معاشی بحران کیا رنگ دکھائے گا
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 27 / مارچ / 2018
- 6179
ہر معاشرے کا سماجی ڈھانچہ معیشت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس معاشی ہتھیار پر ہی ریاستی اور سیاسی نظام بنائے اور چلائے جاتے ہیں۔ جب معیشت ہی جواب دینے لگے تو سیاست اور ریاست کے نیچے سے زمین سرکنے لگتی ہے۔ ایسے بحرانوں میں حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں میں تصادم جنم لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچنے کی بجائے الزامات کی سیاست شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت نواز لیگ اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کا ڈھونگ کر رہی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتیں بڑی سرکار کے پیرو کار اور تابع ہونے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور معاشرتی تنزلی کے جو ریکارڈ قائم ہوئے جن کی بحالی کیلئے خاصی محنت کی ضرورت تھی، مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں نے پاکستان کو ایشیائی ٹائیگربنانے کے دعوے تو کیے جو کہ محض خواب ہی رہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی، تعمیرات میں تیزی سے اضافے اور سی پیک کی سرمایہ کاری جیسے ہتھکنڈوں سے مسلم لیگ (ن) نے معاشی شرح نمو میں کچھ اضافہ تو کیا۔ روپے کی قدر میں اچانک گراوٹ سے ڈالر 116روپے کا ہو چکا ہے جس کی قیمت پر کنٹرول سے مرکزی بینک نے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین کرنا مارکیٹ فورسز کا کام ہے۔ یاد رہے ماضی میں اسحاق ڈالر نے ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے کیپ لگا رکھا تھا۔ مارکیٹ سے ڈالر خرید کر قومی خزانے میں جمع کیے جاتے تھے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے قرضوں کی مالیت میں مزید ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ پچھلے سال جولائی سے ستمبر تک تین ماہ میں 2.1ارب ڈالر سود اور اصل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیے گئے۔ ہر ہفتے 25کروڑ ڈالر قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو رہے ہیں جس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ لیکن روپیہ ابھی مزید گرنے کا خدشہ ہے۔ اس سے ہونے والے خسارے کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی پر پڑے گا۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دیگر اشیائے خوراک اور بنیادی ضروریات بھی مہنگی ہوں گی۔ ملک میں مصنوعات کی تیاری کی لاگت میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ وہ مہنگی ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں کھپت کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ بیروزگاری کی حقیقی شرح 29% ہے جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف6% ہے۔ یہ ایک اشاریہ واضح کرتا ہے کہ حکمرانوں کی اس بلند شرح نمو سے عوام کی حالت معاش کا کیا تعلق ہے۔ حالیہ حکومت کے چار سالوں کے بعد اس کی معاشی ترقی کا فریب بے نقاب ہو چکا ہے جس کی وجہ میاں نواز شریف اپنی سبکدوشی کو قرار دے رہا ہے۔ دل میں تو میاں صاحب خوشی محسوس کر رہے ہوں گے کہ معاشی بحران میں اس شدت کی ٹائمنگ نواز شریف کی بر طرفی کے ساتھ ایسی جڑی ہے کہ وہ کچھ عرصہ تک معیشت کی بحالی کا کریڈیٹ خود لیتے رہیں گے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے عرصہ اقتدار کے دوران برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت نے سرکاری ذخائر سے 400ملین ڈالر کی گندم برآمد کر کے ایکسپورٹ میں اضافہ دکھانے کی کوشش کی ہے تا کہ آئی ایم ایف کو مطمئن کیا جا سکے یاد رہے کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں پاکستان کی نسبت کم ہیں لہذا اس ضمن میں 120ملین ڈالر کا ریبیٹ دیا گیا۔
