پنسل اور ایک محاورے کی درستی

ارلی ٹو بیڈ اینڈ ارلی ٹو رائز۔۔۔ جیسے بے کار محارے اور جن میں دولت، صحت اور عقلمندی کی نوید بھی دی گئی ہو، کسی یورپین ہی کا بنایا ہوا ہو سکتا ہے۔ برطانوی ہوں یا دیگر  یورپین، بھلے ان کے مابین  آپس میں اختلافات ہوں۔  انہیں خود میں بہت کچھ مختلف لگتا ہو ہمیں تو  نہ صرف سب کے سب ایک جیسے دکھاتی دیتے ہیں بلکہ ایک جیسی ہی سوچ والے لگتے ہیں۔

بھلا صبح سویرے اٹھنے سے اتنا کچھ حاصل ہو سکتا تھا تو اس محاورے کے موجد اتنے سویرے اٹھنے کے بعد اتنی بھاگ ڈور کیوں کیا کرتے ہیں۔ اصل میں انہوں نے یہ بات ہم سے  پوشیدہ رکھی کہ سویرے اٹھنے کے بعد انتھک محنت ہی وہ وجہ ہے جس کےلیے ارلی ٹو بیڈ ایجاد کیا گیا ہے۔ ہم نے تو صرف محنت میں عظمت کو صبر کا پھل میٹھا جیسے محاوروں سے تبدیل کرلیا ہے۔  ہمارا اپنا عربی ریتلا کلچر کہتا ہے کہ دن چڑھتے
 تک سوتے رہو۔ رات کو دن اور دن کو رات مناؤ۔ عربی کلچر سے آپ یہ مت فرض کر لیجئیے کہ یہی اسلامی کلچر ہے۔ کیونکہ اس میں صبح کی نماز، سحری اور ایسی بہت ساری سحر خیزی کی باتیں ملیں گی آپ کو۔ 

صبح اٹھنے کے بارے میں پطرس بخاری نے کہیں لکھا تھا کہ اگر انسان کو صبح صبح اٹھنے کا اتنا  ہی شوق ہو تو وہ ریلوے میں گارڈ کی نوکری پکڑ لے۔ یقینی طور پر صبح اٹھنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ ورنہ اس کے لیے اتنے جتن نہ کیے گئے ہوتے۔ یورپین خاصے باعمل لوگ ہوتے ہیں۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ خالی خولی فوائد بیان کر نے اور محاورے ایجاد کر نے سے کام نہیں بن رہا۔ تو ان کو ہمیشہ ہی کی طرح دور کی سوجھی اور انہوں نے لوگوں کو علی الصبح بیدار کرنے کا سب سے انوکھا طریقہ نکالا۔ اور وہ یہ تھا کہ انہوں گھڑی کو   ہی ایک گھنٹہ آگے کر دیا۔ لو کر لو جو کرنا ہے۔ صبح چھ بجے سات بجا کر لوگوں کو سویرے سویرے کام پر بھیج دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ لوگوں کو بتایا یہ جارہا ہے کہ یہ یورپ کا موسم گرما کا تحفہ ہے۔ لمبی شام ہوتی ہے۔ گپیں ہانکنے کے مواقع ملتے ہیں اور  صبح سویرے اٹھنے کی اذیت کا کوئی ذکر ہی نہیں۔

یورپ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی گھڑی کی مقررہ سبک پائی  پرعقل کا تازیانہ برسا کر اسے ایک گھنٹے آگے چلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔  انسان اپنے اندر کی گھڑی اور کلائی پر بندھی گھڑی کے تضاد سے مخمصے کا شکار ہے۔  گھڑی آگے بڑھانے کی پاکستان میں بھی ماضی میں کوشش کی گئی تھی۔ مگر آگے بڑھنے پر وہاں لوگوں کو شدید اختلاف ہے۔ یہاں لوگ پیچھے ہٹنے کو ترقی اور اسلاف کی پیروی جانتے ہیں۔ حالانکہ ان کی نظروں سے یہ بات اوجھل ہے کہ ان کے اسلاف بھی اپنے دور میں وقت سے آگے نکل گئے تھے۔ مگر گھڑی کے موجد کی گھڑی رک گئی ہے اور وقت ٹھہر گیا ہے۔ ہم لوگ سعودی وقت سے اپنی گھڑیاں ملانے کو ہی ایمان کا حصہ جانتے ہیں۔ نہ جانے ٹرمپ نے شاہ سلمان کے کان میں کیا کہا کہ وہ اپنی گھڑی امریکہ سے ملا رہے ہیں۔   دیکھنا یہ ہے ہم اب کیا کرتے ہیں۔ امریکہ تو پہلے ہی ہمیں اپنی خراب گھڑی سے ہماری گھڑیوں کو گمراہ کرتا رہا ہے۔

گھڑی خراب ہوجاتی اور مرمت ہوجائے تو چلنے لگتی ہے۔ مگر پنسل کی نوک ٹوٹ جاتی ہے اور اس کی مرمت کی جائے تو اس کا قد کم ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں پنسل جو کہ سخت اور لمبی ہے اور اس کی نوک چبھتی بھی بہت ہے۔ ہمیشہ ہی سے ربر کی شہ پر غلطیوں پر غلطیاں کرتی رہتی ہے۔ عوام کی تقدیر کو پنسل لکھتی ہے اور ربر حرف غلط کی طرح مٹاتا رہتا ہے۔ پنسل تو مضبوط ہے مگر ربر گھس گھس کر ختم ہورہا ہے۔ اسے ایک بڑی غلط فہمی یہ رہی ہے کہ وہ پنسل کے سر پر بیٹھا ہے۔ مگر جب ربر پنسل کے غلط لکھے کو مٹا رہا ہوتا ہے تو وہ پنسل کے پاؤں تلے دبا رہتا ہے اور کاغذ پر سے لکھے کو مٹاتے وقت خود کو ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ 

 وہ سمجھتا ہے کہ گھڑی مٹا رہا۔ مگر وقت بدلتا ہے مٹتا کب ہے۔  کاغذ پر لکھا صرف نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ پنسل کے لکھے کا نشان شفاف و نرم دل کاغذ پر اوجھل ہو کر بھی گہرا اور انمٹ  ہی رہتا ہے۔ ربر گھس کر ختم ہوجائے گا۔ پنسل بھی ٹوٹ جائے گی۔ مگر کاغذ باقی رہے گا اور اس پر بہترین تحریر ضرور لکھی جائے گی۔