معیشت : بچ کے جانے نہ پائے

  • تحریر
  • جمعہ 30 / مارچ / 2018
  • 3247

چند ہفتے قبل تک ہمارا یخیال تھا کہ اکونومی ایک پیچیدہ موضوع ہے، اس لئے اس کے خال خال جاننے والے ہی اس پر لکھتے اور بولتے ہیں لیکن ہماری یہ غلط فہمی اب دور ہو چکی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کیوں اور کیسے لیکن کوئی ہوا ایسی چلی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر پہلا شخص ماہرِ معیشت بن گیا ہے۔ اسکول کے زمانے کی پڑھی نظم یاد آئی کہ پل کی پل میں کیا ماجرا ہو گیا، کہ جنگل کا جنگل کا ہرا ہو گیا۔

حسن اتفاق ہے یا اس ہوا کی خاص سرسراہٹ، روایتی اور ‘جدید ‘ ماہر معیشت دانوں کا سارا زور ایک ہی نکتے پر ہے کہ ملک پر بیرونی اور اندرونی قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ جنہیں اپنے گھر کے ماہانہ اخراجات کا ٹھیک سے اندازہ نہیں، وہ بھی فر فر بتاتے نہیں تھکتے کہ اس حکومت نے صرف گزشتہ آٹھ مہینوں میں سات ارب ڈالر کا مزید قرض لے لیا اور یہ کہ حکومت کو مالی سال کے آخری چھ ماہ میں چھ ارب ڈالر ادائیگیاں کرنا ہیں۔  گزشتہ چند ہفتوں سے سیاست اور معیشت پر ایک آدھ استثناء کے سوا ہر اینکر اور تجزیہ کار ایک سی مہارت اور آسانی سے تبصرہ کر رہا ہے۔ ملک کی برآمدات نہ بڑھنے کو حکومت کے کھاتے میں یوں ڈالا جاتا ہے جیسے حکومت نے تجارت کے فروغ کے لئے وزارت قائم نہیں کی بلکہ برآمدات میں کمی کے لئے ٹارگٹ مقرر کر رکھا ہو۔ درآمدات میں اضافے کو بھی اسی بے دریغ انداز میں سراسر حکومت کی نالائقی شمار کرنا ہر ایک پر فرض سا ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تجارتی خسارہ بھی بحث کے لئے بڑے کام آ رہا ہے۔ جن کے پاس تجارت کے ان اعدادوشمار یاد کرنے کا وقت نہیں وہ البتہ صرف قرضوں میں اضافے کے ایک نکاتی ایمیونیشن سے ہی اپنا کام خیر و خوبی سے کام چلا لیتے ہیں۔

میڈیا کا مگر ایک مسئلہ ہے کہ اس پر نیوز سائکل بار بار دہرائے جانے کی وجہ سے بہت جلد لوگ ایک ہی موضوع سے اکتا جاتے ہیں۔ اس لئے کامیاب مبصر ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مار کر خبر کو نئی جہت میں کھپا دیتے ہیں۔ ایسے میں اللہ بھلا کرے بلوم برگ کا، اس کے پاکستان کے نمائندے نے ایک زوردار مضمون لکھ کر اس بحث کو نیا ایمیونیشن مہیا کیا ہے۔ اللہ دے اور بندہ لے، بحث میں بیزار کن یکسانیت کی جگہ جیسے بجلی سی دوڑ گئی۔ موصوف گھاگ صحافی ہیں اس لئے اسٹوری میں مصالحہ خوب تیز رکھا۔ جہاں الم غلم چاول جانے کس کس شہر کے نام پر بریانی کے طور پر جھٹ پٹ بک جائیں ، وہاں اس مصالحے دار اسٹوری کی آؤ بھگت یقینی تھی، سو یہ اسٹوری ہاتھوں ہاتھ بکی۔ بلوم برگ دنیا میں بزنس معلومات کے کے لئے ایک بہت بڑ ا میڈیا کاا ادارہ ہے۔ اس کے یہاں کے نمائندے کی صرف پچھلے تین ماہ کے دوران پاکستان کے بارے میں یہ چوتھی مایوس کن اسٹوری تھی۔ حالیہ اسٹوری کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان کو موجودہ مالی سال کے اختتام تک جن بڑی قرض ادائیگیوں کا سامنا ہے، ان کی ادائیگی کی بعد پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر فقط اڑھائی ارب ڈالر رہ جائیں گے ۔ بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے انہوں نے آئی ایم ایف کے ایک تقابلی چارٹ کا سہارا لیا ہے جو مختلف ملکوں کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی بیشی کو ریکارڈ کرتا ہے۔ دو ایک مالیاتی ریسرچ اور کیپیٹل فرمز کے ہونہار بروا کی ریسرچ کو بنیاد بنا کر یہ پیشین گوئی کر دی گئی کہ جون تک آج بارہ ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر صرف اڑھائی ارب ڈالر رہ جائیں گے۔

