر آئیں گے۔ اس سے ذرا آگے بڑھیں تو موسم سرما آپ کا منتظر ہے۔ برف سے ڈھکی ہوئی سرخ مکانوں کی چھتیں، برف سے کھیلتے بچے، گرم ملبوسات میں لپٹے منہ میں پائپ دبائے ہوئے بوڑھے، سوئٹروں اور چادروں میں لپٹی ہوئی بوڑھی عورتیں جو بچوں کو سردی سے بچا رہی ہیں۔ یہ سب جیتی جاگتی دنیا کی حقیقتیں لگتی ہیں۔

سچ پوچھئے تو ایک بار یہ پینوراما آپ کو دیکھنا ہی ہوگا۔ میری طرح پانچ بار نہ سہی ایک بار ہی سہی۔ وہ جو کہتے ہیں لاہور، لاہور ہے ویسا ہی میں سمجھتا ہوں۔ دی ہیگ کا پینوراما ، پینوراما ہی ہے۔ اس کا کوئی توڑ نہیں۔ کوئی بدل نہیں۔ کوئی کاپی نہیں۔ اور یہ جو بھی ہے اسے کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے، پھر کس طرح فوکس کیا گیا ہے۔ یہ ایک راز ہے۔ بظاہر کوئی سینما کی اسکرین نہیں، پروجیکٹر نہیں، ایسی کوئی شے، کوئی آلہ، کوئی استا کاری یا کوئی مشین نظر نہیں آتی جس سے حقیقت کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