اٹھاوریں ترمیم کا مستقبل
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 29 / مارچ / 2018
- 4862
پاکستان کی سیاسی و جمہوری کہانی بڑی عجیب اور تضادات پر مبنی ہے ۔ ہر سول اور فوجی دور میں نئے نئے تجربات کے ساتھ نظام کی اصلاح کم اور بگاڑ زیادہ ہؤا ہے ۔ نئے قوانین یا پالیسیاں بنانے کے پیچھے اصل مقصد اپنے حکمرانی کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بنانا ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی پالیسی یا قانون سازی کی جاتی ہے تو اس میں سب سے اہم فریق لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہر پالیسی یا قانون سازی عام اور بالخصوص محروم طبقات کے مفادات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ اسی سے ساکھ بنتی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ہم نئے تجربات کرکے ایک مخصوص گروپ کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔
ہماری حکمرانی کے نظام کا دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو اس میں چار باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اول پاکستان کا سیاسی نظام عدم مرکزیت کے مقابلے میں مرکزیت کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔ اس سے مراد اختیارات کی منتقلی کے درمیان وفاق اور صوبوں میں عدم شفافیت ہے ۔ دوئم وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی وجہ سے وفاق اور صوبوں او ربالخصوص چھوٹے صوبوں کے درمیان محرومی کی بنیاد پر ناراضگی یا بداعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے ۔ سوئم وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے چھوٹے صوبوں، اضلاع میں ترقی اور خوشحالی کا عمل زیادہ موثر نہیں ہوتا اور اس میں تفریق اور تعصب کا پہلو پایا جاتا ہے ۔ چہارم ہماری فوقیت طبقات یا ایسے گروپ ہوتے ہیں جو طاقت ور طبقات کے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کا نقصان عام طور پر کمزور اور محروم طبقات کو بدحالی کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔
سابقہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملک میں تمام سیاسی فریقین کے اتفاق رائے سے 18ویں ترمیم کو منظور کیا گیا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان 18ویں ترمیم کے تناظر میں جو اعتماد سازی ہوئی یا اتفاق رائے سامنے آیا وہ سیاسی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس 18ویں ترمیم میں پہلی بار وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد سازی کو فوقیت دے کر آگے بڑھنے کی بات کی گئی ۔ اس سے قبل ملک کی سیاسی جماعتوں اور بالخصوص چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والی جماعتوں میں صوبائی خود مختاری کی بحث کو اہمیت حاصل تھی ۔ 18 ویں ترمیم نے صوبائی خود مختاری کی بحث کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا۔
خیال تھا کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جس طرح سے وفاق نے صوبوں کو سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات تفویض کیے ہیں ، یہ ہی عمل صوبوں میں بھی اضلاع کی سطح پر دیکھنے کو ملے گا۔ کیونکہ صوبائی خود مختاری بھی کسی بھی طور پر مقامی خود مختاری کے بغیر مکمل نہیں تھی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے 18ویں ترمیم تو منظور کرلی لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے جو مضبوط سیاسی کمٹمنٹ سیاسی نظام ، سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کے علاوہ معاشرے کے دیگر طبقات میں ہونی چاہیے تھی ، اس کا فقدان غالب نظر آیا۔ اس کی ایک مثال مقامی حکومتوں کا نظام ہے ۔ اس نظام میں صوبوں نے تمام تر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات خود اپنے پاس رکھ کر مقامی حکومتوں کے نظام کو کمزور ، لاچار اور بے بس بنا کر حکمرانی کے نظام میں زیادہ بگاڑ پیدا کیا ہے ۔ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد سب سیاسی جماعتوں کا موقف تھا کہ ایک سے دو برس میں اس نظام پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کے نظام کو موثر اور شفاف بنایا جائے گا۔ خود پیپلز پارٹی جس نے 18ترمیم کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا ، اس کا اپنا طرزعمل بھی عملدرآمد کے تناظر میں جمہوری نہ رہا ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم 18ویں ترمیم کو بنیاد بنا کر حکمرانی کے نظام کو زیادہ شفاف ، منصفانہ، جوابدہی پر مبنی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے جوڑتے۔ اگراس کو موثر بنانے میں کچھ اور ترامیم یا درستگی کی ضرورت تھی تو اس کو یقینی بنایا جاتا۔ لیکن لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کی عملی طور پر ترجیحات سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کی نہیں۔ ترمیم یا قانون کے باوجود ان کا طرز عمل مجموعی طور پر اختیارات کو چند لوگوں تک محدود کرنا ہے۔