ان کی یہ اسٹوری بہت سے نوزائیدہ ماہرین معیشت کے لئے غیبی مدد ثابت ہوئی لیکن ہمیں ان پر جوش مبصرین کو پڑھ  اور سن کر یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ ملکی معیشت کے لشٹم پشٹم بدستور چلتے رہنے پر زیادہ نالاں ہیں یا انہیں معیشت کے بارے میں  ‘موت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہو گا ‘ جیسی اپنی پیشین گوئیوں کے پورا نہ ہونے کا غصہ زیادہ ہے۔ اس پر ہمیں ایک مزاح نگار کا لکھا مضمون اکثر یاد آتا ہے ۔ ایک بے اولاد جوڑے کو ملنے جلنے والے جب بھی ملتے، افسوس کرتے ہوئے اپنے مشورروں سے ضرور نوازتے۔ یہ علاج کروائیں، ڈاکٹر بدل کر دیکھیں، کہیں لیبارٹری کے رزلٹ ہی میں گڑ بڑ نہ ہو، کچھ دیسی دواؤں کے فیوض و برکات اور تیر بہدف ہونے کی گارنٹی دیتے نہ تھکتے اور کچھ روحانی علاج کے کرشمات پر قائل کرتے۔ مسلسل ایسے مشورے سن کر انہیں یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے سے ان لوگوں کو کہیں نہ کہیں سے کمیشن ملنے کی امید ہے۔ اس پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب وہ صرف اس لئے اولاد پیدا کرنے سے باز رہیں گے کہ کہیں ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے پر انہیں واقعی کمیشن نہ مل جائے۔ ہمارے ہاں بہت سے احباب کی بے قراری کچھ اس درجے کو پہنچ چکی ہے کہ معیشت کے ابھی تک اپنے پاؤں کھڑا رہنے پر انہیں ایک طرح کی ذاتی ہتک محسوس ہو رہی ہو۔

ہم انہی صفحات پر اکونومی کے ڈھانچے میں موجود خامیوں کی بار ہا نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ ہمیں حکومتِ وقت سے کوئی ہمدردی ہے نہ کچھ لینا دینا ۔ حکومت کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ہے بھی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جس انداز میں وزارت خزانہ کو چلایا، وہ ذمہ دارانہ نظامت کی قابلِ ستائش مثال نہیں۔ روپے ڈالر کی شرح قدر ہی کو لے لیں، 2013-4 میں کامیابی سے ڈالرائزیشن کے تباہ کن رجحان کی دندان شکنی کے بعد اس کی غیر حقیقی شرح مبادلہ کو ناک کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ اس نامناسب مانیٹری پالیسی کو نافذ کرنے کے لئے پہلی بار ایک نان بینکر کو اسٹیٹ بنک کا سربراہ بنا دیا گیا۔ آئی ایم ایف سے لے کر تمام ماہرین کی رائے کے بر خلاف روپے کی غیر حقیقی شرح کو بزور برقرار رکھا گیا۔ اس ماحول میں برآمدات مسابقت کھوتی گئیں اور درآمدات سستی اور آسان ہو کر قینچی چپل کی طرح پھیلتی گئیں۔ نتیجہ جلد یا بدیر یہی نکلنا تھا جو اب نکل رہا ہے۔ گرتی برآمدات کو سنبھالا دینے کے لئے چار سال تک اغماض برتا گیا۔۔۔ اور بھی کئی اقدامات پر شدید گرفت کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی معیشت کے ڈھانچے میں کئی ساختی Structural خامیاں اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں۔ کم ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ، ٹیکسٹائل، چاول اور چمڑے جیسی مصنوعات پر انحصار 1980 میں بھی تھا اور آج بھی کم و بیش وہی حالت ہے جبکہ دنیا جدید اور انتہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں اپنا مقام بنا چکی، الیکٹرونکس، انجئینرنگ، آٹو موبائل و ٹرانسپورٹ، کیمیکلز، آئی ٹی، شپنگ وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ہاں کی برآمدات میں کوئی تیر 1980 میں چلا نہ آج چل سکے گا۔ آئندہ جو بھی حکومت آئے گی ، اسی فرسودہ خامی کا سامنا کرے گی۔ ایک زرعی ملک ہونے باوجود دنیا کی برآمدات میں ہمارا حصہ نصف فی صد سے بھی کم ہے۔ ۔۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ مالیاتی اور تجارتی خسارے کا ڈھنڈورا پیٹنا بہت آسان اور اس کا حل اتنا ہی مشکل اور صبر آزما ہے، حیرت ہوتی ہے جب معیشت کے کئی سربرآوردہ نام بڑے زور شور سے ان خساروں کا ماتم کرتے ہیں جبکہ اپنے اپنے وقت میں حکومتی عہدوں پر وہ اسی بے عملی کا حصہ رہے جس کا وہ آج گلہ کر ہے ہیں۔ اس حمام میں سب ایک سے ہیں لیکن اب حکومت بدلنے کا موسم ہے، نگران یا ٹیکنوکریٹ حکومت کی قوس و قزح سیاسی افق پر چھائی دیکھ کر اب بہت سے احباب زیادہ سے زیادہ خوفناک منظر نامہ پیش کرکے اپنی موجودگی اور بھلے وقتوں کی آس میں اپنا کندھا پیش کرتے نہیں تھکتے۔

نیشنلزم کے نام پر اکثر آزاد ملکوں میں تکلیف دہ خبروں کو بھی سلیقے سے اور مہارت سے پیش کیا جاتا ہے تاکہ ملکی ساکھ کا آبگینہ نہ ٹوٹ جائے لیکن ایک ہم ہیں کہ سیاسی تعصب میں اس آبگینے کے ابھی تک قائم رہنے پر اکثر احباب دھاڑتے چنگھاڑتے نہیں تھکتے ۔ بلوم برگ کی تین ماہ میں چار منفی اسٹوریز کے پیچھے بھی تو کوئی مقصد براری ہو سکتی ہے اور ہم جوش میں اس کا مہرہ تو نہیں بن رہے۔ اور ہاں، جنہیں اس بات کا دکھ ہے کہ زرِ مبالہ کے ذخائر 2016-17 میں سولہ ارب ڈالرز سے گر کر مارچ 2018 میں بارہ ارب ڈالرز رہ گئے ہیں، ان کی یاد داشت کے لئے عرض ہے کہ یہ ذخائر 2012-3 میں چھ ارب ڈالرز تھے اور 2013-14 میں نو ارب ڈالرز تھے۔ اللہ اس معیشت کو قائم رکھے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی !