ایم ایم اے کا نیا کردار

پانچ مذہبی سیاسی جماعتی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے نئے عہدے داروں کا انتخاب عمل میں آگیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان صدر، لیاقت بلوچ جنرل سیکرٹری، اویس نورانی سیکرٹری اطلاعات اور ساجد نقوی اور پروفیسر ساجد میر سنئیر نائب صدور منتخب ہوگئے ہیں۔ اس اتحاد میں جے یو آئی(ف)، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)، جمعیت اہلحدیث پاکستان(ساجد میر گروپ) اور تحریک اسلامی (ساجد نقوی) شامل ہیں۔ متحدہ مجلس یا ایم ایم اے تو عملاً بحال ہوگیا ہے لیکن اس میں شمولیت اختیار کرنے والی جمعیت العلمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور تحریک اسلامی کے حالات ویسے نہیں جو 2002 میں اس اتحاد کے پہلی بار سامنے آنے کے وقت تھے ۔

جمعیت علمائے اسلام اس وقت تین دھڑوں میں تقسیم ہے ۔ دو دھڑے نظریاتی و سمیع الحق گروپ ایم ایم اے کا حصّہ نہیں بنے ۔ جمعیت علمائے پاکستان جو بریلوی مکتب فکر کی جماعت ہے اس کا نورانی گروپ مزید دھڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے ۔ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، صاحبزادہ حامد رضا اور سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے دھڑے بھی اس اتحاد کا حصّہ نہیں ہیں۔ تحریک اسلامی(تحریک جعفریہ) کی بڑی تعداد مجلس وحدت المسلمین میں چلی گئی ہے ۔ جمعیت العلمائے اسلام کے نظریاتی و سمیع الحق گروپ پاکستان تحریک انصاف کے قریب ہیں۔ اس اتحاد میں جے یو پی ابوالخیر زبیر گروپ، صاحبزادہ حامد رضا گروپ، نظام مصطفیٰ پارٹی (حامد سعید کاظمی) اور حنیف طیب گروپ بھی شامل نہیں ہیں جو جے یو پی نورانی کے ہی دھڑے ہیں۔ اس اتحاد سے تحریک لبیک یا رسول اللہ، سنّی تحریک پاکستان، سنّی اتحاد کونسل، پاکستان عوامی تحریک بھی دور ہیں جو سنّی بریلوی جماعتیں ہیں۔ شیعہ مذہبی جماعتوں میں تحریک اسلامی سے الگ ہوکر مجلس وحدت المسلمین بننے والی پارٹی بھی اس اتحاد کا حصّہ نہیں ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ اور سنّی بریلوی کا مذہبی ووٹ بینک بہت زیادہ تقسیم ہے۔ لیکن ایم ایم اے میں شامل جے یو پی اور تحریک اسلامی کے پاس کوئی ایسا ووٹ بینک نہیں جو آنے والے انتخابات میں کوئی بڑا فرق پیدا کر سکتا ہو۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی 2012 کے بعد کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے اس سارے عرصے میں مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد بنایا۔ وہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بننے والے مبینہ نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے فوجی آپریشنوں کی کھل کر مخالفت میں تو سامنے نہیں آئے لیکن انہوں نے مدارس میں اصلاحات اور جن مدارس پہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام ہے ان کے خلاف کارروائی کو ہر صورت روکنے کی کامیاب  کوشش کی ہے ۔

