بھگت سنگھ انقلابی جد و جہد کا علمبردار تھا

23مارچ 1940کی اہمیت منٹو پارک لاہور میں منعقدہ مسلم لیگ کے اجتماع اور وہاں پر منظور شدہ متفقہ قرار داد لاہور سے ہے جس میں نئی ریاست کے خدو حال بیان کیے گئے تھے۔ جس کو بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دینے کے علاوہ 23مارچ کو یوم پاکستان کا نام  دے دیا گیا۔  لیکن 23مارچ1931کی اہمیت اس حریت پسند انقلابی بھگت سنگھ کے حوالے سے بھی ہے جس کو برطانوی حکمرانوں نے ان کے ساتھیوں سکھ دیو تھاپر اور شیو رام گورو کے ساتھ پھانسی پر چڑھایا تھا۔  اور ان کی ارتھیوں کو دریائے راوی کے کنارے شمشان گھاٹ میں چپکے سے جلا دیا گیا۔ 

بھگت سنگھ آخر کون تھا اس کے نظریات کیا تھے۔ بھگت سنگھ نے ایسے خاندان نے جنم لیا جو کہ پہلے سے ہی انگریز سامراج کے ساتھ آزادی کی جنگ میں شریک تھا ۔ بھگت سنگھ کی عمر بارہ سال تھی جب 1912میں جلیانوالہ باغ امرتسر میں جنرل ڈائر کے حکم پر لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ اس واقعہ سے پورے پنجاب میں انگریزوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات بھگت سنگھ پر بھی مرتب ہوئے۔ بھگت سنگھ نے جب کالج میں داخلہ لیا تو اس وقت آل انڈیا کانگرس پر گاندھی کے نظریات غالب تھے۔ یہ تحریک خلافت  اورعدم تعاون تحریک  کا دور تھا ۔ اس زمانہ میں بھگت سنگھ نے گاندھی کے نظریات سے متاثر ہو کر کھدر کا لباس پہننا شروع کر دیا اور اس کے عدم تشدد پر مبنی نظریات کا حامی بن گیا۔ گاندھی کی عدم تشدد کی سیاست سے دلبرداشتہ ہو کر وہ اپنی خاندانی سیاست کی طرف لوٹ آیا۔ گاندھی نے جب ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے واقعے کے بعد عدم تعاون تحریک کو ختم کر دیا  تو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی بھارت سبھا کا حصہ بن گئے ۔ وہ گریجویشن کے زمانہ میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو گیا جو کہ تشدد کے استعمال پر یقین رکھنے والی سامراج مخالف انقلابی پارٹی تھی جس پر بنگال کے انقلابیوں کا اثر تھا ۔ اس پارٹی کا بعد میں نام ہندوستان ریپبلکن پارٹی رکھ دیا گیا ۔ بھگت سنگھ نے اس دوران پنجابی میں شائع ہونے والے اخبارات کیرتی اور ہندی اخبار ارجن میں اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ۔ اس کی سامراج دشمن تحریریں انگریز سرکار کو نہیں بھاتی تھیں۔ اسی دوران وہ ایک  بم دھماکے کے الزام میں  میں گرفتار ہوا اور پانچ ماہ کی جیل کاٹنے کے بعد ساٹھ روپے کے ضمانتی بانڈ کے عوض ضمانت ہوئی۔

بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی زندگی میں سب سے فیصلہ کن دن 17مارچ1928کو آیا جب سائمن کمیشن کے خلاف جلوس کی قیادت کرنے والے کانگریسی لیڈر لالہ جوت رائے جو کرشن نگر لاہور کے رہائشی تھے پولیس لاٹھی چارج سے زخمی ہو کر چل بسے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے موت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور حملے میں ایس ایس پی جے پی سندرس مارے گئے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھ یگرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور سے کلکتہ چلے گئے۔ ان دنوں ہندوستان کی سنٹرل اسمبلی میں پبلک سیفٹی اینڈ ٹریڈ ڈیسپورٹ بل پر بحث چل رہی تھی۔ بائیں بازو کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بل محنت کشوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ بھگت سنگھ اس بل کی منظوری کو روکنا چاہتا تھا ۔ 8اپریل 1928کو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے اسمبلی کی گیلری سے دستی بم اور پمفلٹ پھینکے، انقلاب زندہ باد اور سامراج مردہ باد کے نعرے لگائے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو بھم پھینکنے اور ایس ایس پی سنڈرس کے قتل کی سازش کے مقدمہ میں7اکتوبر1930کو سزائے موت سنا دی گئی۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے جرات اور بہادری کے ساتھ مقدمات کا سامنا کیا ۔ بھگت سنگھ کی تحریک سے کانگریس کے عدم تشدد کے نظریات اور مسلم لیگ کی اصلاح پسند سیاست کو دھچکا لگا ۔

بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے، آزادی کے ساتھ اشتراکی انقلاب کا مطالبہ  بھی کر رہے تھے۔ ان کا مین سٹریم سیاست میں اینٹی سامراج بیانیہ بہت مقبول ہوا جو کہ آل انڈیا کانگریس، مسلم لیگ جمعیت العلما اسلام ، مجلس حرار اسلام، یونیسٹ پارٹی کے علاوہ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔ گاندھی چاہتے تو بھگت سنگھ کی پھانسی کی سزا رکوا سکتے تھے مگر وہ اس کے انقلابی نظریات سے خائف تھے۔ پھانسی کے بعد اس کی یاد گار کو بھی تعمیر نہ ہونے دیا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد تاریخ میں بھگت سنگھ اور ساتھیوں کو انقلابی دہشت گرد کہا گیا اور بعد میں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ ان کی جدو جہد کے بارے میں تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا۔ پاکستان کی نصابی کتابوں میں بھگت سنگھ سمیت آزادی کے بیشتر غیر مسلم ہیروز کا تذکرہ کم ہی ملتا ہے۔ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے کے جس گھر میں بھگت سنگھ پیدا ہوئے اسے یاد گار کے طور پر محفوظ نہ رکھا گیا۔ نہ ہی شاد مان چوک جہاں سنٹرل جیل ہوتی تھی وہاں پر یاد گار تعمیر کرنے دی گئی۔

بھارت میں بھی کانگرس نے تاریخ میں انقلابیوں کی جدو جہد کو مسخ کیا۔ پاکستان میں تقسیم سے پہلے اور بعد کا سیاسی اور سماجی تاریخ کے سرکاری بیانیوں کا معاملہ اور بھی گھمبیر ہے۔ ہماری ریاست میں قوم پرستانہ سیاسی خیالات اور اشتراکی انقلابی رجحانات کو تاریخ اور مطالبہ پاکستان سے خارج کر دیا ہے۔  نصابی تاریخ کے مسخ کرنے کا آغاز ضیاء الحق عہد میں ہوا۔  دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، کالم نگاروں اور دانشوروں کو محکمہ تعلیم میں اعلیٰ عہدے دیے گئے اور آج بھی میڈیا میں ان کی اکثریت ہے جن کے بیانیے طالبان کے نظریاتی اپروچ سے ملتے جلتے ہیں۔ یاد رہے کے قائد اعظم بھگت سنگھ کے خلاف کریمنل کیس چلانے کے خلاف تھے۔ وہ اس کو سیاسی قیدی مانتے تھے۔ انہوں نے جیل میں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی بھوک ہڑتال کی حمایت کی۔ تاریخ کے بارے میں ریاستی بیانیہ کچھ ایسے ہی رہا ہے جس میں انقلابیوں اور بھگت سنگھ کے بارے میں مثبت انداز میں اظہار نہیں کیا گیا۔  1956میں آئین کی تشکیل کے بعد23مارچ کویوم جمہوریہ قرار دیا گیا ،1958میں مارشل لاء لگنے کے بعد یہ یوم پاکستان بن گیا۔ 

آج بھی چند بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے چند سر پھرے شادمان چوک میں 23مارچ کو جمع ہو کر بھگت سنگھ کے حوالے سے انقلابی نعرے لگاتے، شمع روشن کرتے اور تاریخ کے عوامی بیانیے کی وضاحت کرتے ہیں۔ مگر شاید اب ریاستی بیانیہ پر بھی مذہبی جماعتوں کا بیانیہ غالب آ چکا ہے جس کا اظہار دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے دانشور برملا طور پر ٹی وی ٹالک اور اپنے کالموں میں کرتے ہیں۔  ان میں حریت فکر کے کردار غائب دکھائی دیتے ہیں۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے انقلابی ستارے تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکے ہیں۔