پاکستان کے بعض حلقوں میں 18ویں ترمیم کی منظوری اور عملدرآمد پر تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں کچھ فریقین بالخصوص وہ عناصر جو اس ملک میں مرکزیت یا محدود طبقات تک اختیارات کو رکھنا چاہتے ہیں وہ اس کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اب یہ خبریں بھی سننے کو مل رہی تھی کہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ بھی 18ویں ترمیم پر تحفظات رکھتی ہے ۔ پچھلے دنوں فوجی سربراہ کی اہل دانش کی ایک میٹنگ میں بھی یہ تاثر ملا کہ وہ اس ترمیم پر اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی پیش کیا گیاکہ 18ویں ترمیم شیخ مجیب کے چھ نکات سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اسٹیبلیشمنٹ کی جانب سے 18ویں ترمیم کی مخالفت کو بعض لوگوں میں سخت ناپسند کیا گیا اور اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ شاید بااثر ادارہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا حامی نہیں یا وہ بھی عدم مرکزیت کے مقابلے میں مرکزیت کے نظام کے حامی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں آج کل جنرل باجوہ ڈاکٹرائن کا بڑا چرچا ہے ۔ آرمی چیف نے سینٹ سمیت ایک سے زیادہ جگہ پر یہ بات کھل کر کی کہ فوج آئین اور جمہوریت کی حامی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔ فوج نے اس تاثر کی نفی کی ہے وہ جان بوجھ کر اقتدار میں شامل ہونا چاہتی ہے ۔ فوجی سربراہ کے اس موقف کی بڑی پزیرائی بھی ہوئی ، اب فوج کے ترجمان کی جانب سے18ویں ترمیم پرکھل کر موقف دیا گیا کہ وہ 18ویں ترمیم کی مخالف نہیں اور اس کا جنرل باوجوہ ڈاکٹرائن سے کوئی تعلق نہیں۔ فوجی ترجمان کے بقول یہ تاثر دینا کہ فوج 18ویں ترمیم کی مخالف ہے ، درست نہیں۔ اچھی بات ہے کہ فوج نے کھل کر اس ترمیم پر اپنی وضاحت کرکے پیدا کی جانے والی بدگمانی کو ختم کیا ، جو قابل قدر ہے ۔
کچھ سیاسی پنڈت یہ دلیل دے رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چیرمین سینٹ کے انتخاب میں رضا ربانی کی حمایت نہ کرنے کی ایک وجہ 18ترمیم پر ان کا مضبوط موقف تھا ۔ کیونکہ اب تک 18ویں ترمیم میں بڑا کردار رضا ربانی کا بھی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ آپ چیرمین سینٹ کے لیے دوبارہ رضا ربانی کی حمایت کیوں نہیں کررہے تو انہوں نے اس کی ایک وجہ 18ویں ترمیم میں رضا ربانی کے کردار کا زکر کیا تھا کہ اس سے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچا ہے ۔ اگر کسی کو واقعی تعلیم اور صحت کے مسائل پر 18ویں ترمیم کے تناظر میں کچھ مسائل ہیں تو اس کا راستہ مشاورت کی بنیاد پر اسی ترمیم کے اندر سے نکالا جاسکتا ہے ۔ یہ کہنا کہ اب اس 18ویں ترمیم کو ختم کردیا جائے یا اس کے لیے 24 یا 25 ترمیم کا سہارا لیا جائے مناسب حکمت عملی نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں بہت سے لوگ 18ویں ترمیم کو سیاسی قیادت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک جنگ کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ حالانکہ مسئلہ مقابلہ بازی یا ایک دوسرے پر سیاسی سبقت کا نہیں بلکہ تما م فریقین کا ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا اور بہتر طور پر آگے بڑھنے کی حکمت عملی سے جڑا ہے ۔ 18 ویں ترمیم میں بہت سے ایسے کام ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہے اور اس کو مزید زیادہ طاقت دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سیاسی فریقین مل بیٹھ کر صوبائی اور مقامی خود مختاری کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناکر اس میں موجودہ خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرکے اس عمل کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے ۔
ہماری سیاسی قیادت سمیت سب فریقین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دنیا نے اپنی حکمرانی کے نظام کو موثر ، بامعنی اور شفاف بنانے کے لیے مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت کے نظام کو مستحکم کیا ہے ۔ خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جو چودہ نکات پیش کیے ان میں بھی صوبائی خود مختاری کو اہمیت دی گئی تھی ۔ حکمرانی کا نظام وہیں موثر ہوسکتا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ عوامی مفادات کے پیش نظر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جاتے ہیں ۔ اس لیے مسئلہ 18ویں ترمیم کے خاتمہ کا نہیں ہونا چاہیے ۔ اس پر ایک بڑے مکالمے کو آگے بڑھا کراس میں موجود مسائل کا بہتر حل تلاش کیا جانا چاہیے ۔ کیونکہ سیاسی نظام کی بقا اور عوامی مفادات کا تحفظ 18 ویں ترمیم سے ہی جڑا ہوا ہے ۔