اسرائیلی جارحیت امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ

مسلم حکمرانوں کی خاموشی کے سبب دنیا بھر میں آج مسلمان مظالم کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا نام نہاد پلیٹ فارم ہمیشہ مغربی مفادات کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اسرائیل گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور پوری دنیا میں اس کا ٹارگٹ صرف مسلمان ہیں۔ دنیا میں لگائی گئی آگ کے پیچھے بھی نام نہاد انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ ہی ہے۔ اسرائیل عالم انسانیت کیلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔

گزشتہ روزپھر’’یوم الارض‘‘ مارچ کے 30ہزار سے زائد فلسطینی شرکاء پر بمباری اور فائرنگ کی گئی جس میں خواتین ، بچے اور نوجوان میں سے20کے قریب شہر ی شہید اور1500سے زائد زخمی ہوگئے۔ فلسطینی قوم مارچ کے آخری ہفتے بالخصوص 30 مارچ کو ’ قومی یوم الارض‘ مناتی ہے۔ فلسطینیوں نے اس دن کے منانے کا سلسلہ 42 سال پیشتر 1976 میں شروع کیا۔ یہ دن منانے کا مقصد فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے دفاع اور اس ارض وطن کے ساتھ اپنی وابستگی کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔ یہ دن نہ صرف اندرون فلسطین منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے میں پھیلے فلسطینی اس دن کو پورے قومی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس روز فلسطینی  اپنے حق خود ارادیت کے حصول اور حق واپسی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور دنیا کو یاد دلاتے ہیں وہ ’قوم بے زمین‘ نہیں بلکہ ایک ایسی قوم ہیں جس کا اپنا صدیوں پرانا وطن ہے۔

یوم الارض‘ دراصل فلسطین کے اس 27 ہزار نو مربع کلو میٹر کے علاقے کی واگزاری کا مطالبہ ہے جس پر صہیونی ریاست نے  ناجائز تسلط قائم کیا۔ فلسطینیوں نے یہ دن اس وقت منانے کا فیصلہ کیا جب سنہ 1970 کے عشرے میں اسرائیل نے شمالی فلسطین کے شہروں میں نام نہاد ترقیاتی پروگراموں کی آڑ میں فلسطینی زمین بڑے پیمانے پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ صہیونی حکومت نے’الجلیل ڈویلپمنٹ‘ نامی پروجیکٹ لانچ کیا جو ترقیاتی پروگراموں کی آڑ میں دراصل الجلیل شہر کو یہودیانے کی ایک مذموم سازش تھی۔ فلسطینیوں صہیونی ریاست کے اس غاصبانہ پروگرام کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک چلائی۔ الجلیل، النقب، اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے منظم ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 فلسطینیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی اور سیکڑوں کو حراست میں لے لیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ یہ 30 مارچ 1976 کا دن تھا۔ فلسطینی سپریم فالو اپ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 1976کے صہیونی غاصبانہ پلان کے بعد فلسطینیوں کے متعدد علاقے غصب کئے جا چکے ہیں۔  قیام اسرائیل سے قبل فلسطین کو زرعی ملک قرار دیا جاتا تھا اور فلسطینیوں کی اکثریت زراعت پیشہ ہونے کے باعث نہ صرف خود بھی خوش حال تھی بلکہ فلسطین میں اگایا جانے والا اناج دوسرے ملکوں کو بھی بھیجا جاتا تھا۔ اس وقت 75 فی صد فلسطینیوں کا ذریعہ معاش صرف زراعت تھی۔  1948 میں ارض فلسطین  اسرائیل  کے قیام کے دوران فلسطینی آبادی کی بھاری تعداد کو زبردستی شہروں سے نکال باہر کیا گیا۔ ان کی املاک، گھروں اور زمینوں پر بیرون ملک سے لائے گئے یہودی آباد کیے گئے۔ 