اسی معاشی بحرانی صورتحال میں حکومت 2018-19کا بجٹ بنائے گی۔ اس وقت تجارتی اور کرنٹ خسارہ اپنی تاریخی انتہاہوں کو چھو رہا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر آئندہ چند ماہ کے درآمدی بل نہ ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ مفتا ح اسماعیل نے اعلان کیا ہے آئندہ بجٹ ٹیکنو کریٹ ہوگا جس میں ٹیکسوں کی وصولی کی مالیت 4کھرب روپے 4.5کھرب روپے کر دی جائے گی۔ ٹیکسوں کی جی ڈی پی کے تناسب سے وصولی کی شرح میں مزید 0.3%اضافہ کیا جائے گا جبکہ ہمارے جاری اور ترقیاتی اخراجات پورا کرنے کیلئے مزید قرضہ جات حاصل کرنے پڑیں گے۔ پاکستان میں معیشت اور حکومتی امور کو چلانے کیلئے بیرونی اداروں سے قرضہ لینے کا عمل آزادی کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔ سیاست پر جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے لیکن پاکستان میں حقیقی حکمرانی پر غیر ملکی سرمایہ کا قبضہ ہے۔ کوئی سیاستدان غیر ملکی سرمائے کے مقابلے کیلئے صنعتی مالیاتی اور تجارتی پالیسی نہیں بناتا ۔ اور نہ اس کی خواہش رکھتا ہے۔ اس لیے کشکول ٹوٹ نہیں سکتا۔ آج ہمارے ملک میں بیشتر سرمایہ صنعتی یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بجائے رئیل اسٹیٹ میں لگایا جا رہا ہے جس سے زمینیں اور تعمیرات انتہائی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ہم تعمیرات میں غیر ملکی مصنوعات کو استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی صنعتوں کے پید واری عمل کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ یہاں صلاحیتوں کی پرورش کا کوئی سامان موجود نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری حکومت انسانی وسائل کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری نہیں کرتی ۔
اکثریتی آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ زمینوں کی خاندانی تقسیم سے چھوٹے یونٹس پر کاشتکاری کرنا منافع بخش نہیں رہا ہے۔ دیہاتوں میں آمدنی کے کم ذرائع ہونے کی وجہ سے آبادی کا دباؤ شہروں کی طرف بڑھا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر روز گار، ہائش، صحت و تعلیم اور صفائی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے توانائی کی ضروریات پورا کرنے کیلئے قرضوں کے ذریعے مہنگے بجلی گھر تو لگا دیئے گئے ہیں مگر اضافی بجلی کے بوجھ کو موجودہ ٹرانسمیشن سسٹم اُٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت120ڈالر فی بیرل تھی جو اب 60-65ڈالر ہے مگر حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں فراہم کیا ہے۔ آج بجلی کی سپلائی کا نظام ناقص اور چوری کی وجہ سے لائن لاسز اور دیگر اخراجات بھی بلوں کی شکل میں عوام کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ صنعتوں کو بھی علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ مہنگی بجلی کھاد اور بیجوں کی قیمتوں کی وجہ سے صنعتی مصنوعات اور زرعی اجناس کی پیدا واری لاگت میں میں اضافہ ہوا ہے۔
دنیا میں ترقی ایکسپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مرہون منت ہے اور برآمدات کرنے والے ملک فائدہ میں ہیں۔ جبکہ ہماری حکومت قرضوں کے انبار لگانے کے باوجود بجٹ خسارہ پورا نہیں کر پا رہی ہے۔ غیر پید واری آخراجات میں اضافہ 1600ارب روپے، ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی 1500ارب روپے، گردشی قرضہ 900ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ نجی بینک اور ائیر لائنیں اربوں کا منافع کما رہی ہیں جبکہ قومی ائیر لائن اور سٹیل مل بربادی سے دو چار ہیں۔ جب ملک اس طرح چلایا جائے گا تو گھر خالی ہوگا۔ شاید یہ حکومت ہمیں قرضوں کے شکنجے میں جکڑ کر تمام مالیاتی مسائل آنے والی حکومت پر چھوڑ کر رخصت ہو جائے گی۔