مولانا فضل الرحمان نے جہاں دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والی 26 جماعتوں کا ایک اتحاد بنوانے میں مدد دی، وہیں انہوں نے سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو استعمال کیا۔ عمران خان کے طویل دھرنے میں انہوں نے نواز شریف کا کھل کر ساتھ دیا جس کے عوض انہیں وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں سے بہت فائدہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان کی دیو بندی سیاست میں دوسری کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بتدریج ایسے اقدامات کیے ہیں جس سے خاص طور پہ پنجاب، اندرون سندھ، شہری سندھ ، ہزارہ ڈویژن اور جنوبی کے پی میں اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کی قیادت سے ان کے تعلقات میں بڑی بہتری آئی ہے ۔ اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ کراچی، جھنگ اور ہزارہ ڈویژن میں اپنے جو امیدوار سامنے لائے گی وہ یا جے یو آئی فضل الرحمنٰ گروپ کے امیدوار ہوں گے یا پھر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے اور جے یو آئی ایف ان کو سپورٹ کرے گی۔ اس کے بدلے میں یہ جماعت ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک وغیرہ میں جے یو آئی(ایف) کو سپورٹ کرے گی۔ جمعیت العلمائے اسلام (ف) اندرون سندھ میں پہلے ہی اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کا سیاسی چہرہ بن چکی ہے ۔

مولانا سمیع الحق کی پارٹی کے پاس اس وقت عملی طور پہ جے یو آئی ایف جتنی طاقت موجود نہیں ہے ۔ دیوبندی مذہبی ووٹ پہ مولانا فضل الرحمان، محمد احمد لدھیانوی اور اورنگ زیب فاروقی وغیرہ کی زیادہ گرفت نظر آتی ہے البتہ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی گروپ بلوچستان خاص طور پہ قلات ڈویژن میں جے یو آئی (ف) کے مقابلے میں دیوبندی مذہبی ووٹ پہ اثرانداز ہوگی۔ ایسے آثار بھی موجود ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ نواز اور عسکری اسٹیبلشمنٹ سے اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کو سیاست میں مین سٹریم کرنے کی حمایت حاصل کر لی ہے ۔ اسے باجوہ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے اس میں اہلسنت والجماعت /سپاہ صحابہ اور جماعت دعوۃ کو مین سٹریم کرنے کا ایجنڈا سرفہرست ہے ۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا فضل الرحمان اور پروفیسر ساجد میر کی مسلم لیگ نواز کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ بہت اچھی ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان نے سینٹ کے حالیہ الیکشن اور اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی کے انتخاب میں مسلم لیگ نواز کو ووٹ دے کر یہ تو واضح کر دیا تھا کہ ان کا جھکاؤ بھی مسلم لیگ نواز کی جانب ہے ۔ جے یو پی نورانی گروپ کی جماعت اسلامی کے ساتھ بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے ۔ نورانی گروپ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے منتشر ہوجانے سے پیدا شدہ صورت حال میں اپنے لیے کوئی امکان دیکھ رہی ہے ۔