فلسطین بحر متوسط کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں شام اور اردن، شمال میں لبنان اور بلاد شام کا کچھ علاقہ جنوب میں مصر اور خلیج عقبہ واقع ہیں اور اس کا کل رقبہ 27009 مربع کلو میٹر ہے۔ رقبہ کم ہونے کے باوجود ارض فلسطین کی تکوین کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں ہرحصہ اپنی سطح زمین، نباتات اور موسموں کے اعتبار سے دوسرے سے منفرد ہے۔ فلسطین کا کچھ علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ پہاڑی علاقے ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ ہیں۔ ان میں مرج ابن عامر پہاڑی سلسلہ زیادہ مشہور جو کل فلسطین کے پہاڑی علاقوں کا 17 فی صد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 50 فی صد رقبے پرجزیرہ نما النقب واقع ہے جو پہاڑی سلسلے کے ساتھ مل کر فلسطین کے کل رقبے کا 28 فی صد بنتا ہے۔ وادی اردن فلسطین کا کل 5 فی صد علاقہ ہے۔ 1939 میں برطانوی استبداد کے دور میں فلسطین کو چھ گورنریوں میں تقسیم کیا گیا۔ الجلیل لبنان کی سرحد سے متصل فلسطین کے اقصائے شمال میں واقع پہلی گورنری تھی۔ اس کا مرکز الناصرہ شہر تھا۔ اس کے پانچ اہم ذیلی علاقے عکام بیسان، صفد اور طبریہ تھے۔

حیفا گورنری کا مرکزی شہر حیفا ہی تھا۔ اس کا کل رقبہ 1.031.755 دونم یعنی فلسطین کے کل رقبے کا محض 3.8 فی صد اور آبادی 2 لاکھ 42 ہزار 630 تھی۔ نابلس گورنری کا مرکزی شہر بھی نابلس ہی تھا مگر اس میں جنین اور طولکرم شہر بھی شامل تھے۔ اس کا رقبہ 3.262.292 دونم تھا جوکہ فلسطین کے کل رقبے کا 12.1 فی صد تھا، اس علاقے کی آبادی 2 لاکھ 32 ہزار 220 نفوس پر مشتمل تھی۔ القدس گورنری فلسطین کے وسط میں واقع تھی اس کا مرکزی شہر مقبوضہ بیت المقدس تھا۔ اس میں القدس، بیت المقدس، اریحا، الخلیل اور رام اللہ شامل تھے۔ اس گورنری کا کل رقبہ 4.333.534 دونم تھا جو کہ فلسطین کے کل رقبے کا 16 فی صد اور آبادی 3 لاکھ 84 ہزار 880 نفوس پرمشتمل تھی۔ اللد گورنری کا مرکزی شہر یافا تھا، اس کے علاوہ الرملہ کا علاقہ بھی اسی کا حصہ تھا۔ یہ علاقہ بیشتر پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا کل رقبہ 1.205.558 دونم جو کہ فلسطین کے کل رقبے کا 4.5 فی صد اور 1948 میں آبادی 501070 نفوس پر مشتمل تھی۔ غزہ گورنری جنوبی فلسطین کا حصہ تھی جس میں ساحلی پہاڑی علاقے، جزیرہ نما النقب،بئر سبع، اور بعض دوسرے فلسطینی علاقے شامل تھے۔ اس کا کل رقبہ 13.688.501 دونم تھا یعنی فلسطین کے مجموعی رقبے کا 50.7 فی صد اور اس کی آبادی 190880 تھی جس کا فی کلو میٹر تناسب 14 افراد پر مشتمل تھا۔ مذکورہ تقسیم کے اعتبار سے صہیونی ریاست اس وقت تاریخی فلسطینی سرزمین کے 85 فی صد علاقے پر قابض ہے اور فلسطینیوں کے پاس اصل زمین کا کل 15 فی صد رقبہ بچا ہے۔

اسرائیل فلسطین کو مزید تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ  فلسطینی آبادی کو ہر علاقے میں  اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔  فلسطینیوں یہودی ریاست کی طرف سے کئی دوسرے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صیہونیت نواز پالیسی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کوفلسطین پر اپنے توسیع پسندانہ تسلط کو وسعت دینے کا جواز مل گیا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارا اور بیت المقدس اس وقت اسرائیل  کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور وہ  کسی نہ کسی طرح ان تاریخی فلسطینی علاقوں کو فلسطینیوں سے چھیننا چاہتا ہے۔ دوسری جانب غزہ کی پٹی کا محاصرہ مزید سخت کیا جا رہا ہے جس کے باعث لاکھوں فلسطینی’یوم الارض‘ کے موقع پرسڑکوں پر نکل آئے تھے۔