تلخ بول کا ’کالا جادو‘

فیض آباد دھرنے پہ خفیہ ادارے کی رپورٹ کو سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس سے بہتر رپورٹ تو کوئی صحافی بھی دے سکتا ہے ۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کی قیادت کے خلاف مختلف مقدمات میں مختلف عدالتوں سے نوٹس جاری ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف تحریک لبیک انتخابات کے نزدیک آتے ہی نئے مطالبات اور نئے ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے ۔ اب کے بار مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب چیئرز اور دیگر انسٹی ٹیوٹ کو ختم کیا جائے ۔

اس ایشو کو لے کر ایک بار پھر سے زبان تیز کی جا رہی ہیں تاکہ ‘فصاحت و بلاغت’ کے دریا بہائے جا سکیں۔ فیض آباد دھرنا جس مکتب فکر کی طرف سے دیا گیا تھا اس کی امن پسندی بقائے باہمی اور صلح جوئی کو دشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا لیکن اس دھرنے کے بعد وہ حلقے جو اس بیانیے پر یقین رکھتے تھے اب اپنی فکر کا تنقیدی جائزہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دھرنے میں جو لوگ شرکت کے لیے آئے تھے وہ عام شہری تھے لیکن ان شہریوں نے کس طرح ریاست کو جھکنے پر مجبور کردیا اور اپنی ہم مذہب پولیس کو مار مار کر بھگا دیا یہ بات غور طلب ہے ۔ دھرنے میں شامل شہریوں کو تشدد کی طرف مائل کرنے میں دھرنے کے رہنماؤں کی تقاریر، زبان اور الفاظ نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ تقاریر میں استعمال ہونے والے القابات اور گالیوں پر توجہ دی جانی بہت ضروری ہے اور ان کا تجزیہ انتہائی اہم ہے ۔ ‘علما حضرات’ کی طرف سے جو الفاظ استعمال کیے گئے ، جو گالیاں دی گئیں ان کا مقصد مخالفین کو انسانیت کے درجے سے گرانا یا کمتر ثابت کرنا تھا۔ مخالفین کو ان جانوروں سے تشبیہ دی گئی جو کہ تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی طور پر برے ، نجس اور انسان کے لیے خطرہ تسلیم کئے جاتے ہیں۔

مخالفین کو جو گالیاں دی گئیں ان میں خنزیر اور کتے کے القابات عام تھے ۔ یہ دونوں جانور ہمارے ہاں ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے قابل نفرت اور کراہت انگیز ہیں اور ان سے تشبیہ دے کر مخالفین کو غیر انسانی درجے پہ گرایا جاتا ہے ۔ جب ایک بار آپ اپنے مخالف کو غیر انسانی درجے تک لے آتے ہیں ( اور ساتھ ہی توہین کے الزامات بھی شامل کر دیئے جائیں) تو اس کے بعد اسے جبر و استبداد کا نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے ۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چین، مصر اور میسو پوٹیمیا کے قدیم ادب میں مخالفین کو غیر انسانی القابات سے نواز جاتا تھا جس کا مقصد اپنے نظریاتی حامیوں کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر انسانی اور اخلاقی ضابطے لاگو نہیں ہوتے، اس لیے ان کے ساتھ انسانی اور اخلاقی سطح پر کسی قسم کا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔ نازی جرمنی میں یہودیوں کے خلاف جو مہم چلائی گئی اس میں انہیں چوہوں، جانوروں اور گندی نالی کے کیڑوں جیسے القابات سے نوازا گیا۔ اس دور میں بنائی جانے والی ڈاکومنٹری فلم ‘اٹرنل جیوز’ یہودیوں کو غیر انسانی مخلوق ثابت کرتی تھی جو کہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور کسی قسم کے انسانی سلوک کے روادار نہیں ہیں۔ روانڈا میں نسل کشی کی جو تاریخ رقم کی گئی اس میں زبان نے بنیادی کردار ادا کیا۔ غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ریڈیو سٹیشنوں سے تتسی قبیلے کے لیے کاکروچ کے الفاظ استعمال کیے گئے ۔ ہوتو قبیلے کے لوگوں نے نسل کشی کرتے ہوئے تتسی شیر خوار بچوں کو لاشوں کے نیچے سے نکال کر ان کے سروں کو پتھروں سے کچلا۔

یہ واقعات پرانے نہیں بلکہ 1994 کے ہیں۔ اس لڑائی میں 10لاکھ لوگ مارے گئے ۔ پچاس کی دہائی میں پنجاب میں احمدیوں کے خلاف جو فسادات پھوٹے تھے ان کی تحقیقات پر بننے والے جسٹس منیر کمیشن کی رپورٹ میں احمدیوں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان پر بار بار کافی بحث کی گئی ہے ۔ کمیشن تقاریر کے بہت سے اقتباسات یہ کہہ کر نقل نہیں کر سکا کہ اس طرح کی گری ہوئی فحش زبان کو رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اس طرح کی زبان کے استعمال سے مخالف کا غیر انسانی سراپا بنا دیا جاتا ہے پھر لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر اس طرح کی مخلوق کو گزند یا نقصان پہنچایاجائے تو اس کی ذمہ داری جبر و استبداد کرنے والوں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ایسا کرنے سے وہ ان اعلیٰ انسانی مقاصد کو حاصل کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے نظریہ کے مطابق وضع کئے گئے ہوتے ہیں۔ فیض آباد دھرنے میں ہونے والی تقاریر کا جائزہ  لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ وہاں الفاظ کا چناؤ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔  تقاریر میں دی جائے والی گالیوں نے دھرنے میں شامل لوگوں کی سوچ میں حکومت اور انتظامیہ کوغیر انسانی درجے پر فائز کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہاں پر موجود ریاست کی رٹ نافذ کرنے والے پولیس والوں کے ساتھ جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔

پاکستان کی سیاست، سیاسی جلسے جلوسوں اور میڈیا پر جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کے برے اثرات معاشرے پر آہستہ آہستہ مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اپنے نظریے کی حقانیت پر یقین رکھنا اور اسے درشت زبان میں پروپیگیٹ کرنا ‘ہم اور وہ ’ کی تقسیم اور غیر انسانی القابات پر اگر الیکشن سے پہلے کوئی روک نہیں لگائی جاتی اور کوئی ضابطہ مرتب نہیں کیا جاتا تو تشدد میں اضافہ کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ تحریک لبیک پہ خاص طور سے کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے طرف سے استعمال کی جانے والی زبان معاشرے میں موجود کسی حلقے کے لیے نقصان اور بربادی کا سبب بن سکتی ہے ۔ ویسے بھی یہ جماعت ایک ایسے ایشو سیاست پر کر رہی ہے جس پر اس سے پہلے منیر کمشن رپورٹ کے مطابق مجلس احرار اپنی سیاست کی بنیاد کھڑی کر رہی تھی۔ تفصیل کمیشن کی رپورٹ میں موجود ہے ۔

اس وقت کی سیاسی جماعتیں اس آڑ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہ رہی تھیں جبکہ کچھ اخبارات بھی اپنے مفادات کے لیے اشتعال انگیزی کا باعث بن رہے تھے ۔ انہوں نے وہی کردار ادا کیا تھا جو اس وقت کچھ ٹی وی چینلز ادا کر رہے ہیں۔ دونوں بار زبان کا استعمال فسادات کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش تھا۔