جے یو آئی ایف، جماعت اسلامی اور جے یو پی (نورانی) 70 کی دہائی میں کراچی کی سیاست میں اپنا اثر رکھتی تھیں۔ انہیں کسی حد تک اس کی بحالی کی امید ہے ۔ اسی لیے اس اتحاد کا ایک فوکس کراچی بھی ہے ۔ متحدہ مجلس عمل پنجاب کی سیاست میں جھنگ کو چھوڑ کر جہاں پہ مولانا فضل الرحمان اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پہ مقابلے میں جیت کا امکان دیکھتے ہیں، مسلم لیگ نواز کی بالواسطہ سپورٹ کے خواہاں ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ شیخ وقاص گروپ کے پاس نواز لیگ کا بظاہر ٹکٹ بھی ہو۔ اس کے بدلے میں جے یو آئی(ف) اور اہلسنت والجماعت نواز شریف کو نہ صرف باقی پنجاب میں سپورٹ کریں گے بلکہ وہ پشاور وادی اور ہزارہ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ نواز کی حمایت کریں گی۔ بدلے میں مسلم لیگ نواز ایم ایم اے کو جنوبی خیبر پختون خوا، بلوچستان، کراچی میں سپورٹ فراہم کر سکتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے اسی لیے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز سے کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ جماعت اسلامی اور فضل الرحمان گروپ کا بنیادی ٹاسک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اتنی نشستیں حاصل کرنا ہوسکتا ہے جس کے بعد ان صوبوں میں کسی بڑی پارٹی کے لیے حکومت بنانا ممکن نہ ہو اور ایسے ہی قومی اسمبلی میں ان کی حاصل کردہ نشستیں معلق پارلیمنٹ کے اندر بھی فیصلہ کن حیثیت حاصل کرلیں۔ اگر پنجاب میں مسلم لیگ نواز کسی بڑے اپ سیٹ کا شکار نہ ہوئی تو ایم ایم اے، نیشنل پارٹی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اور کسی حد تک عوامی نیشنل پارٹی کی 2018 میں کے پی اور بلوچستان میں کار کردگی مسلم لیگ نواز کے مستقبل کا تعین کرسکتی ہے ۔ مسلم لیگ نواز نے پنجاب میں اپنے سامنے اٹھنے والے مذہبی چیلنج کے خلاف ابھی تک کافی کامیابی سے مزاحمت کی ہے ۔ پیر حمید الدین سیالوی کی شکل میں سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن سے ملنے والا چیلنج کاؤنٹر ہوچکا ہے ۔ سیالوی گروپ نواز لیگ کے ساتھ کھڑا ہے ۔ بریلوی مذہبی سیاست میں نواز شریف اور شہباز شریف نے جس طرح سے جامعہ نعیمیہ، بھیرہ شریف، سیال شریف، شرقپور شریف سمیت اہم سیاسی پیروں اور گدیوں کو اپنے کنٹرول میں کیا ہے اس سے بظاہر مسلم لیگ نواز کو اس محاذ پہ کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ اشتہاری قرار پاچکے اور ان کی سیاست بھی 2018 کے الیکشن میں چار سے پانچ سیٹوں سے زیادہ پہ اثر انداز ہوتی نظر نہیں آرہی۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ملک سے باہر ہیں اور ان کی پارٹی 2018 کے الیکشن سے دور ہی نظر آرہی ہے ۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا بھی پراسرار طور پہ خاموش ہیں جبکہ مجلس وحدت المسلمین کی ہمدردیاں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایم ایم اے کی سیاست کا زیادہ اثر جنوبی خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے روایتی حمایتی حلقوں پہ تو بہت زیادہ ہوگا۔ کراچی میں یہ اتحاد کیا قومی اسمبلی کی دو سے تین نشستوں پہ مقابلہ کرپائے گا۔  اس سوال کا جواب کسی کو معلوم نہیں۔ کیا پاکستان تحریک انصاف پنجاب سمیت پورے ملک میں ایم ایم اے کے مد مقابل کوئی دوسرا مذہبی اتحاد بنوانے اور اس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی سوچ رکھتی ہے ۔  کیا وہ ایسا کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے ۔  اس سوال کا جواب بھی ابھی آنا ہے ۔ مسلم لیگ نواز کی ایم ایم اے سے بھی قربت ہے اور دوسری طرف اسے پاکستان میں طاقتور لبرل، لیفٹ، سول سوسائٹی لابی کی حمایت بھی حاصل ہے جو کم از کم پنجاب کے شہری حلقوں میں جسے پنجابی اربن مڈل کلاس کہا جاتا ہے کی رائے نواز شریف کے حق میں کرنے میں پہلے ہی مصروف ہے ۔ ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کام اور بھی مشکل نظر آرہا ہے ۔

ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کا کراچی اور اندرون سندھ کی چند نشستوں پہ پیپلز پارٹی سے دو بدو مقابلہ ہوگا۔ پنجاب میں ایم ایم اے اور ایم ایم اے میں نہ شامل ہونے والی مذہبی جماعتوں کے ووٹر کا بھی پیپلز پارٹی کی جانب رجحان نہیں ہے ۔ ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کیا ہوگی۔  یہ سوال بھی کروڑ کا ہے ۔ زمینی حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خاص طور پر پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ نواز کا راستہ روکنے کے لیے باہمی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا آپشن اختیار کرنا پڑے گا، جس کی جانب سید خورشید شاہ اور نبیل گبول نے اشارہ کیا ہے۔ ورنہ غالب امکان یہ ہے کہ نواز لیگ آسانی سے الیکشن جیت جائے گی۔